جدہ سعودی عرب کا ایک بڑا شہر ہے۔ اس میں بلند وبالا عمارتیں‘ بڑے بڑے کاروباری مراکز اور خوبصورت ڈیپارٹمنٹل سٹورز ہیں۔ یہاں بڑے بڑے تعلیمی اور دینی ادارے بھی موجود ہیں۔ جدہ کی کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی میں دنیاوی علوم کے حوالے سے تدریس کا بہترین انتظام ہے۔ پوری دنیا سے حج اور عمرہ کرنے والے لوگوں کی بڑی تعداد جدہ ہی سے گزر کر مکہ مکرمہ جاتی ہے اور اس شہر کی خوبصورتی اور دلکشی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتی۔ مجھے گاہے گاہے جدہ شہر میں بہت سے دوست احباب سے ملنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ جدہ شہر میں ایک قریبی ساتھی مرزا احمد بیگ دینی تقریبات کے انعقاد میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے میرے حالیہ دورۂ حرمین شریفین کے دوران بھی یکم فروری کو عشاء کی نماز کے بعد ایک خوبصورت دینی پروگرام کا انعقاد کیا جس میں ان کے بہت سے دوست احباب نے شرکت کی۔ اس موقع پر میں نے جو گزارشات حاضرین کے سامنے رکھیں‘ انہیں کچھ ترامیم اور اضافے کے ساتھ قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں:
انسان ہزاروں سال سے اس سیارے پر آباد ہے اور انسانوں کی نئی نسلیں گزشتہ نسلوں کے بعد اپنے اپنے انداز میں تجارتی‘ سماجی اور دنیاوی معاملات کو آگے بڑھاتی آئی ہیں۔ دنیا میں انسان کی آمد کے مقصد کے حوالے سے مختلف علوم کے ماہرین مختلف طرح کی آرا پیش کرتے ہیں لیکن اس حوالے سے حقیقت اور وضاحت پر مبنی گفتگو ہمیشہ کتاب وسنت کی نصوص ہی سے ملتی ہے۔ اس زمین پر ہماری آمد کا حقیقی مقصد کیا ہے؟ اس حوالے سے قرآن مجید کے متعدد مقامات پر انسانوں کی رہنمائی کی گئی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الانبیاء کی آیات: 16 تا 17 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''ہم نے آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیل کے طور پر نہیں بنایا۔ اگر ہم یونہی کھیل تماشے کا ارادہ کرتے تو اسے اپنے پاس سے ہی بنا لیتے‘ اگر ہم ایسا کرنے والے ہی ہوتے‘‘۔
اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کی توجہات کو درست سمت مبذول کروانے کے لیے کائنات کی تخلیق پر غور وفکر کی دعوت دیتے ہوئے سورۂ آلِ عمران کی آیات: 190 تا 191 میں ارشاد فرمایا: ''آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقیناً عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ جو اللہ کا ذکر کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر لیٹے ہوئے کرتے ہیں اور آسمانوں وزمین کی تخلیق پر غور وفکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! تو نے یہ بے مقصد نہیں بنایا‘ تو پاک ہے پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے‘‘۔
اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الذاریات کی آیت: 56 میں ارشاد فرمایا ''میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں‘‘۔ ان آیات مبارکہ سے اس بات کو جانچنا کچھ مشکل نہیں کہ زمین پر انسان کی آمد کا اصل مقصد اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی کو بجا لانا ہے۔ اس بندگی کو بجا لانے کے بعد ہی انسان درحقیقت کامیابی سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے موت وحیات کے نظام کے مقصد کو سورۃ الملک کی آیت: 2 میں کچھ یوں بیان فرمایا ''(وہی ہے) جس نے موت اور حیات کو اس لیے پیدا کیا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے‘ اور وہ غالب (اور) بخشنے والا ہے‘‘۔ چنانچہ انسان کو اس مقصد کے حصول کیلئے اپنے وسائل اور توانائیوں کو بھرپور طریقے سے صرف کرنا چاہیے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ کی عبادت اور بندگی میں بہت سی چیزیں شامل ہیں لیکن دو اہم عبادات ایسی ہیں جن کی بجا آوری انسان کو اللہ تبارک وتعالیٰ کے قریب کرتی اور ان کے بہت سے مسائل بھی ان عبادات سے حل ہو جاتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی کے طریقۂ کار میں سے ایک اہم طریقہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں آکر اپنی دعائوں کو پیش کرنا اور دوسرا اہم طریقہ اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر ہے۔ ذکر کمالِ محبت کا آئینہ دار اور دعا کمالِ بندگی کی آئینہ دار ہے۔ جب انسان خلوص سے اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں آکر دعا کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی دعا کو قبول ومنظور فرماتے ہیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں انبیاء کرام علیہم السلام کی بہت سی دعائوں اور ان کی قبولیت کا بھی ذکر کیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دعائوں کی قبولیت کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی واضح کر دی کہ جب اللہ کے بندے اللہ کی بارگاہ میں آ کر دعائیں مانگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی دعائوں کو قبول ومنظور فرماتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کے غم اور اس کی دوری کو سورۃ الانبیاء کی آیات: 87 تا 88 میں کچھ یوں بیان فرمایا ''مچھلی والے (یونس علیہ السلام) کو یاد کرو! جبکہ وہ غصہ سے چل دیا اور خیال کیا کہ ہم اسے نہ پکڑ سکیں گے۔ بالآخر وہ اندھیروں کے اندر سے پکار اٹھا کہ الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں! تُو پاک ہے‘ بیشک میں ظالموں میں ہو گیا۔ تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات دے دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچا لیا کرتے ہیں‘‘۔ اس دعا سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جیسے اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کے غم کو دور کیا ویسے ہی اللہ تبارک وتعالیٰ ہر مسلمان اور مومن کے غم کو بھی دور فرمانے والے ہیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الانبیاء ہی میں حضرت ایوب علیہ السلام کی دعا کی وجہ سے ان کی بیماری کے ختم ہونے کا بھی ذکر فرمایا اور اس کو اہلِ ایمان کے لیے ایک نصیحت قرار دیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الانبیاء کی آیات 83 تا 84 میں ارشاد فرماتے ہیں ''ایوب (علیہ السلام) کی اس حالت کو یاد کرو جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ تو ہم نے اس کی (پکار) سن لی اور جو دکھ انہیں تھا‘ اسے دور کر دیا اور اس کو اہل وعیال عطا فرمائے بلکہ ان کے ساتھ ویسے ہی اور اپنی خاص مہربانی سے تاکہ سچے بندوں کے لیے باعثِ نصیحت ہو‘‘۔
جہاں انسان کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں کثرت سے اپنی مناجات کو پیش کرنا چاہیے وہیں کثرت سے اللہ کا ذکر بھی کرنا چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے ذکر کے فوائد کے حوالے سے قرآن مجید کے متعدد مقامات پر بڑے قیمتی ارشادات فرمائے ہیں۔ سورۃ الاحزاب کی آیات: 41 تا 43 میں ارشاد ہوا ''اے ایمان والو! اللہ کا ذکرکثرت سے کرو۔ اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہو۔ وہی ہے جو تم پر اپنی رحمتیں بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے (تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں) تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لے جائے اور اللہ مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے‘‘۔ اسی طرح سورۃ البقرہ میں اس بات کو واضح کیا گیا کہ جب کوئی شخص اللہ کا ذکر کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اُس کا ذکر فرماتے ہیں؛ چنانچہ انسانوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی کرتے ہوئے جہاں اس کی بارگاہ میں اپنی مناجات پیش کرنی چاہئیں وہیں کثرت سے ذکرِ الٰہی بھی کرنا چاہیے۔ ذکرِ الٰہی کی وجہ سے انسان کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی غیر معمولی تائید اور نصرت حاصل ہو جاتی ہے۔ انسان درحقیقت دنیا میں بندگی کے لیے آیا ہے اور زندگی بندگی کے ساتھ معنی خیز ہو جاتی ہے جبکہ بغیر بندگی کے زندگی انسان کی ناکامی پر منتج ہوتی ہے۔