فسطائیت میں سڑکیں بنتی ہیں، قومیں نہیں :سہیل آفریدی
امیر و غریب کیلئے الگ الگ نظام کے خاتمے کی جدوجہد کا آغاز کر دیا پختونخوامیں 100فیصد آبادی کو مفت علاج کی سہولت دی جا رہی ہے
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ظلم اور فسطائیت کے نظام میں صرف سڑکیں بنتی ہیں، قومیں نہیں ، قومیں اس وقت بنتی ہیں جب امیر اور غریب کیلئے ایک ہی قانون اور عدل و انصاف کا نظام ہو ،امیر و غریب کیلئے الگ الگ نظام کے خاتمے کی جدوجہد کا آغاز کر دیا ، عمران خان کے ساتھ شروع کی گئی جدوجہد آج بھی پوری قوت کے ساتھ جاری ہے ، ہم سب مل کر پاکستان کو اقبالؒ اور قائد اعظمؒ کے خوابوں کے مطابق حقیقی معنوں میں مضبوط ریاست بنائیں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کی دو روزہ صحت آگہی کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ پختونخوانے کہا کہ خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں 100 فیصد آبادی کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے ،پنجاب میں عمران خان کے شروع کردہ مفت علاج پروگرام کو ختم کر دیا گیا، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں نیوٹریشن کے شعبے کیلئے وسائل میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا، صحت اور تعلیم براہ راست عوامی فلاح سے جڑے شعبے ہیں، ان پر ترجیحی بنیادوں پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے ۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ نظام کو اکیلے نہیں بدلا جا سکتا، سب کو مل کر ذمہ داری ادا کرنا ہو گی، ہر فرد کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلانا ضروری ہے ، ذمہ داری سے انحراف بھی کرپشن کے زمرے میں آتا ہے ،صوبائی حکومت گورننس اور سروس ڈیلیوری کے نظام کو مؤثر اور شفاف بنا رہی ہے ۔وزیراعلیٰ پختونخوا نے کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد جس جرات اور استقامت سے مقابلہ کر رہی ہیں وہ قابل تحسین ہے ، ڈاکٹر یاسمین راشد اپنے حصے کی جنگ لڑ چکیں، اب وہ ہمارے حصے کی جنگ لڑ رہی ہیں ۔
دریں اثنا پشاور میں خیبرپختونخوا حکومت کی سرکاری رہائش گاہوں اور سرکاری گاڑیوں پر غیر متعلقہ افراد کے قابض ہونے کے انکشاف پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے فوری اور سخت اقدامات کی ہدایت جاری کر دی۔وزیراعلیٰ کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق ریٹائرڈ ہونے والے یا خیبرپختونخوا سے تبادلہ پانے والے سرکاری ملازمین سے سرکاری رہائش گاہیں فوری خالی کرائی جائیں اور سرکاری گاڑیاں واپس لی جائیں، مراسلے میں تمام محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایک سے ز ائد سرکاری رہائش گاہیں حاصل کرنے والے ملازمین کے کیسز کا بھی جائزہ لیں۔