کہتے ہیں زندگی ایک سفر ہے جس میں ہمیں لوگ ملتے ہیں اور بچھڑ جاتے ہیں لیکن ان میں سے کچھ لوگ ہماری زندگی میں غیرمحسوس طریقے سے شریک ہو جاتے ہیں۔ پروفیسر جو (Joe) کی شخصیت بھی ایسی ہی تھی‘ سحر انگیز اور ناقابلِ فراموش۔ اُن دنوں میں یونیورسٹی آف ٹورنٹو سے پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ وہ پروفیسر جو کی Curriculumکی کلاس کا پہلا دن تھا۔ پروفیسر جو کلاس روم میں داخل ہوئے‘ انہوں نے ہاف سلیوز شرٹ اور نیکر پہنی ہوئی تھی‘ ایک ہاتھ میں کتاب اور دوسرے ہاتھ میں کافی کا پیپر کپ تھا‘ جس کے اوپر ایک Muffin رکھا تھا۔ یہ میرے لیے ایک استاد کا نامانوس تصور تھا۔ پروفیسر جو نے غیرروایتی انداز میں کلاس کا آغاز کیا‘ کلاس کے آخر میں ہمیں کتابوں کی ایک فہرست دی اوربتایا کہ ہماری مرکزی کتاب 'Becoming Critical‘ہو گی۔ یہ میرے لیے اچنبھے کی بات تھی۔ میرا خیال تھا کہ کریکولم کی کتاب کے عنوان میں Curriculumکا نام تو ہونا چاہیے۔ آج اتنے عرصے بعد سوچتا ہوں کہ اگر پروفیسر جو ہمیں اس کتاب سے متعارف نہ کراتے تو میں تعلیم کے تنقیدی پہلو سے بے خبر رہتا۔
پروفیسر جو کے ساتھ میں نے Fundamentals of Curriculum کا کورس لیا تھا۔ اس کلاس میں تعلیم اور سماجی ناہمواریوں پر دھواں دار گفتگو ہوتی۔ اب پروفیسر جو کی کلاس کا خیال آتا ہے تو سوچتا ہوں کہ ایک استاد کیسے طالبعلموں کے ذہنوں کے بند دریچوں کو کھولتا اور کیسے ان کی سوچ کو اُجالتا ہے۔ پروفیسرجو نے پہلے دن ہی ہمیں کتابوں کی جو طویل فہرست دی تھی ان میں مرکزی کتاب Becoming Criticalتھی جوWilfred Carr اور Stephen Kemmis کی لکھی ہوئی ہے۔ ایک کتاب اطالوی مفکر گرامچی کی Prison Notebooks تھی۔ اس کتاب میں گرامچی نے پہلی بار تسلط کے تصور پر بحث کی اور بتایا کہ کس طرح بالادستی حاصل کرنے کیلئے پولیٹکل سوسائٹی اور سول سوسائٹی سے کام لیا جاتا ہے۔ گرامچی کے مطابق سول سوسائٹی کی اپروچ اس لیے زیادہ مؤثر ہے کہ اس میں ذہنوں کو شکار کیا جاتا ہے اور مغلوب و مفتوح گروہ اپنی مرضی سے اس تسخیر کو قبول کرتا ہے۔ گرامچی اسے Spontaneous consentکا نام دیتا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے نے میرے لیے باقی کتابوں کو سمجھنا آسان بنا دیا۔ پروفیسر جو کی فہرست میں ایک کتاب پالو فریرے کی Pedagogy of the Oppressed تھی۔پالو فریرے برازیل کا رہنے والا تھا‘اس نے تعلیم کو محض ایک تھیوری کے بجائے ایک عملی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ کتاب کا انگریزی ترجمہ 1970ء میں سامنے آیا۔ یوں اس کتاب کو شائع ہوئے نصف صدی کا عرصہ ہو چکا مگر آج بھی یہ کتاب استاد‘ شاگرد اور معاشرے کے ربط کو سمجھنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ کتاب معاشرے کو حکمرانوں اور محکوم طبقوں میں تقسیم کرتی ہے۔ معاشرے کے زور آور طبقے کمزور طبقوں کے راستے میں استحصال‘ ناانصافی اور جبر کی دیواریں کھڑی کرتے ہیں اور تعلیم کے مراکز یعنی سکول بھی ان ناانصافیوں کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ پالو فریرے سکولوں کی روایتی تعلیم کو Banking model of education قرار دیتا ہے۔اس ماڈل میں طلبہ کو خالی برتن سمجھ کر ان کے ذہنوں میں ایک خاص طبقے کا علم بھر دیا جاتا ہے۔ تعلیم کے اس ماڈل میں طالبعلم دیے گئے علمی مواد کو بغیر سوچے سمجھے امتحانی پرچوں میں لکھ آتے اور کامیاب بھی ہو جاتے ہیں‘ لیکن ان پر سوچ اور تفکر کے دریچے بند ہو جاتے ہیں۔ پالو فریرے کے نزدیک تعلیم کا محور طالب علموں میں تنقیدی شعور پیدا کرنا ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب تعلیم یکطرفہ نہ ہو بلکہ طلبہ کو برابر مواقع دیے جائیں تاکہ وہ باہمی مکالمے میں شریک ہو سکیں اور اپنی گم گشتہ پہچان اور آزادی کو حاصل کر سکیں۔ یہ کتاب پڑھنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ تعلیم‘ طاقت اور سیاست کا آپس میں کتنا گہرا تعلق ہے اور تعلیم کا مقصد محض علم کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنا نہیں بلکہ طلبہ میں وہ تنقیدی شعور پیدا کرنا ہے‘ جس سے وہ خود کو پہچان سکیں اور معاشرے میں ان آزادیوں کو پا سکیں جن سے انہیں محروم کر دیا گیا ہے۔ پروفیسر جو کی فہرست میں ایک کتاب Deschooling Societyتھی جس کا مصنف Ivan Illich تھا۔ یہ کتاب 1971ء کے لگ بھگ شائع ہوئی اور فوراً تعلیمی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گئی۔ کتاب اس طرزِ تعلیم پر کڑی تنقید تھی جس میں طلبہ کے ذہنوں کی تشکیل ایک بنے بنائے سانچے میں کی جاتی ہے اور معاشرے میں انفرادی سوچ رکھنے والے افراد کے بجائے یکساں طرز پر سوچنے والے روبوٹس تیار ہوتے ہیں۔ اس کتاب میں غیررسمی تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے‘ جس کا کوئی مخصوص وقت نہیں اور جس کا حصول ساری زندگی پر محیط ہے۔
پروفیسر جو کی فہرست میں ایک کتاب Henry Giroux کی Theory and Resistance in Education تھی۔ اس کتاب میں مختلف ثقافتی دائروں میں طریقۂ تدریس‘ علم‘ مزاحمت اور طاقت کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ مصنف کے بقول موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کی انفرادی آزادی کی جگہ مارکیٹ کی منطق نے لے لی ہے۔ فہرست میں پیٹر میکلیرن کی کتاب Life in Schoolsبھی شامل تھی‘ جس میں پیٹر تعلیم کے نیولبرل ماڈل پر سخت تنقید کرتا ہے جس کا واحد مقصد زیادہ سے زیادہ منافع کا حصول ہے۔اس ماڈل میں تعلیم کے نجی سیکٹر کو مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے اور اس میں ریاست مداخلت نہیں کرتی۔ اس ماڈل میں اساتذہ کو طلبہ کی تعداد کے حوالے سے بڑی کلاسیں پڑھانا پڑتی ہیں‘ تدریس کے فرسودہ طریقوں کو بروئے کار لانا پڑتا ہے‘ مینجمنٹ اساتذہ کی صلاحیتوں پر اعتبار نہیں کرتی اور ٹاپ ڈاؤن مینجمنٹ میں اساتذہ محض کٹھ پتلیاں بن کر رہ جاتے ہیں۔ پیٹر میکلیرن کے مطابق اس صورتحال میں اساتذہ کو جبر کے اس نظام کی مزاحمت کرنی چاہیے اور یہ اسی صورت ممکن ہے کہ وہ اپنی تدریس کو محض علم اور مہارتوں کی منتقلی تک محدود نہ رکھیں‘ بلکہ طلبہ میں سوچ بچار اور تنقیدی سوچ اجاگر کریں۔ فہرست میں ایک کتاب مائیکل ایپل کی Ideology and Curriculumتھی۔ مائیکل ایپل نے سکولوں کے حوالے سے چند بنیادی سوالات اٹھائے‘ مثلاً کیسے تعلیم معاشرے کے مختلف گروہوں سے امتیازی سلوک کرتی ہے‘ کیسے سکول نہ صرف لوگوں بلکہ معنی کو بھی کنٹرول کرتے ہیں‘ کیسے سکول Legitimate نالج کو تقسیم کرتے ہیں‘ کیسے زور آوروں کے گروہ کا علم ایک معیاری علم کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ یہ پروفیسر جو کی کریکولم کی کلاس میں دی گئی کتابوں کی طویل فہرست میں سے صرف چند کتابوں کا تذکرہ ہے۔ پروفیسر جو سے ملنے سے پہلے میں اکثر سوچتا تھا کہ کیسے ایک استاد غیرمحسوس طریقے سے اپنے شاگردوں کی شخصیت سازی میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے‘ کیسے انہیں کتابوں کے سحر میں مبتلا کر کے مطالعے کا عادی بنا سکتا ہے‘ کیسے ان کے ذہن کے دریچے کھول کر افق پار کے منظر دکھا سکتا ہے‘ کیسے اپنے شاگردوں کو باور کروا سکتا ہے کہ تعلیم محض علم‘ مہارتوں اور اقدار کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنے کا نام نہیں‘ بلکہ یہ تو طلبہ کی انفرادی زندگیوں اور پھر معاشرے میں تبدیلی کا نام ہے۔ پروفیسر جو کی کلاس میں مجھے ان سب سوالات کے جوابات مل گئے۔ اب اس بات کو تقریباً تین دہائیاں گزر چکی ہیں لیکن اب بھی کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ میں پروفیسر جو کی کلاس میں بیٹھا ہوں‘ ابھی دروازہ کھلے گا اور وہ مسکراتے ہوئے کلاس میں داخل ہوں گے۔ ایک ہاتھ میں کتاب ہو گی اور دوسرے ہاتھ میں کافی کا کپ۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ زندگی کے سفر میں کچھ لوگ ہمیں خوش رنگ منظروں کی طرح ملتے ہیں اور اوجھل ہو جاتے ہیں‘ لیکن ان کا تصور ہمیں تادیر شاداب رکھتا ہے۔ پروفیسر جو کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا۔