رجب اور شعبان کے مہینوں میں ملک بھر کے مدارس میں تکمیل صحیح بخاری کی سالانہ تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ مجھے ہر برس ان تقریبات میں شرکت کا موقع میسر آتا ہے۔ چند روز قبل جامعہ لاہور الاسلامی کے مہتمم‘ برادرِ عزیز ڈاکٹر حمزہ مدنی نے اپنے مدرسے کی سالانہ تقریب میں شرکت کی دعوت دی۔ اس موقع پر جن گزارشات کو سامعین کے سامنے رکھا انہیں مختصراً پیش کرنا چاہتا ہوں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ کا دین زندگی کے تمام شعبوں میں ہماری کامل رہنمائی کرتا ہے۔ کتاب وسنت میں عقائد‘ عبادات اور معاملات کے حوالے سے ایسی رہنمائی موجود ہے کہ جس پر چل کر انسان دنیا وآخرت کی سعادتوں کو سمیٹ سکتا ہے۔ بالعموم دین کے فہم کے حوالے سے کچھ باتیں ایسی ہیں جن کو سمجھنا ہم مسلمانوں کیلئے بہت ضروری ہے۔
وحی عقل پر فوقیت رکھتی ہے: جب ہم دین کے ماخذ پر غور کرتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ انسانی عقل کئی معاملات کو از خود حل کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ اگر ہم کتب احادیث پرغور کریں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام میں کئی جانوروں کو حلال جبکہ اکثر جانوروں کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ اونٹ‘ گائے‘ بکرا‘ بھیڑ‘ دنبہ اور گھوڑا وغیرہ ایسے جانور ہیں کہ جن کا گوشت کھانا اہلِ اسلام کیلئے حلال ہے جبکہ اس کے مدمقابل گدھے کا گوشت کھانا حرام ہے۔ حالانکہ گھوڑے اور اونٹ کی طرح گدھا بھی باربرداری کا جانور ہے اور اس سے ہم بہت سے کام لیتے ہیں۔ انسانی عقل میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ حلال وحرام کے باب میں اس بات کا فیصلہ کر سکے کہ کسی جانور کی حلّت کی وجہ کیا ہے اور کسی جانور کی حرمت کس وجہ سے ہے۔ اسی طرح جب ہم احکاماتِ شریعت پر غور کرتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تعالی نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت دی ہے جبکہ عورت کو ایک ہی شادی کا پابند ٹھہرایا گیا ہے۔ اسی طرح مرد کیلئے چار بیویوں کے ہوتے مزید شادیاں کرنا حرام ہے۔ بہت سے لوگ ان احکامات کی حکمت کو اپنے انداز میں بیان کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ تعدادِ ازواج کے مسئلہ میں چار شادیوں کا حلال ہونا اور پانچویں شادی کا حرام ہونا ایسا مسئلہ نہیں کہ اس کو عقل کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ اس کے حل کیلئے ہمیں وحیٔ الٰہی کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح قرآن مجید کے کئی مقامات پر ایسی باتیں بیان کی گئی ہیں جن کی عقلی توضیح و توجیہ ممکن نہیں‘ جن میں سے ایک اہم بات یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن باپ کے پیدا ہوئے جبکہ یہ بات عمومی انسانی تخلیق سے مطابقت نہیں رکھتی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس عقدے کو قرآن مجید میں کچھ یوں حل کیا کہ جو پروردگارِ عالم حضرت آدم علیہ السلام کو بن باپ اور بن ماں کے پیدا کر سکتا ہے اس کیلئے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو بن باپ کے پیدا کرنا کچھ مشکل نہیں‘ لہٰذا ہمیں دینی احکامات میں وحی کو عقل پر فوقیت دینی چاہیے۔
قرآن مجید کے ساتھ ساتھ احادیث کی پیروی بھی لازم ہے: قرآن مجید اللہ تبارک وتعالیٰ کا کلام ہے جو زندگی کہ تمام شعبہ جات سے متعلق انسانوں کی زبردست انداز سے رہنمائی کرتا ہے لیکن قرآن مجید کے بعض مقامات ایسے ہیں کہ جہاں پر اجمال ہے اور ان کی تصریحات کیلئے ہمیں نبی کریمﷺ کے فرامین مبارک سے رجوع کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں اس بات کا حکم دیا کہ اس کے پرانے گھر کا طواف کیا جائے؛ چنانچہ عمرہ اورحج کرنے والے لوگ جب بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں تو وہ حطیم کے باہر سے بیت اللہ کے طواف کو مکمل کرتے ہیں اس لیے کہ حطیم بیت اللہ کی پرانی تعمیر کا حصہ ہے۔ طوا ف کے چکر کسی بھی تعداد میں ہو سکتے تھے‘ فقط قرآن مجید کی روشنی میں اس بات کا تعین کرنا کہ طواف میں کتنے چکر ہونے چاہئیں‘ یہ بات ممکن نہیں لہٰذا اس کیلئے احادیث طیبہ سے رجوع کرنا لازم ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس بات کا اعلان فرمایا کہ حج کے مہینے معلوم ہیں جبکہ قرآن مجید میں ان ایام کا تعین نہیں کیا گیا جن میں حج کے عمل کو مکمل کیا جاتا ہے۔ اس کیلئے بھی ہمیں احادیث طیبہ سے رجوع کرنا پڑتا ہے اور یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ حج کے مہینوں کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ جب شوال‘ ذوالقعد یا ذوالحج میں احرام باندھا جائے تو اسے حج کا احرام قرار دیا جائے گا۔ ذوالحجہ کی نسبت حج کے عمل کے ساتھ ہے لیکن ذوالحجہ کی پہلی سے لے کر سات تاریخ تک حج کے مناسک کو ادا نہیں کیا جا سکتا۔ مناسک حج کو 8 سے 12 یا 13 ذوالحجہ تک ہی ادا کیا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ فقط قرآن مجید کے ذریعے ایامِ حج کا تعین کرنا ممکن نہیں بلکہ اس کیلئے احادیث طیبہ سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔ نماز کی رکعتوں اور ان کے مواقیت کا فیصلہ بھی فقط قرآن مجید کی آیات سے نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کیلئے بھی ہمیں احادیث طیبہ سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔
احکامِ الٰہی کو انسانی احکامات پر فوقیت حاصل ہے: کتاب وسنت کے مطالعہ سے یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ انسانوں کی اطاعت اور پیروی معروف کاموں میں ہے اور اگر وہ ایسی کسی بات کا حکم دیں جو کتاب وسنت سے مطابقت نہ رکھتی ہو تو ان مسائل میں انسانوں کی بات تسلیم کرنے کے بجائے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیمات کو مقدم رکھنا چاہیے۔
17 جنوری کو مرکز قرآن وسنہ لارنس روڈ‘ لاہور پر بھی تقریب تکمیل بخاری کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈاکٹر حمزہ مدنی اور ڈاکٹر سبیل اکرام نے پُراثر انداز میں قرآن مجید کی تلاوت کی۔ شیخ الحدیث مولانا شفیق مدنی اور حافظ مسعود عالم نے بڑے خوبصورت پیرائے میں احادیث کی اہمیت پر دروس دیے۔ ڈاکٹر شفیق الرحمن زاہد‘ حافظ عبدالمنان راسخ اور مولانا یحییٰ عارفی نے دلپذیر گفتگو کی۔ اس موقع پر میں نے جو گزارشات سامعین کے سامنے رکھیں‘ مختصراً انہیں قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتیں اَن گنت اور بے پایاں ہیں لیکن ان تمام نعمتوں میں ایمان کی نعمت کا درجہ سب سے بلند ہے کہ اس کی وجہ ہی سے باقی نعمتوں میں معنویت اور گہرائی پیدا ہوتی ہے۔ فرعون اپنی سرداری کے باوجود ایمان سے محرومی کی وجہ سے ناکام رہا۔ قارون کا سرمایہ اس کے کسی کام نہیں آ سکا۔ ہامان کا عہدہ اس کیلئے فائدہ مند ثابت نہ ہو سکا اور ابولہب کی خاندانی وجاہت اس کے کسی کام نہ آئی۔ اس لیے کہ وہ سب لوگ ایمان کی نعمت سے محروم تھے۔ ان کے مدمقابل صحابہ کرام کو جو عظمت حاصل ہوئی اس کی بنیاد ایمان کی دولت تھی۔ ایمان کی ترویج اور ترقی کیلئے علم حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جن اسباب کی وجہ سے انسانوں کو دیگر مخلوقات پر فوقیت دی ہے ان میں علم سرفہرست ہے۔ علم کے حصول کے دو بڑے ذرائع ہیں؛ ایک رب کا قرآن اور دوسرا حضرت محمدﷺ کا فرمان۔ نبی کریمﷺ کے فرمان مبارک کے مجموعوں کو کتب احادیث کہا جاتا ہے۔ ان کتب احادیث میں صحیح بخاری کا مقام انتہائی بلند ہے کہ حضرت امام بخاری نے کئی لاکھ احادیث میں سے تقریباً 7297 احادیث کو علیحدہ کیا اور ان میں زندگی گزارنے کے تمام امور سے متعلقہ نبی کریمﷺ کے فرامین مبارک کو جمع کر دیا۔
صحیح بخاری کی پہلی حدیث نیت کی اصلاح سے متعلق اور آخری حدیث اعمال کے تُلنے سے متعلق ہے۔ یعنی یہ اظہار ہے کہ دین کا آغاز اصلاحِ نیت سے اور دین کی تکمیل اعمال کے تُل جانے کے بعد جنت میں جانے سے ہوتی ہے؛ چنانچہ انسان کو اپنی زندگی کا رخ متعین کرنے کیلئے کتاب وسنت سے رجوع کرنا چاہیے اور ان پر عمل پیرا ہو کر دنیا وآخرت کی سعادتوں کو سمیٹ لینا چاہیے۔
شرکا نے بڑی توجہ کے ساتھ تمام تقاریر کو سنا اور یوں یہ روحانی اور علمی تقریب بہت سی خوبصورت یادوں کے ہمراہ مکمل ہوئی۔