موجودہ دور میں بین الاقوامی معاملات کو بہتر طریقے سے آگے بڑھانے کے لیے ہر ملک کو مخلص دوست ریاستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس ریاست کے دوست مخلص ہوں‘ اس کو بین الاقوامی چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ ہمارا ملک پاکستان ایک نظریاتی اسلامی ریاست ہے۔ اس کے نظریاتی پس منظر کی وجہ سے ہمسایہ ملک بھارت ہمہ وقت اس کے خلاف سازشوں کے تانے بانے بُنتا رہتا ہے۔ بھارت کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ پاکستان کا عالمی تشخص شدت پسند ریاست کے طور پر اجاگر کیا جائے تاکہ اقوام عالم میں اس کے نظریاتی تشخص کو مجروح کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ بھارت کا میڈیا بھی ہمہ وقت متحرک رہتا ہے۔ رائی کے ذرے کو پہاڑ بنا کر پیش کرنا‘ دن کو رات اور رات کو دن کہنا‘ سیاہی کو سفیدی اور سفیدی کو سیاہی قرار دینا بھارت کا معمول بن چکا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین کشمیر کے مسئلے پر تنازع پایا جاتا ہے۔ نظریاتی اور جغرافیائی تنازعات کے سبب دونوں ملکوں میں متعدد جنگیں بھی ہو چکی ہیں لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ کا بڑا فضل ہے کہ اس نے پاکستان کو بہت سے مخلص دوست عطا کر رکھے ہیں‘ جن میں چین اور سعودی عرب سرفہرست ہیں۔
قیام پاکستان سے لے کر آج تک پاکستان متعدد بار مشکل ادوار سے گزرا لیکن ہر دور میں سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ اپنی بھرپور دوستی نبھائی۔ 65ء کی جنگ ہو یا 71ء کا سانحہ‘ سعودی حکمران پاکستان کے دکھ درد میں ہمیشہ پوری طرح شریک رہے۔شاہ فیصل مرحوم کے دور سے شاہ فہد اور شاہ فہد سے شاہ سلمان تک‘ کسی بھی سعودی فرمانروا نے پاکستان کے ساتھ اخوت اور محبت کا تعلق کمزور نہیں ہونے دیا۔ پاکستان نے جس وقت ایٹمی دھماکے کیے‘ اس وقت پوری دنیا کے دبائو کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس دوران جن ممالک نے پاکستان کی سفارتی تنہائی کو دور کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ان میں سعودی عرب سرفہرست ہے۔ آزادکشمیر‘ بالاکوٹ اور ملک کے بالائی علاقوں میں 2005ء میں جب زلزلہ آیا تو بڑی تعداد میں جانی اور مالی نقصان ہوا۔ مصیبت کے ان لمحات میں متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے سعودی عرب نے نمایاں کردار ادا کیا۔ سعودی عرب کے فرمانروا نے پاکستان کی مدد کیلئے سعودی عرب میں ایک خصوصی فنڈ قائم کیا اور پاکستان کو خطیر رقم بطور امداد دی۔ پاکستان کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کسی ایک سیاسی حکومت تک محدود نہیں رہے بلکہ جو بھی حکومت ہو‘ سعودی عرب ہمیشہ ایک مضبوط اور مخلص دوست کی حیثیت سے پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا۔ متعدد مرتبہ پاکستان کے سیاسی تنازعات کے حل کے لیے بھی سعودی عرب نے کلیدی کردار ادا کیا۔ بھٹو دور میں جب قومی اتحاد اور پیپلز پارٹی کے درمیان ڈیڈ لاک پیدا ہوا تو اس وقت پاکستان میں سعودی سفیر پوری طرح سرگرم اور متحرک ہو گئے اور ان کا مقصد پاکستان میں قیامِ امن اور سیاسی استحکام کو یقینی بنانے کے سوا کچھ نہ تھا۔
پاکستانیوں کی کثیر تعداد روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم ہے اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات انجام دے کر جہاں اپنے کاروبار اور معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششیں کر رہی ہے وہیں پاکستان کثیر زرمبادلہ بھی ملتا ہے۔ سعودی عرب کی یونیورسٹیوں میں پاکستانی طلبہ کی بڑی تعداد تعلیم حاصل کر رہی ہے‘ جن میں جامعہ ام القریٰ (مکہ مکرمہ)‘ جامعہ اسلامیہ (مدینہ منورہ) اور جامعہ امام محمد بن سعود (ریاض) سرفہرست ہیں۔ ان یونیورسٹیوں میں ہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ داخلہ لیتے اور شرعی علوم میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد وطن واپس آکر ملک کے طول وعرض میں اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ پاکستان بھر میں سینکڑوں کی تعداد میں سعودی عرب سے فارغ التحصیل شرعی علوم کے فاضل اساتذہ تدریس‘ تبلیغ اور تحقیق وتصنیف کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ بہت سے پاکستانی سعودی عرب میں ہی دعوتِ دین کا فریضہ انجام دیتے اور مختلف سعودی اداروں میں دین کی نشر واشاعت میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ ان پاکستانیوں کے سعودی احباب سے بڑے خوشگوار تعلقات ہیں۔ پاکستان سے جانے والے جید علماء ان اداروں میں علمی اور تحقیقی خطبات اور لیکچرز دیتے ہیں۔ مجھے بھی جدہ اور طائف میں جالیات کے زیر انتظام چلنے والے اداروں میں خطابات کا موقع ملا ہے۔ میں نے سعودی علماء اور پاکستانی علماء کے مابین زیادہ ہم آہنگی دیکھی ہے۔ ان اداروں میں خطاب کرنے کے دوران پاک سعودیہ تعلقات کے حوالے سے بہت سے خوشگوار امورکا مشاہدہ کرنے کا موقع بھی ملتا رہا ہے۔
پاک سعودیہ تعلقات کے فروغ میں‘ پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر بھی نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں جو بھی سفیر پاکستان میں آیا‘ اس نے اپنے اپنے انداز میں پاک سعودیہ تعلقات کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید احمد المالکی نے بھی اس ضمن میں مثالی کردار ادا کیا۔ ستمبر 2017ء میں سعودی حکومت نے انہیں سفیر برائے پاکستان مقرر کیا۔ برسہا برس تک وہ پاکستان میں سفارتکاری کے فرائض انجام دیتے رہے اور ہر سال سعودی عرب کے قومی دن کی مناسبت سے ہونے والی تقریب اور رمضان المبارک دعوتِ افطار کے موقع پر پاکستان کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مہمانوں کو نہایت گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے۔ ان کی تقرری کے دور میں پاک سعودی دفاعی معاملات میں بہت پیشرفت ہوئی اور بات یہاں تک پہنچی کہ دونوں ملکوں کو دفاعی اعتبار سے ایک اکائی کی حیثیت دے دی گئی اور کسی بھی ملک پر ہونے والے حملے کو دوسرے ملک پر حملہ تصور کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس دفاعی معاہدے کی تکمیل میں جہاں پاک سعودی حکام نے نمایاں کردار ادا کیا وہیں سعودی سفیر نے بھی اپنی ذمہ داریوں کو بھرپور طریقے سے نبھایا۔ اس دور میں بہت سی نمایاں شخصیات پاکستان کے دوروں پر تشریف لائیں‘ جن میں امام کعبہ اور سعودی عرب کی مجلس شوریٰ کے سربراہ شیخ صالح بن حمید‘ رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عبدالکریم العیسیٰ اور امام مسجد نبوی شیخ صلاح البدیر شامل تھے۔ ان تمام شخصیات کی پاکستان آمد کے موقع پر سعودی سفارتخانے نے خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا جن میں پاکستان کی نمائندہ مذہبی اور سیاسی شخصیات شریک ہوئیں اور ان کو معزز مہمانوں کے ساتھ بالمشافہ ملاقات کا موقع ملا۔ نواف بن سعید احمد المالکی کئی برس تک سفارتی خدمات انجام دینے کے بعد 6 جنوری کو پاکستان میں اپنی ذمہ داریاں مکمل کر کے سعودی عرب واپس تشریف لے گئے ہیں۔ ان کی روانگی پر تمام مذہبی اور سیاسی شخصیات یوں محسوس کر رہی ہیں گویا ایک بھائی اور قریبی دوست گھر سے رخصت ہو رہا ہو۔ یقینا پاک سعودی تعلقات کے فروغ کے حوالے سے ان کی خدمات کو سنہرے حروف سے یاد رکھا جائے گا۔
مجھے کئی مرتبہ ذاتی طور پر بھی نواف سعید المالکی سے تبادلۂ خیال کا موقع ملا۔ وہ ہمیشہ خندہ پیشانی اور متبسم چہرے کے ساتھ پُرجوش انداز میں ملتے رہے۔ میں نے ہمیشہ انہیں اسلام اور پاکستان کی محبت سے معمور پایا اور کبھی یہ بات محسوس نہیں ہوئی کہ وہ غیر ملکی ہیں۔ سعودی سفارتخانے کے زیراہتمام ہونے والی اہم تقریبات میں جہاں وہ سیاسی اور سفارتی نکات پر مؤثر گفتگو کرتے وہیں اپنے خطاب کے اختتام پر اردو کے چند جملے بھی ضرور بولتے‘ جس کا مقصد اخوت‘ محبت اور یکجہتی کا فروغ ہوتا۔ شیخ نواف المالکی نے دونوں ممالک کے مابین محبت اور اخوت کے داعی کا کردار ادا کیا۔ قومی تقریبات میں ان کی سفارتی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کے خوبصورت اخلاق اور شخصیت کو بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور اس بات کی توقع کی جاتی ہے کہ ان کے بعد آنے والے سفیر بھی انہی خطوط پر چلتے ہوئے پاک سعودی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے وقف رہیں گے۔