میاں نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کے اگلے روز پارلیمانی ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس بلا لیا جس میں آرمی چیف کے علاوہ نیوی اور ایئر فورس کے سربراہوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اس اہم اجلاس میں چیف آف نیول سٹاف فصیح بخاری اور ایئر چیف مارشل پرویز مہدی نے گلہ کیا کہ جنرل مشرف نے ایک بہت بڑا قدم اٹھایا جو بھارت کے ساتھ جنگ میں تبدیل ہو سکتا تھا لیکن انہوں نے نیوی اور ایئر فورس کو اس آپریشن کی ہوا تک نہیں لگنے دی‘ انہیں اندھیرے میں رکھا گیا۔ اس دوران اگر بھارت کوئی فضائی یا سمندری حملہ کرتا ہے تو پاکستان ایئر فورس اور نیوی اس جنگ کیلئے تیار نہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے جواب دیا کہ اگر بھارت نے حملہ کیا تو انہیں ہم دیکھ لیں گے۔ سعید مہدی کے بقول پرویز مشرف میاں نواز شریف کو خوشامد کے ذریعے اپنے دام میں اتارنے کا ہنر خوب جانتے تھے‘ لیکن ایئر چیف اور نیول چیف ان کی گفتگو اور ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی سے مطمئن نہیں تھے۔
پھر وہی ہوا جس کا خدشہ نیول اور ایئر چیفس نے ظاہر کیا تھا۔ جوں جوں دن گزرتے گئے‘ پرویز مشرف کی بہادری ماند پڑتی گئی۔ یہ جوا بہت مہنگا ثابت ہو رہا تھا۔ گارگل میں فوجی جوان شہید ہو رہے تھے اور یہ آپریشن ملکی تاریخ کا بدترین ایڈونچر ثابت ہوا۔ پرویز مشرف نے سیکرٹری دفاع جنرل افتخار علی خان کے ذریعے وزیراعظم کو پیغام بھیجا کہ وہ وزیراعظم واجپائی سے کہیں کہ دونوں ممالک جنگ بند کر دیں اور کارگل آپریشن سے پہلے والی پوزیشن پر چلے جائیں۔ میاں نواز شریف کو پتا تھا کہ اس وقت واجپائی کو فون کرنا بہتر فیصلہ نہیں ہو گا کیونکہ بھارت جارحانہ موڈ میں تھا۔ نواز شریف اس لیے بھی فون کرنے سے کترا رہے تھے کیونکہ وہ 17 مئی 1999ء کو وزیراعظم واجپائی کو فون پر کہہ چکے تھے کہ وہ اپنے آرمی چیف سے بات کرکے انہیں فون کرتے ہیں مگر پھر انہوں نے کئی ماہ تک ان سے بات نہیں کی۔ یقینی طور پر میاں نواز شریف اس سوچ میں مبتلا ہوں گے کہ اب وہ کس طرح واجپائی کو ڈیڑھ ماہ بعد فون کرکے کہیں کہ اب ہمیں جنگ بند کر کے پرانی سرحدوں پر واپس چلے جانا چاہیے۔ پھر نواز شریف کو کسی تیسرے طاقتور فریق کو درمیان میں لانے کا خیال آیا‘ جس کی بات بھارت مان لے اور جنگی بندی ہو جائے۔ اس کے لیے انہوں نے امریکی صدر بل کلنٹن کو فون کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فون تین جولائی کو کیا گیا جس میں صدر کلنٹن سے فوری ملاقات کا کہا گیا۔ صدر کلنٹن نے کہا کہ چار جولائی امریکہ کی آزادی کا دن ہے اور چھٹی ہوتی ہے؛ تاہم میاں نواز شریف نے اصرار جاری رکھا اور کہاکہ بڑی ایمرجنسی ہے‘ اس لیے وہ چار جولائی کو مل لیں‘ ورنہ بہت دیر ہو جائے گی اور اس تاخیر کے نتائج کسی کے لیے بھی اچھے نہیں ہوں گے۔ صدر کلنٹن یہ سن کر چار جولائی کو ملاقات کیلئے تیار ہو گئے۔ جنرل پرویز مشرف اور جنرل ضیا الدین‘ جو مری میں تھے‘ کو پی اے ایف ایئربیس پنڈی پر بلایا گیا کہ وہ امریکہ جانے سے پہلے وزیراعظم کو بریف کریں۔ بریفنگ کے وقت بھی جنرل مشرف جوش سے بھرے ہوئے تھے۔ شاید وہ خود کو بہادر دکھانا چاہ رہے تھے لیکن اندر سے وہ ایسے نہیں تھے‘ ورنہ بقول سعید مہدی‘ نائن الیون کے بعد وہ امریکی انڈر سیکرٹری کی ایک فون کال پر یوں ڈھیر نہ ہوتے۔
کارگل پر جو ہزیمت اٹھانا پڑی بقول سعید مہدی‘ اس وجہ سے تھی کہ آرمی‘ ایئر فورس اور نیوی کی درمیان کوئی رابطہ نہ تھا۔ پرویز مشرف نے یہ سب کچھ اکیلے کیا تھا اور ایئر فورس اور نیول فورس کو بالکل خبر نہیں ہونے دی۔ وزیراعظم نواز شریف کو بھی بھارتی وزیراعظم واجپائی سے پتا چلا تھا۔ اب پرویز مشرف سیز فائر چاہتے تھے۔ امریکہ میں کلنٹن اور نواز شریف کی ون آن ون میٹنگ ہوئی جو کئی گھنٹوں چلی‘ اس طویل میٹنگ کا یہ فائدہ ہوا کہ واجپائی سیز فائر پر راضی ہو گئے اور پرانی پوزیشن پر جانے کی ہامی بھر لی۔ بل کلنٹن نے میاں نواز شریف کے وفد کو دیکھ کر کہا تھا:
Gentlemen thank you very much for gracing our independence day.
وزیراعظم کا یہ دورۂ امریکہ پُراسراریت کا رنگ لیے ہوئے تھا۔ اس لیے امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے تک میاں نواز شریف کے اس دورے کی خبر دفتر خارجہ کے بجائے امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی طرف سے پہنچی۔ سب لوگوں کو حیرانی ہوئی۔ جلدی جلدی اجلاس بلائے گئے‘ خفیہ میموز ڈھونڈے گئے اور بریف تیار کیے گئے اور ایمرجنسی میں اس اہم ملاقات کیلئے تیاریاں شروع کر دی گئیں۔ بلاشبہ اس وقت پرویز مشرف کی ناقص پلاننگ نے دو نیوکلیئر ملکوں کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ پوری دنیا پاکستان پر دباؤ ڈال رہی تھی بلکہ تنقید ہورہی تھی کہ کارگل پر غیرضروری جنگ چھیڑ کر خطے کے امن کو خطرے میں ڈالا گیا۔ بل کلنٹن اس وقت پاکستان کو اس مشکل صورتحال سے نکالنے کے لیے سر توڑ کوشش کررہے تھے لیکن ساتھ میں وہ بھارتی مؤقف کو بھی وزن دے رہے تھے۔ بھارت کو ٹھنڈا کرنا کلنٹن کے لیے مشکل کام تھا۔ نئی دہلی غصے میں تھا کہ اس کے ساتھ دھوکا ہوا۔ لاہور بلا کر امن کی بات اور پھر کارگل پر چڑھائی کر دی گئی۔ بھارتی جنرلز بھی جوابی کارروائی کیلئے بے چین تھے۔ نواز شریف اور کلنٹن کی ملاقات دوپہر کے بعد تک چلتی رہی۔ واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان بار بار رابطے ہوتے رہے۔ بھارت سیز فائز کیلئے ہرگز تیار نہیں تھا لیکن بالآخر صدر کلنٹن کے دباؤ سے بات بن گئی۔ نواز شریف نے واپسی پر اپنی فیملی کے ساتھ لندن رکنے کا فیصلہ کیا‘ سعید مہدی ان کے ساتھ رکے جبکہ باقی کا وفد پاکستان لوٹ آیا۔
سچ یہ ہے کہ کارگل کی جنگ پاکستان کیلئے تباہ کن ثابت ہوئی۔ بقول سعید مہدی دونوں اطراف سے ہزاروں فوجیوں نے جان دی۔ پاکستان کی ساکھ متاثر ہوئی اور بھارتی مؤقف کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔ یہ ایک ناقص جنگی پلان تھا۔ صرف چار جرنیلوں نے بیٹھ کر منصوبہ بنایا اور ان کے علاوہ فوج‘ نیوی اور ایئرفورس میں کسی کو علم نہ تھا۔ جب وطن واپس لوٹے تو میاں نواز شریف کو ان کے چند ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ وہ پرویز مشرف اور باقی تین جرنیلوں کو ریٹائر کر دیں۔ اس وقت فوج کے اندر پرویز مشرف کے خلاف اتنا غصہ تھا کہ اگر نواز شریف انہیں برطرف کرتے تو ردعمل کے بجائے ان کے اس ایکشن کی حمایت کی جاتی لیکن نواز شریف نے کارگل ایشو پر خاموشی اختیار کر لی جبکہ کچھ وقت گزرنے کے بعد جنرل مشرف اور باقی تین جرنیلوں؛ جنرل عزیز‘ جنرل محمود اور جنرل جاوید حسن نے اس ایشو پر پوری کہانی کو نیا رُخ دینا شروع کر دیا۔ سعید مہدی لکھتے ہیں کہ جنرل ضیا الدین بٹ جو ڈی جی آئی ایس آئی تھے‘ کو چاہیے تھا کہ وہ نواز شریف کو کارگل جنگ کے بارے سچی بات بتاتے اور اس آپریشن پر آرمی کے اندر موجود ناراضی کے بارے بتاتے لیکن جنرل بٹ نے نواز شریف کو نہیں بتایا کیونکہ ان کے جنرل پرویز مشرف سے تعلقات اتنے اچھے نہ تھے اور انہیں خدشہ تھا کہ وزیراعظم کو بریف کرنے سے یہ تعلقات مزید خراب ہوں گے۔ نواز شریف کی خاموشی کا فائدہ جنرل پرویز مشرف نے اٹھایا اور انہوں نے عسکری حلقوں میں یہ بات پھیلانا شروع کر دی کہ انہوں نے بھارت کو شہ رگ سے پکڑ لیا تھا اور کشمیر بس چند دنوں کی بات تھی کہ نواز شریف امریکہ چلے گئے اور سیز فائر کرا دیا۔ نواز شریف نے اپنی فوج کو سپورٹ دینے کے بجائے کشمیر حاصل کرنے کا بہترین موقع ضائع کر دیا اور یوں ہمارے فوجی جوانوں کی کارگل پر قربانیاں ضائع چلی گئیں۔ پھر اچانک ایک دن میاں نواز شریف کو ایسی ناقابلِ یقین بلکہ صدمے بھرپور اطلاع ملی کہ وہ وقت آن پہنچا کہ جنرل پرویز مشرف اور نواز شریف میں سے ایک کو جانا ہوگا۔ (جاری)