"AIZ" (space) message & send to 7575

مصائب کی حقیقت

دنیا میں انسان مختلف ادوار سے گزرتا ہے جن میں راحت و مسرت کے علاوہ تکالیف‘ مشکلات‘ بیماریوں اور مصائب کے ادوار بھی شامل ہوتے ہیں۔ انسان اپنے علم‘ صلاحیتوں اور بے شمار ترقی کے باوجود مشکلات‘ بیماریوں اور مصائب پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور جب سے اس زمین پر آباد ہے‘ مصائب و آلام اس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ سائنسی و سماجی ماہرین مصائب اور مشکلات کے اسباب کا تجزیہ اپنے اپنے انداز میں کرتے ہیں لیکن اس حوالے سے کتاب وسنت کی توضیحات یقینا انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ جب ہم کتاب وسنت کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مصائب کی متعدد وجوہات ہیں جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں۔
گناہوں کا ازالہ: کلامِ حمید کے مطالعہ سے اس بات کو جانچنا کچھ مشکل نہیں کہ انسان کی زندگی میں آنے والے اکثر مصائب درحقیقت اس کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہوتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الشوریٰ کی آیت: 30 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور تم پر جو مصیبت آتی ہے تو وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں سے آتی ہے اور وہ بہت سے گناہ معاف کر دیتا ہے۔اور تم (اُسے) زمین میں عاجز کرنے والے نہیں‘ اور سوائے اللہ کے نہ کوئی تمہارا کارساز ہے اور نہ کوئی مددگار‘‘۔ کلام حمید کے مطالعہ سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ اجتماعی مصائب کی بھی ایک بڑی وجہ انسانوں کے گناہ اور ان کی نافرمانیاں ہیں؛ چنانچہ سورۃ الروم کی آیت: 40 میں ارشاد ہوا: ''خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب سے فساد پھیل گیا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے تاکہ وہ باز آ جائیں‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کے اجتماعی گناہوں کے حوالے سے اپنی پکڑ کا ذکر سورۃ النحل میں ایک بستی کے تذکرے کے حوالے سے بھی کیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النحل کی آیت: 112 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور اللہ ایک ایسی بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جہاں ہر طرح کا امن‘ چین تھا اس کی روزی بافراغت ہر جگہ سے چلی آتی تھی‘ پھر اللہ کے احسانوں کی ناشکری کی تو اللہ نے ان کے برے کاموں کے سبب سے جو وہ کیا کرتے تھے‘ یہ مزہ چکھایا کہ ان پر فاقہ اور خوف چھا گیا‘‘۔
عاجزی کا سبق: اللہ تبارک وتعالیٰ بسا اوقات انسان کو عاجزی وانکساری کے راستے پہ چلانے کے لیے اس کو مبتلائے مصیبت کر دیتے ہیں۔ جب وہ مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کو اپنی کمزوری اور بے بسی کا احساس ہوتا ہے اور وہ فخر‘ گھمنڈ‘ ریاکاری اور دیگر بہت سے اخلاقی عیوب سے بچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور اس کے لیے اس مصیبت کی وجہ سے خیر کے بہت سے دروازے کھل جاتے ہیں۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں ایک اہم حدیث ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کسی مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے‘‘۔
اللہ کے غلبے اور تقدیر پر ایمان: انسان کی ہمہ وقت یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ خوشی اور اطمینان سے رہے مگر مصائب‘ مشکلات اور بیماریاں اس کو اس بات کی یاد دہانی کراتی ہیں کہ تقدیر کا امر غالب ہے اور اللہ تعالیٰ کے وہ فیصلے‘ جو اس نے کائنات اور انسانوں کے بارے کئے ہیں‘ وہ یقینا وقوع پذیر ہو کر رہیں گے۔ اس طرح انسان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس حوالے سے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ''بندہ مومن کے متعلق اللہ کی تقدیر اور فیصلے پر مجھے تعجب ہوتا ہے کہ اگر اسے کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کا شکر ادا کرتا ہے اور اگر کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس پر بھی الحمدللہ کہہ کر صبر کرتا ہے۔ (اور صبر وشکر دونوں اللہ کو پسند ہیں) مومن کو تو ہر چیز کے بدلے ثواب ملتا ہے حتیٰ کہ اس لقمے پر بھی جو وہ اٹھا کر اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے‘‘۔
اللہ کی طرف رجوع: مصائب کے نتیجے میں انسان جب بے بسی کا شکار ہو جاتا ہے تو اس کو اپنے خالق و مالک کی یاد ستاتی ہے اور وہ اپنی مصیبت اور مشکلات کی دوری کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ سے رجوع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندۂ مومن کے ایمان‘ عمل صالح‘ دعائوں‘ مناجات اور ذکرِ الٰہی کی وجہ سے اس کی تکالیف کو دور کر دیتے ہیں‘ یوں انسان مصائب کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹنے کے قابل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس حقیقت کو سورۃ التغابن کی آیت: 11 میں یوں ارشاد فرماتے ہیں: ''اللہ کے حکم کے بغیر کوئی مصیبت بھی نہیں آتی اور جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے وہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے‘ اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے‘‘۔
اللہ کی طرف سے آزمائش: اللہ کے برگزیدہ اور منتخب لوگ کئی مرتبہ اللہ کی طرف سے آزمائے جاتے ہیں۔ مصیبت اور مشکلات میں مبتلا ہونے کے بعد انسان کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی رِضا پر راضی رہنا چاہیے اور مصیبت پر صبر کرنا چاہیے۔ اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 155 تا 157 میں یوں بیان فرماتے ہیں: ''اور ہم تمہیں کچھ خوف اور بھوک اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے ضرور آز مائیں گے‘ اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔ (یہی) وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم تو اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ یہ (وہ) لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے مہربانیاں ہیں اور رحمت‘ اور یہی ہدایت پانے والے ہیں‘‘۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں مختلف انبیاء کرام علیہم السلام کے مصائب کا ذکر کیا ہے۔ حضرت ایوبؑ برسہا برس بیمار رہے اور اس کے بعد جب انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ ان کو شفا دی۔ اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ سورۃ الانبیاء کی آیات: 83 تا 84 میں یوں بیان فرماتے ہیں: ''اور جبکہ ایوب نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے روگ لگ گیا ہے حالانکہ تُو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ پھر ہم نے اس کی دعا قبول کی اور جو اسے تکلیف تھی ہم نے دور کر دی‘ اور اسے اس کے گھر والے دیے اور اتنا ہی ان کے ساتھ اپنی رحمت سے اور بھی دیا اور عبادت کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے‘‘۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت یونسؑ کے مچھلی کے پیٹ میں جانے اور وہاں سے باہر نکلنے کا ذکر کیا۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الانبیاء کی آیات: 87تا 88 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور (یاد کرو) مچھلی والے (یونس علیہ السلام) کو جب (وہ اپنی قوم سے) غصہ ہو کر چلا گیا پس خیال کیا کہ ہم اسے نہیں پکڑیں گے پھر (اس نے) اندھیروں میں پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو بے عیب ہے‘ بیشک میں بے انصافوں میں سے تھا۔ پھر ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے غم سے نجات دی اور ہم ایمان والوں کو یونہی نجات دیا کرتے ہیں‘‘۔
آئمہ دین نے بھی انبیاء کرام کی سیرت وکردار پر اپنی زندگی میں عمل کیا اور ہر طرح کی مصیبت اور مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور یہ تمام عظیم ہستیاں اپنے کردار و عمل کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے امر ہوگئیں۔ انبیاء کرام اور عظیم ہستیوں کے کردار سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ جب کوئی شخص مبتلائے مصیبت ہو جاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کو اس مصیبت سے باہر نکال دیتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ مصیبت کے نتیجے میں جب مومن بندوں کو آزمایا جاتا ہے اور وہ اللہ کی رضا پر راضی رہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ مصائب اور مشکلات کے حقیقی اسباب کو سمجھتے ہوئے انسان کو ایسے اعمال کی طرف متوجہ ہونا چاہیے جن کے نتیجے میں مصائب بھی دور ہو جائیں اور انسان زندگی کے بنیادی مقصد کی طرف پلٹنے کے بھی قابل ہو جائے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو مصیبتوں کے دوران ان کے حقیقی اسباب کو سمجھنے اور اپنی خطائوں پر اظہارِ ندامت کرتے ہوئے پلٹنے کی توفیق دے‘ آمین!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں