"SSC" (space) message & send to 7575

نصاب اور استاد تبدیلی کے منتظر ہیں

پاکستان کے تعلیمی نظام میں معیاری تبدیلی کیسے لائی جائے؟ تعلیمی حلقوں میں ہمیشہ کی طرح آج کل بھی یہی موضوع زیر بحث ہے۔ اس سلسلے میں سیمینار اور کانفرنسز میں مختلف تجاویز زیرِ غور آتی ہیں۔ تعلیمی معیار میں بہتری کی بحث میں نصاب میں تبدیلی کو شرطِ اوّل قرار دیا جاتا ہے۔ مختلف سطح پر پڑھائے جانے والے نصابوں پر سب سے کڑی تنقید یہ کی جاتی ہے کہ یہ فرسودہ‘ موجودہ زمانے کے تقاضوں سے غیرمتعلق اور ایک خاص وقت میں جامد ہو کر رہ گئے ہیں۔ یہ تنقید عام لوگوں کی طرف سے نہیں بلکہ اساتذہ‘ محققین اور پالیسی ساز افراد کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس سے پیشتر کہ ہم نصاب پر ہونے والی اس تنقید کی حقیقت اور صحت پر بات کریں‘ بہتر ہو گا کہ تعلیمی نصاب کی اصطلاح کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
نصاب کا انگریزی میں مترادف Curriculum ہے‘ جس کے لغوی معنی گھڑ دوڑ کا متعین کردہ راستہ (Race course) ہے کیونکہ ریس کورس کی طرح نصاب تعلیمی ادارے میں تعلیمی سرگرمیوں کے سکوپ کا تعین کرتا ہے۔ یوں نصاب موضوعات اور سرگرمیوں کا مجموعہ ہوتا ہے جسے متعین کردہ وقت میں مکمل کرنا ہوتا ہے۔ ریس کورس کا استعارہ وقت کے ساتھ ساتھ Straitjacket کے استعارے میں بدل گیا ہے۔ اساتذہ اس کی گرفت تو محسوس کرتے ہیں لیکن ان کی اکثریت اس سے واقف نہیں ہوتی اور یہ دستاویز کسی الماری یا شیلف میں پڑی رہ جاتی ہے۔ اساتذہ کا براہِ راست رابطہ تدریسی کتب سے پڑتا ہے۔ یوں نصاب سے ان کی مراد درسی کتب ہوتی ہیں۔ اکثر اساتذہ یہ شکایت کرتے پائے جاتے ہیں کہ نصاب ان پر تھوپا جاتا ہے‘ لہٰذا انہیں من و عن اس پر عمل کرنا ہوتا ہے‘ یوں وہ ذہنی طور پر اس خیال کے اسیر ہو جاتے ہیں کہ وہ نصاب کے غلام ہیں‘ یوں وہ کلاس روم میں اپنے طور پر کچھ نئی چیزیں کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ نصاب کا یہ فرسودہ تصور ہے‘ جس میں نصاب محض ایک جامد دستاویز کے روپ میں سامنے آتا ہے۔ یوں ایک پیچیدہ عمل کو غیرمعمولی طور پر ایک سادہ تصور کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ نصاب کا یہ گمراہ کن تصور ہر نئی حکومت میں نیا تعلیمی نصاب بنانے کی خواہش بیدار کرتا ہے۔ یوں انتہائی عجلت میں کچھ لوگوں کو اکٹھا کرکے نصاب کی ایک نئی دستاویز تیار کی جاتی ہے لیکن اس ساری مشق میں نصاب پر عملدرآمد کے حصے کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے‘ یوں اساتذہ کو تربیت کے عمل سے گزارے بغیر ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ نئے وضع کردہ نصاب کے مقاصد حاصل کریں۔
نصاب کے حرکی (Dynamic) پہلو کو سامنے لانے کیلئے ہمیں نصاب کی ازسرِنو تعریف کرنا پڑے گی۔ کینیڈین ماہرین تعلیم Connelly and Clandinin کے مطابق تعلیمی نصاب کے مختلف اجزائے ترکیبی ہیں: جن میں اساتذہ‘ طلبہ‘ درسی مواد‘ سکول کا ماحول اور امتحانی نظام شامل ہیں۔ نصاب دراصل ان اجزا کے آپس میں تعامل کا نام ہے۔ نصاب کا جدید تصور جامد نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک تصور ہے جو ہر روز جنم لیتا ہے۔ یہ تصور اپنے اندر نصاب کے واضح اور مخفی پہلوؤں کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ نصاب کے اس جدید تصور کے مطابق استاد کا کیمپس پر ہر فعل اور عمل نصاب بن جاتا ہے‘ یوں استاد مجبورِ محض نہیں بلکہ نصاب کا مرکزی کردار ہے۔ اس تصور کی وضاحت کیلئے ہمیں Hidden Curriculum کی اصطلاح کو سمجھنا ہو گا۔ بہت سی چیزیں‘ رویے یا اقدار نصاب کی دستاویز کا حصہ نہیں ہوتیں لیکن غیرمحسوس طریقے سے طلبہ کے ذہنوں میں منتقل ہو جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر نصاب میں اگر استاد وقت کی پابندی کے بارے میں لیکچر دیتا ہے‘ اس کے فوائد بتاتا ہے لیکن وہ خود کلاس میں دیر سے آتا ہے تو طلبہ کے ذہن میں استاد کا عمل زیادہ اہم ہو گا۔ یوں استاد کا عمل نصاب میں تحریر شدہ مقاصد سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔
اب ہم نصاب کے اس پہلو پر نظر ڈالتے ہیں جس کے بارے میں اکثر اساتذہ اپنے مجبورِ محض ہونے کی شکایت کرتے ہیں۔ نصاب کے جدید تصور میں استاد کا کردار مرکزی ہے۔ اس کا ہر فعل اور عمل نصاب بن جاتا ہے۔ ایک اچھا استاد دیے گئے نصاب کو وسعت بھی دے سکتا ہے اور عام زندگی اور طلبہ کی ذاتی زندگیوں سے مثالیں دے کر تعلیمی عمل کو مؤثر بھی بنا سکتا ہے۔ یوں استاد ایک Catalyst کی طرح طلبہ‘ درسی مواد‘ ا متحانی نظام اور سکول کے ماحول میں تعامل کو بامعنی بنا سکتا ہے۔
اگر ہم تعلیم میں نصاب کے ذریعے تبدیلی لانے کے متمنی ہیں تو ہمیں نصاب کے پرانے تصور سے چھٹکارا پانا ہو گا جس میں نصاب ایک سرد اور پُر اسرار دستاویز کے طور پر کسی الماری یا شیلف میں پڑا رہتا ہے۔ نصاب کا جدید تصور ایک زندہ اور حرکی تصور ہے جس میں طلبہ‘ اساتذہ‘ درسی مواد‘ امتحانی نظام اور سکول کا ماحول اہم کردار ادا کرتے ہیں اور جس میں استاد مجبورِ محض نہیں بلکہ تعلیمی نظام میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر حکومت نئے نصاب کی دستاویز بنانے میں دلچسپی رکھتی ہے تو اساتذہ کی تربیت کے بغیر یہ ایک کاغذی کارروائی ہو گی کیونکہ نصاب سازی سے زیادہ نصاب کا نفاذ اہم ہے اور وہ تربیت یافتہ اساتذہ کے بغیر ناممکن ہے۔ آئیے اب ہم نصاب کو ایک مختلف حوالے سے دیکھتے ہیں: نصاب کے بنانے اور اس کے نفاذ تک بہت سے درجے ہیں۔ پہلا درجہ نصاب کی تیاری ہے‘ اس میں پالیسی ساز افراد کا عمل دخل ہوتا ہے۔ اس کا دوسرا درجہ نصاب کی دستاویزات کی روشنی میں درسی کتاب کی تیاری ہے۔ تیسرے درجے میں اساتذہ کا ان درسی کتب کا فہم ہے۔ چوتھا درجہ اساتذہ کی تدریس ہے اور پانچواں درجہ امتحانی عمل ہے۔ یوں مجوزہ نصاب میں کلاس روم اور پھر امتحانی نظام تک پہنچتے پہنچتے کئی تبدیلیاں آ جاتی ہیں۔ اس طرح مجوزہ نصاب کے درجوں میں استاد اپنا اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ استاد‘ طلبہ‘ درسی مواد اور سکول کے ماحول میں ایک مرکزی مقام رکھتا ہے اور ایک Catalyst کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
یوں تو پاکستان میں تربیتِ اساتذہ کے بہت سے ادارے ہیں لیکن ان کا نصاب برسوں پرانا ہے۔ اب اساتذہ کو کچھ مخصوص طریقہ کار سکھا کر یہ تصور کر لیا جاتا ہے کہ تربیت کا کام مکمل ہو گیا۔ سرکاری سطح پر تربیتِ اساتذہ کے پروگراموں میں محض گنتی پر زور دیا جاتا ہے۔ ہر پروجیکٹ کے بعد یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اس پروجیکٹ کے نتیجے میں سینکڑوں اور ہزاروں اساتذہ کو تربیت دے دی گئی لیکن یہ محض اعداد کی شعبدہ بازی ہے۔ اگر ہمیں تربیتِ اساتذہ کے پروگراموں کو مؤثر بنانا ہے تو ان کو نئی بنیادوں پر استوار کرنا ہو گا۔ تربیتِ اساتذہ کے پروگراموں میں ایسے اساتذہ کی تین سطح پر تبدیلی کو یقینی بنانا ہو گا۔ مضمون کے حوالے سے معلومات‘ طریقۂ تدریس اور رویے کی تبدیلی۔ جب تک اساتذہ کے ذہنوں اور رویوں میں تبدیلی نہیں آتی انہیں محض کچھ تدریسی سرگرمیوں سے آشنا کرنے سے کلاس روم میں تبدیلی کا تصور نا ممکن ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام صوبائی دارالحکومتوں میں تربیتِ اساتذہ کے 'سٹیٹ آف دی آرٹ‘ ادارے کھولے جائیں جہاں اساتذہ کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے روشناس کرایا جائے‘ انہیں مؤثر مائیکرو ٹیچنگ کے عمل سے گزارا جائے‘ تنقیدی سوچ کی مہارت پیدا کی جائے‘ انہیں Reflective Practice سے آشنا کیا جائے۔ آنے والی صدی میں Critical Thinking Reflection اور ٹیکنالوجی کا استعمال چند اہم مہارتیں ہیں۔ جدید تربیت سے لیس یہ اساتذہ جب کلاس رومز میں جائیں گے تو وہ Reflective پریکٹس کے طور پر اپنا کام کریں گے اور انہی اساتذہ کے کلاس رومز میں وہ طلبہ تیار ہوں گے جو Reflection اور تخلیق کا امتزاج ہوں گے۔ یہی وہ طلبہ ہیں جو جدید نصاب کا حاصل ہوں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں