میوہسپتال میں ادویات اور ڈاکٹرز کی شدید کمی،روزانہ آنیوالے ہزاروں مریض خوار
اوپی ڈی میں تقریباً 80 فیصد ادویات دستیاب نہیں ، شوگر کے مریضوں کیلئے انسولین کا فقدان،لفٹیں بھی خراب ضروری ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے :شہری، سالانہ بجٹ 5ارب،صرف ڈیڑھ ارب ملے :پرفیسر ہارون
لاہور (بلال چودھری )پنجاب کے سب سے بڑے سرکاری میو ہسپتال میں مریضوں کو درپیش مشکلات کم نہ ہو سکیں، ادویات، لفٹوں،سی ٹی سکین مشین اور ڈاکٹرز کی شدید کمی کے باعث روزانہ آنے والے ہزاروں مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا ہے ۔ذرائع کے مطابق میو ہسپتال کی اوپی ڈی میں آنے والے مریضوں کو پرچی پر درج تقریباً 80 فیصد ادویات دستیاب نہیں جبکہ شوگر کے مریضوں کیلئے انسولین مکمل طور پر نایاب ہو چکی ۔ ایمرجنسی میں شوگر سٹک، پٹیاں، قبض کا سیرپ، اینجیسڈ گولیاں اور لوپرین سمیت متعدد اہم جان بچانے والی ادویات بھی دستیاب نہیں ۔کینسر کے مریضوں کو جاکاوی سمیت دیگر مہنگی اور ضروری ادویات نہ ملنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے باعث علاج کا تسلسل متاثر ہو رہا ہے ۔ دوسری جانب میوہسپتال کی ایمرجنسی میں نصب لفٹ خراب ہے جبکہ گھڑی وارڈ کی تین لفٹیں بھی بند پڑی ہیں، جس سے مریضوں اور تیمارداروں کو شدید دشواری کا سامنا ہے ۔
میو ہسپتال کی 2 سی ٹی سکین مشینوں میں سے ایک مشین خراب ہونے کے باعث مریضوں کو طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ہسپتال میں500سے زائد ڈاکٹرز کی اسامیاں خالی ہیں جبکہ اینستھیزیا اور میکسیلوفیشیل کے پروفیسرز کی سیٹیں بھی تاحال پُر نہیں کی جا سکیں۔متاثرہ مریضوں کا کہنا ہے کہ وہ غریب لوگ ہیں اور باہر سے ادویات خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے ، حکومت کو سرکاری ہسپتالوں میں تمام ضروری ادویات کی فراہمی یقینی بنانا چاہئے ۔اس حوالے سے ایم ایس میو ہسپتال ڈاکٹر عبدالمدبر ریحان کا کہنا ہے کہ اوپی ڈی کیلئے ادویات کے آرڈر جاری کر دئیے گئے ہیں ،سی ٹی سکین مشین مرمت کے باعث عارضی طور پر بند ہے ،ایمرجنسی میں 90 فیصد ادویات موجود ہیں۔سی ای او میو ہسپتال پروفیسر ہارون حامدکے مطابق ہسپتال کا ادویات کاسالانہ بجٹ 5 ارب روپے ہے لیکن صرف ڈیڑھ ارب روپے فراہم کئے گئے ، جس سے مشکلات کا سامنا ہے ،ادویات اور مشینری کو ہنگامی بنیادوں پر بہتر بنایا جا رہا ہے ۔