"AIZ" (space) message & send to 7575

کھیلوں کے حوالے سے شرعی حدود وقیود

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو اپنے پیروکاروں کو زندگی کے تمام شعبوں میں مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ دینِ اسلام نے جہاں عقائد‘ عبادات اور اجتماعی معاملات میں اپنے ماننے والوں کی مکمل رہنمائی کی وہیں فارغ اوقات کی مشغولیات اور کھیلوں سے متعلقہ ضروری امور کو بھی واضح کر دیا۔ پیشتر اس کے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق کھیل کے حوالے سے بعض اہم نکات پر غور کیا جائے‘ پہلے اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ کھیل کے بہت سے مقاصد ہوتے ہیں‘ جن میں جسمانی وذہنی نشوونما ‘روحانی تازگی اور دیگر بہت سے مفید امور شامل ہوتے ہیں۔ نبی کریمﷺ کی بعثت سے قبل بھی بہت سے کھیل کھیلے جاتے تھے اور آپﷺ نے ان میں سے اکثر کھیلوں کو جائز اور درست قرار دیا۔ نبی کریمﷺ نے اپنے عہد مبارک میں جن کھیلوں کو جائز اور درست قرار دیا ان میں گھڑ سواری‘ تیر اندازی‘ نیزہ بازی‘دوڑ اور تیراکی وغیرہ شامل ہیں۔ نبی کریمﷺ نے خود بھی گھڑ سواری اور نشانہ بازی کی اور صحابہ کرام بھی گھڑ سواری اور تیر اندازی کرتے رہے۔ آپﷺ نے کئی مرتبہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ دوڑ کا بھی مقابلہ کیا۔ یہ تمام میدانی کھیل انسان کی جسمانی نشوونما میں نمایاں کردار ادا کرتے اور اس کی ذہنی استعداد اور خود اعتمادی کو بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔ ان کھیلوں سے انسان کے مورال اور ہمت میں اضافہ ہوتا ہے اور جب وہ زندگی کی مشغولیات کی طرف پلٹتا ہے تو ان کھیلوں سے حاصل ہونے والی مفید صلاحیتوں کو عملی زندگی میں استعمال کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ جہاں شریعت اسلامیہ میں بہت سے کھیل درست اور جائز قرار دیے گئے وہی ایسے عوامل کی نشاندہی بھی کی گئی کہ اگر وہ کسی بھی کھیل میں شامل ہو جائیں تو ایسے کھیلوں سے اجتناب اور گریز ضروری ہو جاتا ہے۔
عبادات اور ذمہ داریوں کا ضیاع: کوئی بھی ایسا کھیل جس سے انسان کے فرائض میں کوتاہی پیدا ہو اور انسان نمازِ پنجگانہ اور اللہ کے ذکر سے غافل ہو جائے‘ اس کھیل سے احتراز ضروری ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں اہلِ ایمان کو ہر حالت میں ذکر کو برقرار رکھنے کی تلقین کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی آیت: 37 میں ارشاد فرمایا: ''ایسے لوگ جنہیں سوداگری اور خرید وفروخت اللہ کے ذکر اور نماز کے پڑھنے اور زکوٰۃ کی ادائیگی سے غافل نہیں کرتی‘ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں الٹ جائیں گی‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ المنافقون کی آیت: 9 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اے ایمان والو! تمہیں تمہارے مال اور تمہاری اولاد اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں‘ اور جو کوئی ایسا کرے گا سو وہی نقصان اٹھانے والے ہیں‘‘۔ انسان کیلئے جہاں نمازِ پنجگانہ کو ادا کرنا ضروری ہے وہیں اپنے والدین اور گھر والوں کے حقوق کو ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح اپنے معاشی معاملات کی درست طریقے سے انجام دہی بھی انسان پر واجب ہے۔ کوئی بھی ایسا کھیل جو انسان کو اس کی دینی و دنیاوی ذمہ داریوں سے غافل کر دے اور اس میں وقت ضائع ہو‘ اس کی شریعت میں اجازت نہیں ہے۔
فحاشی اور عریانی سے اجتناب: کھیل کے دوران اس بات پر توجہ دینا انتہائی ضروری ہے کہ کھیل فحاشی وعریانی کے پھیلائو کا سبب نہ ہو۔ اس لیے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فحاشی کی نشر واشاعت کو دنیا وآخرت میں عذاب کا سبب قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ النور کی آیت: 19 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''بیشک جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بدکاری کا چرچا ہو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے‘ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے‘‘۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت سے کھیلوں میں مرد و زن کا آزادانہ اختلاط ہوتا ہے اسی طرح بہت سی ایسی حرکتیں بھی کی جاتی ہیں جن سے معاشرے میں فحاشی وعریانی کو فروغ ملتا ہے۔ ایسے تمام کھیلوں سے مکمل طور پر اجتناب اہلِ ایمان کیلئے ضروری ہے۔
جوئے یا شرط سے اجتناب: کوئی بھی ایسا کھیل جس میں جوا یا شرط شامل ہو‘ اس سے اجتناب کرنا یا جوئے اور شرط سے اس کھیل کو آزاد کرنا ضروری ہے‘ اس لیے کہ کھیل کا مقصد جسمانی اور ذہنی نشوونما ہے نہ کہ کسی کو نقصان پہنچانا۔ بہت سے کھیلوں کے دوران کئی مرتبہ کھلاڑی‘ ان کے ہمنوا یا شایقین اپنے گھر بار اور سرمائے کو شرط میں لگا دیتے ہیں اور شرط ہارنے کی صورت میں انہیں شدید مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں انسان کی محنت‘ سرمایے اور وقت کا ضیاع ہوتا ہے لہٰذا انسان کو ایسے تمام کھیلوں سے اجتناب کرنا چاہیے جن سے جوئے اور شرط جیسے معاملات پیدا ہو جائیں اور بعد ازاں انسان کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے۔
لڑائی جھگڑے سے اجتناب: ایسے کھیلوں سے بچنا بھی ضروری ہے جن میں لڑائی جھگڑے کا اندیشہ ہو۔ بہت سے لوگ کھیلوں کو انانیت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور شکست کی صورت میں لڑائی جھگڑے پر آمادہ وتیار ہو جاتے ہیں۔ اس قسم کے رویوں کو کھیل سے علیحدہ کرنا یا ایسے کھیلوں سے اجتناب کرنا ضروری ہے‘ جو اس قسم کے رویوں کو فروغ دینے کا سبب بنتے ہوں۔ زمانہ جاہلیت میں کئی مرتبہ کھیلوں کے نتیجے میں اس حد تک تنازعات پیدا ہوتے کہ لوگ ایک دوسرے کی جان لینے پر آمادہ ہو جاتے تھے۔ آج بھی ہم اس بات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ گلی محلوں کی سطح پر ہونے والے کئی بڑے تنازعات محض معمولی اختلافات سے پیدا ہوتے ہیں۔
جسمانی نقصان کا اندیشہ: کوئی بھی ایسا کھیل جس میں کسی جسمانی نقصان کا اندیشہ ہو اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے‘ اس لیے کہ کھیل کا مقصد جسمانی وروحانی نشوونما ہے نہ کہ کسی جاندار کو نقصان پہنچانا۔ کبوتر بازی اور اس قسم کے دیگر کھیلوں کے نتیجے میں کئی مرتبہ لوگ بلند مقامات سے نیچے گر جاتے اور کبوتر کو پکڑتے پکڑتے اپنی جان کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر بلادریغ ہوائی فائرنگ اور آتش بازی کے نتیجے میں جانی نقصان کا شدید اندیشہ ہوتا ہے‘ اس لیے ایسے کھیلوں سے اجتناب کرنا ضروری ہے جو جسمانی نقصان پر مشتمل ہوں۔
بداخلاقی سے اجتناب: کئی لوگ کھیل کے دوران بداخلاقی کے راستے پر چل نکلتے ہیں اور فریق مخالف کو گالی گلوچ کرنے سے بھی اجتناب نہیں کرتے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ٹیم کی قیادت کرنے والا کھلاڑی اپنی ہی ٹیم کے دیگر ساتھیوں کو لعنت وملامت کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ کسی مسلمان کیلئے یہ بات کسی طور پر درست نہیں کہ وہ دوسرے مسلمان کی توہین کرے یا اس کو گالی دے۔ مسلمان کو گالی دینا فسق وفجور اور اس سے لڑائی جھگڑا کرنا کئی مرتبہ انسان کو کفر تک لے جاتا ہے۔ کھیل کا مقصد جسمانی اور ذہنی نشوونما کے ساتھ پیار‘ محبت اور اخوت کا فروغ ہونا چاہیے نہ کہ ایک دوسرے کی عزتوں کو پامال کرکے نفرت اور بغض کو فروغ دینا۔
کھیل کی لت سے اجتناب: کوئی بھی کھیل زندگی کا مقصد نہیں بن جانا چاہیے۔ اس کو زندگی کا ایک حصہ رہنا چاہیے جس کا مقصد ذہنی اور فکری نشوونما ہو۔ بہت سے بچے اپنا وقت موبائل گیمزمیں اس حدتک ضائع کرتے ہیں کہ پڑھائی پر توجہ دینا چھوڑ دیتے ہیں جس سے ان کی تعلیم اور رزلٹ بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ کئی مرتبہ بہت سے ذہین افراد اس حد تک کھیلوں میں جذب ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا درست استعمال کرنے سے قاصر ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ انسان کو ایسے تمام رویوں سے اجتناب کرنا چاہیے جن میں کھیل مقصدِ حیات بن جائے یا اس کی لت پڑ جائے۔
اگر مذکورہ بالا نکات کو مدنظر رکھا جائے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ کھیل ذہنی اور جسمانی نشوونما اور تفریح طبع کا سبب ہے اور اگر مذکورہ نکات کو نظر انداز کیا جائے تو اس سے انسان کے ذاتی‘ سماجی اور کاروباری معاملات بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا ان تمام امور سے بچنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہو جاتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں