عرفان بھائی کے تخلیقی سفر کا ایک اہم پڑاؤ محترم صلاح الدین صاحب کا ہفت روزہ رسالہ ''تکبیر‘‘ تھا جو اپنے زمانے کا مقبول ترین پرچہ تھا۔ صلاح الدین صاحب کے تخلیقی جوہر اس وقت کھلے تھے جب انہوں نے روزنامہ جسارت کی ادارت سنبھالی اور جلد ہی یہ اخبار اپنی معیاری تحریروں اور جرأت مندانہ اسلوب سے صحافتی افق پر جگمگانے لگا۔ اسی طرح جب انہوں نے ہفت روزہ تکبیر کا اعلان کیا تو آغاز میں ہی اس نے اپنی ایک منفرد پہچان بنا لی۔ صلاح الدین صاحب کے پُرمغز اداریوں‘ سیاسی تجزیوں‘ انٹرویوز اور مختلف شہروں سے رپورٹس نے اسے اُس دور کا مقبول سیاسی ہفت روزہ بنا دیا۔ عرفان بھائی اسی نوع کے سیاسی ہفت روزہ 'زندگی‘ میں لکھنے کا تجربہ رکھتے تھے۔ اب 'تکبیر‘ کی صورت میں صحافتی دنیا کا ایک نیا میدان ان کے سامنے تھا۔ تکبیر کو اس زمانے کے معروف قلمکاروں کی مدد حاصل تھی۔ مرکزی ادارے کی ٹیم کے علاوہ تمام بڑے شہروں میں مستقل نمائندے تھے جو ہر ہفتے اپنے تجزیے اور رپورٹس بھیجتے۔ راولپنڈی اسلام آباد سے معروف صحافی سعود ساحر صاحب اس کے نمائندہ تھے۔ ستاروں کی اس کہکشاں میں ایک نووارد کیلئے جگہ بنانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھا لیکن عرفان بھائی کی شخصیت کا ایک اہم پہلو اُن کی خود اعتمادی تھی۔ وہ ہر کام کا آغاز اس یقین کے ساتھ کرتے کہ انہیں اس میں کامیابی ملے گی۔ یہ 1990ء کی دہائی تھی جب انہوں نے اپنے پہلی تحریر تکبیر کو بھیجی۔ جب یہ تحریر صلاح الدین صاحب تک پہنچی تو ان کا ردِعمل کیا تھا‘ اس کی گواہی ہمیں معروف صحافی فاروق عادل صاحب کی ایک اہم تحریر سے ملتی ہے۔ فاروق عادل صاحب اُن دنوں کراچی میں رہتے تھے اور تکبیر کی ٹیم کا حصہ تھے۔ وہ ان ہفتہ وار میٹنگز میں شریک ہوتے جس میں تکبیر کے مدیر صلاح الدین صاحب اگلے شمارے کے موضوعات اور تحریروں پر بحث کے بعد ان کے انتخاب کا فیصلہ کرتے۔ ایسی ہی ایک میٹنگ کا احوال فاروق عادل صاحب سناتے ہیں کہ جس میں عرفان بھائی کی پہلی تحریر زیرِ بحث آ رہی تھی۔ دیکھیے کیسے ایک ذہین اور تجربہ کار مدیر ایک ماہر جوہری کی طرح فوری طور پر کھوٹے اور کھرے کی پہچان کر لیتا ہے۔ فاروق عادل صاحب صلاح الدین صاحب کے ردِعمل کے بارے میں لکھتے ہیں: ''بھئی، یہ شخص تو لکھاڑ ہے‘‘! صلاح الدین صاحب نے پڑھتے پڑھتے سر اٹھایا اور مسکراتے ہوئے کہا۔ صلاح الدین صاحب ان اسلاف کی وہ یادگار تھے‘ شخصی صحافت جن سے منسوب ہے۔ 'تکبیر‘ بھی شخصی صحافت ہی کا ایک نمونہ تھا لیکن اس میں جمہوریت کے بھی کچھ جراثیم تھے۔ ہر ہفتے ایک گرینڈ میٹنگ ہوتی جس میں شعبۂ ادارت کے تمام سینئر اور جونیئر مل بیٹھتے اور اگلے ہفتے کے شمارے کی منصوبہ بندی ہوتی۔ ٹائٹل کی تفصیلات حتیٰ کہ سرخیاں تک طے کی جاتیں۔ اپنے وطن کی سیاست کے پیچ و خم کو سمجھنے کا جیسا موقع ان نشستوں میں ملا‘ اس کی بس یاد ہی رہ گئی ہے۔ اہلِ محفل نے صدرِ محفل کی زبان سے یہ کلمۂ تحسین سنا تو حیرت سے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور کندھے اچکا کر خاموش ہوگئے۔ یہ 90ء کی دہائی تھی۔ سیاست بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے گرد گھومتی تھی اور اس میں زہر کچھ ایسے گھلا تھا کہ لوگ باگ گھر بیٹھے اس کی تلخی محسوس کیا کرتے۔ یہ انہی دنوں کی بات ہے‘ ایک صاحب کی تحریر موصول ہوئی۔ روشنائی والے قلم سے لکھی‘ نشست و برخاست سے درست اور جلی و خفی سرخیوں سے مرصع۔ خیر بات دور جا نکلی۔ یہ جس شخص کے سوادِ تحریر اور اسلوبِ تحریر کا تذکرہ ہے‘ وہ عرفان صدیقی تھے۔ صلاح الدین صاحب کی تعریف نے ان کے معاونین کو دکھی کیا کیونکہ وہ محسوس کر رہے تھے کہ یہ ان کے میدان میں ایک نئے سوار کی آمد ہے۔ 'تکبیر‘ کی شہرت کسی نہ کسی جانب جھکاؤ رکھنے والے سیاسی تبصرے و تجزیے‘ بدعنوانی کی کہانیوں اور سیاسی شخصیات کے تفصیلی اور گہرے انٹرویوز کیلئے تھی۔ یہاں ان فنون کا ماہر ایک سے بڑھ کر ایک تھا لیکن جیسے ہی ''لکھاڑ‘‘ یعنی عرفان صدیقی نے اس سلطنت میں قدم رکھا‘ وہ چھاتے چلے گئے۔ زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح صحافت کی دنیا میں بھی بعض کاموں کیلئے بعض لوگ مخصوص ہوتے ہیں یعنی فلاں کام سینئر کرے گا‘ فلاں جونیئر کرے گا لیکن عرفان صدیقی کی آمد کے بعد کوئی چھوٹا بڑا نہ رہا کیونکہ اس شخص کو چھوٹائی بڑائی سے نہیں‘ کام سے دلچسپی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک قسم کی مسابقت شروع ہو گئی جس کے دو نتیجے نکلے۔ پہلا یہ کہ کام کے معیار میں مزید بہتری آ گئی۔ سبب اس کا یہ تھا کہ اب ہر ایک کا مقابلہ ان پروئے ہوئے موتیوں سے تھا جو ہر ہفتے کوریئر یا فیکس سے موصول ہوتے اور دیکھنے والا انہیں دیکھتا رہ جاتا‘‘۔
یوں عرفان بھائی نے اپنی پہلی تحریر سے ہی تکبیر جیسے مستند اور مقبول جریدے میں اپنی جگہ بنا لی تھی۔ کچھ عرصے بعد انہیں سعود ساحر صاحب کے ساتھ راولپنڈی اسلام آباد سے تکبیر کا نمائندہ خصوصی مقرر کر دیا گیا۔ عرفان بھائی اپنے اس دور کو یاد کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ''میرا باضابطہ صحافتی زندگی کا آغاز جناب مجیب الرحمن شامی کی قیادت میں ہوا۔ ہفت روزہ زندگی اور قومی ڈائجسٹ کیلئے میں نے شامی صاحب کی رہنمائی میں لکھنا شروع کیا اور اپنے عہد کے اس جری قلم کار اور کہنہ مشق صحافی سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ میری دوسری منزل صلاح الدین شہید کا ہفت روزہ تکبیر تھا۔ جس کے ساتھ میں کم و بیش آٹھ سال تک وابستہ رہا۔ یہ آٹھ سال میرے قلم کی دھار کو تیز تر کر گئے‘ جسے شامی صاحب نے حرف و بیاں کا ایک سلیقہ دیا تھا‘‘۔ اس دوران عرفان بھائی نے پاکستان کے ممتاز سیاستدانوں سے انٹرویوز کیے۔ یہ 1996ء کا سال تھا جب انہوں نے سابق جج اور مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر رفیق تارڑ صاحب کا انٹرویو کیا۔ اس انٹرویو کا پس منظر سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ اس وقت کے سیاسی منظر نامے کو سمجھا جائے۔ ان دنوں ملک میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ محترمہ بینظیر بھٹو وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر فائز تھیں اور صدارت کی مسند پر جناب فاروق لغاری براجمان تھے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے احکامات پر سید سجاد علی شاہ کو 4 جون 1994ء کو چیف جسٹس آف پاکستان مقرر کیا گیا۔ اس تقرری کو سول سوسائٹی‘ سیاسی جماعتوں اور خود عدلیہ کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تقرری کو اس لیے متنازع سمجھا گیا کہ اس میں سنیارٹی کے قائم شدہ اصول کی خلاف ورزی کی گئی تھی اور تین سنیئر ججز کو نظر انداز کر دیا گیا تھا جن میں جسٹس سعد سعود جان بھی شامل تھے‘ جو سنیارٹی کے لحاظ سے اس عہدے کے اصل حقدار سمجھے جاتے تھے۔ سعد سعود جان کے علاوہ جسٹس عبدالقادر چودھری اور جسٹس اجمل میاں بھی جسٹس سجاد علی شاہ سے سینئر تھے۔ اس اقدام کو انتظامیہ‘ خصوصاً وزیراعظم کی جانب سے عدالتی تقرریوں میں غیرمعمولی مداخلت کے طور پر دیکھا گیا تاکہ اپنی پسند کے جج کو اعلیٰ عدالتی منصب پر فائز کیا جا سکے۔ اس سے عدلیہ کی خودمختاری مجروح ہوئی۔ پاکستان بار کونسل اور صوبائی بار ایسوسی ایشنز نے قراردادیں منظور کیں جن میں تقرری کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا گیا اور اسے ایک خطرناک نظیر قرار دیا گیا۔ اس سیاسی تناؤ کے ماحول میں عرفان بھائی نے تکبیر کیلئے سابق جسٹس رفیق تارڑ صاحب کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو‘ جو ہفت روزہ تکبیر (21 تا 27 جون) میں شائع ہوا۔ ایک طویل انٹرویو تھا جو پانچ صفحات پر مشتمل تھا۔ اس انٹرویو کا چھپنا تھا کہ عدالتی ایوانوں میں جیسے بھونچال آ گیا۔ (جاری)