"RKC" (space) message & send to 7575

گاؤں کا استاد غلام محمد

جاڑے کا موسم وچھوڑے کی خبریں لاتا ہے۔ پہلے پتہ چلا کہروڑ پکا کے ڈاکٹر حافظ طاہر مسعود فوت ہو گئے ہیں تو اب گاؤں سے خبر آئی ہے کہ استاد غلام محمد چل بسے۔ ڈاکٹر حافظ طاہر نعیم بھائی کے دوست تھے‘ اکٹھے قائداعظم میڈیکل کالج بہاولپور میں پڑھے‘ سٹوڈنٹس یونین دی ایگلز کے بہاولپور کے چیف رہے۔ حافظِ قرآن لیکن بائیں بازو کی سیاست کے علمبردار۔ ساری عمر جس پر یقین کیا وہی کیا۔ نعیم بھائی جب چھٹیوں میں گاؤں آتے تو اماں کو اپنے کالج کے دوستو ں اور پروفیسروں کی کہانیاں سناتے تو جو نام ہماری یادداشتوں میں آج تک محفوظ ہیں ان میں راؤ ابوبکر‘ حافظ طاہر‘ نعیم پرنس نمایاں تھے۔ ڈاکٹر اشو لال‘ ڈاکٹر جاوید کنجال‘ ڈاکٹر ارشد شہانی‘ ڈاکٹر اقبال دستی‘ ڈاکٹر شہزاد بھی بہت قریبی تھے لیکن کالج لائف کا ذکر حافظ طاہر‘ راؤ ابوبکر اور نعیم پرنس کے بغیر مکمل نہ ہوتا تھا۔ وہ سب ہمارے لیے اساطیری کردار تھے جن کے کالج کے قصے کہانیوں کا ہم گاؤں میں بے چینی سے انتظار کرتے تھے۔ خیر حافظ طاہر پر بعد میں لکھوں گا کیونکہ آج مجھے اپنے گاؤں کے اس کردار کے بارے لکھنا ہے جنہیں زندگی میں ایک جنون تھا کہ گاؤں کے بچے گرمیوں کی چھٹیوں میں بیکار نہ بیٹھیں بلکہ ہر روز چند گھنٹے سکول آئیں۔ اگرچہ ہم بچے بہت تنگ ہوتے تھے۔ میں اگر اپنے گاؤں اور اردگرد کے علاقے میں دیکھوں کہ اس تعلیم کا کریڈٹ کس کو دینا ہے تو پہلا کریڈٹ بلاشبہ میرے نانا غلام حسن مرحوم کو جاتا ہے جنہوں نے پورے علاقے میں تعلیم عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ چندرائن سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے جو ہمارے گاؤں سے کئی میل دور تھا۔ روزانہ وہاں جاتے‘ گاؤں کے بچے ہوں یا اردگرد علاقوں کے‘ سب کو مائل کیا۔ مزاج اور طبیعت ایسی تھی کہ 1960ء کی دہائی میں اپنی بڑی بیٹی کو بی اے کے بعد پنجاب یونیورسٹی ماسٹرز کرنے بھیجا۔ ذرا تصور کریں کہ آج سے ساٹھ سال قبل اس گاؤں میں بیٹی کو اعلیٰ تعلیم دلوائی جہاں بجلی 1982ء میں آئی تھی۔ گھر سے کوٹ سلطان ریلوے سٹیشن دس کلو میٹر دور تھا اور وہاں سے لینے اور چھوڑنے تک کے حالات کا آپ اندازہ کر سکتے ہیں۔ صرف یہاں تک نہیں بلکہ جب اس بیٹی نے ماسٹرز کے بعد لاہور میں بینک کی نوکری جوائن کی تو نہ صرف اجازت دی بلکہ اس کی مرضی کی شادی بھی کی۔ میری اس خالہ کی شادی کی مخالفت پورے گاؤں نے کی تھی کہ خاوند میجر نواز ملک کا تعلق کلر کلہار کے گاؤں کرولی سے تھا۔ لیکن تمام تر مخالفت کے باوجود ان کی شادی کی۔ جب میں بڑا ہوا تو مجھے اپنے نانا کی خوبیوں اور کردار کا علم ہوا تو میں جن لوگوں کی دل سے آج بہت عزت احترام کرتا ہوں ان میں وہ ٹاپ پر ہیں۔ ذرا تصور کریں کہ ساٹھ‘ ستر سال پہلے کے دیہاتی معاشرے میں بیٹی کو اعلیٰ تعلیم کیلئے پنجاب یونیورسٹی لاہور بھیجنا اور پھر بینک نوکری کی اجازت اور تمام تر مخالفت کے باوجود پسند کی شادی کتنا مشکل اور ناممکن کام ہو گا۔ ان کے بعد میں نے کسی کو تعلیم کیلئے بے چین دیکھا تو وہ استاد غلام محمد تھے اور بعد میں میرے اپنے بڑے بھائی یوسف بھی اس مزاج کے تھے۔
استاد غلام محمد پورے گاؤں کے لڑکوں کو گرمیوں کی چھٹیوں میں ان کے گھروں سے اکٹھا کرتے‘ بند سکول کھلواتے اور وہاں چار پانچ گھنٹے پڑھاتے تھے۔ ان جیسا جذبہ اور دلچسپی میں نے کم ہی استادوں میں دیکھی ہو گی۔ وہ پوری پانچ کلاسز پڑھاتے تھے اور سب کے الگ الگ پیریڈ اور کلاس۔ ہر ایک پر نظر۔ شاید پانچ دس روپے ماہانہ فیس بھی لیتے تھے وہ بھی اس لیے کہ مفت میں نہ بچے پڑھتے ہیں نہ ہی والدین کو غرض ہوتی ہے۔ مفت کی چیز کی قدر بہت کم لوگ کرتے ہیں۔ اگر کسی کے پاس پیسے نہیں ہیں تو بھی کسی کو گھر ذلیل کر کے نہیں بھیجا جاتا تھا نہ ہی والدین کو سنائی جاتی تھیں۔ ایک فقیر ٹائپ استاد جسے پڑھانے کا جنون تھا۔ وہی بات جس نے فیس دے دی اس کا بھی بھلا جس نے نہ دی اس کا بھی۔ بس ایک شوق تھا‘ ایک جنون کہ بچوں کو گرمیوں کی تین ماہ کی چھٹیوں میں مصروف رکھنا ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے اپنے گاؤں کے پرائمری سکول میں بیٹھ کر ان سے سبق پڑھنا۔ میری والدہ کے وہ فرسٹ کزن تھے۔ میری والدہ کو بچوں کی تعلیم کی بہت فکر رہتی تھی لہٰذا سکول میں فالو اَپ کرتی تھیں۔ وہ کزن ہونے کے باوجود ان کی فیس ضرور مجھے دیتیں کہ استاد صاحب کو دینی ہے۔ غلام محمد صاحب کہتے‘ اس کی کیا ضرورت تھی اب بہن کے بچوں سے بھی فیس لوں گا؟ مسکرا کر رکھ لیتے۔ اگر ہم گاؤں کے بچوں کو نماز کا صحیح طریقہ سکھایا تو وہ بھی استاد غلام محمد نے۔ اسلام‘ قرآن پاک‘ سیرت نبی پاکﷺ اور نماز کے بارے الگ سے روزانہ ایک پیریڈ ہوتا تھا۔ انہوں نے ہی ہمیں نماز میں پڑھی جانے والی آیتیں زبانی یاد کرائی تھیں جو آج تک نماز میں کام آتی ہیں۔ کبھی کبھی وہ غصہ بھی کرتے اور دو تین بید بھی رسید کر دیتے تھے۔ ان کا بید لگانے کا انداز بڑا دلچسپ تھا۔ وہ چہرے کے تاثرات ایسے بناتے کہ آج تو خیر نہیں۔ پوری قوت سے بید گھماتے لیکن ہمارے پھیلے ہوئے چھوٹے ہاتھ دیکھ کر انہیں رحم آجاتا اور دھیرے سے بس ٹچ کرتے کہ جاؤ اب سبق یاد کرو۔ لیکن وہ چند لمحے اس بید کی ہیبت پیدا کرنے کیلئے کافی تھے۔ پھر ایک پیریڈ مزاح‘ لطیفوں اور گپوں کا بھی چلتا تھا‘ کھیل کود بھی ہوتی۔ گرمیوں میں ہمارے علاقے میں بارش کم ہوتی تھی تو ان کا یقین تھا کہ بچے دھوپ میں دو نفل نماز پڑھیں تو خدا بارش برسا دیتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ان تین ماہ میں دو تین دفعہ ہم دھوپ میں نماز پڑھ کر دعا مانگتے اور شاید آپ کو لگے میں مبالغہ کررہا ہوں لیکن ہر دفعہ بارش ہوئی۔ جب بارش شروع ہوتی تو استاد صاحب خوشی سے جھومتے پھرتے اور سب بچوں کو چھٹی دی جاتی کہ جاؤ بارش میں نہاؤ۔ استاد صاحب کی ہر گھر میں عزت تھی۔ ایک تو نمبردار گھرانے سے تھے تو دوسرے پورے گاؤں کے استاد۔ کہیں سے گزرتے تو سب عزت احترام سے سلام کرتے۔ یہ کام آج تک جاری تھا۔ چند برس پہلے میں گھر گیا ہوا تھا کہ کسی نے مجھے آکر بتایا کہ استاد غلام محمد آپ سے ملنے آرہے ہیں۔ میں باہر دوڑا گیا تو وہ صحن میں کھڑے تھے۔ جھک کر گھٹنوں کو ہاتھ لگایا تو انہوں نے بڑے پیار سے گلے لگایا۔ ان کا بیٹا ساتھ تھا۔ میں نے احتجاج کیا کہ آپ خود کیوں آئے مجھے بلوایا ہوتا۔ کچھ عرصہ پہلے ان کے گھر ملنے گیا۔ اپنے بچوں کو خوب پڑھایا۔ بیٹی ڈاکٹر بن گئی‘ دوسرے بچے بھی زندگی میں کامیاب ہیں۔ عموماً استاد‘ تھانیدار اور صحافی کے بچے بگڑ جاتے ہیں لیکن استاد غلام محمد نے اپنے چچا اور میرے نانا غلام حسن کی طرح نہ صرف گاؤں کو تعلیم دی بلکہ اپنے بچوں کو بھی پیچھے نہیں رہنے دیا۔ پچھلے سال ان کے گھر گیا تو کافی دیر تک ان سے گپیں ماریں‘ ان کے ساتھ ایک ویلاگ بنایا۔
ایک دفعہ اپنے دوست ارشد شریف کو کہا تھا کہ انسان کی زندگی صرف چالیس برس تک ہے‘ بعد میں آپ دھیرے دھیرے موت کا سفر طے کرتے ہیں۔ والدین‘ رشتہ دار‘ بزرگ استاد ایک ایک کر کے دنیا چھوڑنا شروع کرتے ہیں۔ روز ایک نیا دکھ ایک نئی اداسی‘ نیا وچھوڑا‘ زندگی دھیرے دھیرے آپ سے آپ کا ماضی‘ ماضی کے کردار سب کچھ چھیننا شروع کر دیتی ہے۔ ارشد خود پچاس تک نہ پہنچ سکا اور ایک خوبصورت انسان کو ظالموں نے مار ڈالا۔ اس موسم میں استاد غلام محمد کی وفات دل پر ایک نیا زخم لگا گئی ہے۔ گاؤں دھیرے دھیرے خالی ہو گیا ہے۔ قبرستان جاؤں تو لگتا ہے میرے بچپن لڑکپن کا گاؤں تو یہاں آن بسا ہے۔ قبرستان میں پھرتے پھرتے ان سب کے نام پڑھتا ہوں تو آنسو بہہ نکلتے ہیں۔ اب اس قبرستان میں ایک نئی قبر بن گئی ہے۔ نیا مسافر وہاں جا بسا جس نے گاؤں کے بچوں کو تمیز‘ سلیقہ سکھایا اور تعلیم دی۔ ایک خوبصورت استاد رخصت ہوا‘ میری زندگی کا ایک اور اہم کردار قبر میں جا لیٹا۔ گاؤں کی اداسی اور ویرانی مزید گہری‘ اور قبرستان کی رونق بڑھ گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں