"SSC" (space) message & send to 7575

عرفان بھائی: اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے… (9)

27جون 1996ء کو ہفت روزہ تکبیر میں شائع ہونے والے ریٹائرڈ جسٹس رفیق تارڑ کے انٹرویو نے عدلیہ کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی تھی۔ یہ عرفان بھائی کے صحافتی کیریئر کا ایک اہم واقعہ تھا۔ اس انٹرویو میں عرفان بھائی کے سوالات کے جوابات میں رفیق تارڑ صاحب نے لگی لپٹی رکھے بغیر عدلیہ کے اہم عہدیداروں کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ یہ انٹرویو بعد میں رفیق تارڑ صاحب کے صدارتی امیدوار ہونے کے راستے میں ایک رکاوٹ بنا۔ اس انٹرویو میں آخر ایسا کیا تھا‘ اس کیلئے ضروری ہے کہ انٹرویو کے کچھ اقتباسات یہاں پیش کیے جائیں۔
ایک سوال کے جواب میں رفیق تارڑ نے کہا ''اگر انتظامیہ یا جس کسی کو بھی ججوں کی تقرری کا اختیار حاصل ہے‘ جان بوجھ کر ایسے لوگوں کو جج مقرر کرتا ہے جو دیانت اور امانت سے عاری ہوں‘ جو لیاقت اور قابلیت کے حساب سے کورے ہوں‘ جو اس عہدے پر تقرری کی شرائط پوری نہ کرتے ہوں‘ جن کا مرتبہ و مقام عوام کی نظروں میں بھی پست ہو اور جو کسی سیاسی جماعت سے اندھی عقیدت و وابستگی کی شہرت رکھتے ہوں تو پھر کہاں کی عدالت اور کہاں کا انصاف۔ آپ خود ہی اندازہ کریں کہ اگر نظامِ عدل پر ایسے افراد مسلط ہو جائیں جو عدالتی منصب کو محض ایک زینہ خیال کرتے ہوئے حکومتی حلقوں میں اثر و رسوخ بڑھانے اور اپنے وفاداری کا یقین دلانے میں لگے رہیں‘ بلااستحقاق اعلیٰ پوزیشن حاصل کرنے کیلئے لائن میں کھڑے ہوں‘ ضمیروں کا جمعہ بازار لگا کر عدالتی ضابطہ اخلاق کے برعکس حکمرانوں کے اشارۂ ابرو کو عدالتی فیصلہ بنانے کیلئے تیار رہتے ہوں تو پھر انصاف کا حصول مشکل ہو جاتا ہے‘‘۔
یاد رہے کہ اُس وقت کی عدلیہ کے چند حاضر سروس جج بشمول اُس وقت کے چیف جسٹس ان کے بالواسطہ مخاطب تھے۔ اب عرفان بھائی نے رفیق تارڑ صاحب سے براہِ راست یہ سوال کیا کہ موجودہ دورِ حکومت میں عدلیہ میں کی گئی تقرریوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ جس پر تارڑ صاحب نے جواب دیا کہ ''موجودہ حکومت کے دور میں عدالتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا اور جس طرح اعلیٰ عدالتوں کے اندر تقرریاں کی گئیں اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ 10سال کی فعال پریکٹس کے بعد کوئی وکیل ہائی کورٹ کا جج بنتا ہے لیکن اس شرط کو سرے سے نظر انداز کر دیا گیا۔ بحیثیت وکیل جن لوگوں کی شہرت اچھی نہ تھی انہیں ججوں کی کرسیوں پر بٹھا دیا گیا۔ ان لوگوں کی وجہ سے نہ صرف عدلیہ کا وقار مجروح ہوا بلکہ اس طرح کے فیصلے بھی ہوئے جن سے عوام کا اعتماد متزلزل ہوا اور لوگ یہ سوچنے لگے کہ حکومت اپنے کسی بھی سیاسی مخالف کو عدالتوں کے ذریعے اپنی مرضی کی سزا دلوا سکتی ہے۔ اس صورتحال کو ایک قومی المیہ ہی کہا جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود یہ لوگ عدلیہ میںموجود ہیں اور مقدمات کے فیصلے بھی سنا رہے ہیں حالانکہ صحیح قانونی پوزیشن کے مطابق ان کے فیصلوں کوئی حیثیت نہیں‘‘۔
عرفان بھائی نے پھر سوال کیا کہ جناب جسٹس کیا سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سنیارٹی کے اصول کو بالادستی حاصل نہیں ہو گئی؟ جس پر تارڑ صاحب نے جواب دیا کہ ''جی ہاں سنیارٹی کے اصول کو ایک طرح کا تحفظ حاصل ہو گیا ہے‘ اس اصول کو عام طور پر کم ہی چھیڑا گیا ہے لیکن پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے جسٹس سجاد علی شاہ کو چوتھے نمبر سے اٹھا کر سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کر دیا۔ ایسی اہم تقرریوں کے فیصلوں میں تو سنیارٹی کے اصول کو اہمیت دیتے اور اسے یقینی بنانے پر زور دیتے ہیں مگر جب ان کی اپنی ذات کا مسئلہ آتا ہے تو وہ اس اصول کو پس پشت ڈال دیتے ہیں‘ اور ان سے کوئی جواب بن نہیں پاتا۔ جناب جسٹس سعد سعود جان کی کارکردگی نہ صرف باعث فخر بلکہ ملکی عدلیہ کیلئے نمایاں ناز رہی ہے‘ وہ ایک عظیم جج کی روشن مثال ہیں۔ جسٹس نسیم حسن شاہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں مستقل چیف جسٹس بنانے کے بجائے قائم مقام چیف جسٹس لگا دیا گیا۔ ایک مرحلے پر انہیں یہ کہا گیا کہ مستقل چیف جسٹس کا حلف اٹھانے کی تیاری کریں‘ ہمیں بھی اطلاع ہو گئی‘ ہم جہاز کے ٹکٹوں کا بندوبست کر رہے تھے کہ پتا چلا پروگرام رہ گیا ہے۔ پھر اگلے دن جسٹس سجاد علی شاہ نے حلف اٹھا لیا۔ وہ اپنے تقرری کے پہلے دن سے لے کر اب تک جسٹس سعد سعود جان کا وقت لے رہے ہیں۔ جسٹس سعد سعود جان اسی ماہ کی 30تاریخ کو ریٹائر ہو جائیں گے۔ اس کے بعد وہ جسٹس اجمل میاں کا وقت لینا شروع کر دیں گے جو 16فروری 1998ء تک چلے گا۔ یہ سراسر ناانصافی ہے‘‘۔
یہ انٹرویو شائع ہوتے ہی ٹاک آف دی ٹاؤن بن گیا۔ لیکن معاملہ یہاں پر ختم نہیں ہوا‘ ابھی اس انٹرویو نے کئی اور رنگ دکھانے تھے۔ اس کا تذکرہ ذرا آگے ہو گا‘ پہلے یہ ذکر ضروری ہے کہ اُسی سال یعنی پانچ جون 1996ء کو بینظیر بھٹو کی حکومت کو اس وقت کے صدر فاروق لغاری نے برطرف کر دیا۔ نئے الیکشن کے نتیجے میں میاں نواز شریف فروری 1997ء میں وزیراعظم بن گئے۔ صدر فاروق لغاری اور میاں نواز شریف کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ تھے تاآنکہ صدر لغاری کو دو دسمبر 1997ء کو مجبوراً استعفیٰ دینا پڑا۔ صدارت کی کرسی کیلئے مسلم لیگ(ن) نے جسٹس رفیق تارڑ کو نامزد کیا لیکن اس وقت سب حیران رہ گئے جب 18 دسمبر 1997ء کو قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس مختار احمد جونیجو نے یہ کہتے ہوئے رفیق تارڑ کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیے کہ وہ اس منصب کیلئے موزوں نہیں۔ اس فیصلے کی بنیاد وہی انٹرویو تھا جو انہوں نے ہفت روزہ تکبیر کیلئے عرفان بھائی کو دیا تھا۔ اس دوران ایک تبدیلی یہ آئی کہ جسٹس جونیجو کی جگہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج عبدالقادر چودھری کو مستقل چیف الیکشن کمشنر مقرر کر دیا گیا‘ جس کے بعدرفیق تارڑ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔ عدالت کے بڑے بینچ نے حکمِ امتناع جاری کیا جس کے نتیجے میں انہیں صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت مل گئی۔ بالآخر 31دسمبر 1997ء کو وہ ریکارڈ اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ یوں تکبیر کیلئے رفیق تارڑ صاحب کا انٹرویو ان کی ناہلی کا سبب بنتے بنتے رہ گیا۔ عرفان بھائی کہا کرتے تھے کہ رفیق تارڑ صاحب نااہلی سے بچنے کیلئے یہ کہہ سکتے تھے کہ انٹرویو نگار نے ان کے خیالات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا لیکن انہوں نے انٹرویو کی تردید نہیں کی اور آخر دم تک انٹرویو کے مندرجات پر قائم رہے۔ یہ انٹرویو مستقبل میں عرفان بھائی اور رفیق تارڑ صاحب کے درمیان ایک اہم پیشہ ورانہ رفاقت کا پیش خیمہ بننے جارہا تھا۔ ایک بار پھر وقت کی لہر غیر محسوس طریقے سے عرفان بھائی کا ہاتھ پکڑ کر دھیرے دھیرے ایک اور منطقے کی طرف لے جا رہی تھی۔
نوٹ: عرفان بھائی کے یوں اچانک بچھڑ جانے پر میں نے لکھنے کا ارادہ کیا تو سوچا تھا ایک دو کالم میں ان کا ذکر مکمل ہو جائے گا لیکن جب لکھنے کا آغاز کیا تو یادوں کا دبستان کھلتا چلا گیا۔ ایک طویل عرصے پر پھیلی ہوئی یادوں کو سمیٹنے کیلئے ایک عرصہ چاہیے لیکن اخبار کا دامن اتنی طویل تحریر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یوں میں اس ذکرکو یہیں موقوف کرتا ہوں۔ یہ اس سلسلے کی آخری قسط ہے لیکن یادوں کا یہ سفر جاری ہے۔ یہ کہانی کب مکمل ہوتی ہے‘ اس کیلئے کسی اور منظر‘ کسی اور ساحل کا انتظار کرتے ہیں۔ (ختم)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں