"RKC" (space) message & send to 7575

خواجہ آصف‘ بل کلنٹن اور نواز شریف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں بڑی دلچسپ بات کی ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں امریکی صدر بل کلنٹن کے مارچ 2000ء میں کیے گئے دورۂ پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تب اُن کی چند گھنٹے کی آمد پر مشرف حکومت اور ان کے حواریوں نے خوب شادیانے بجائے اور سبھی بچھے جارہے تھے۔ کیا خواجہ آصف کو علم ہے کہ بل کلنٹن کے اس دورے سے نواز شریف کیسے پھانسی لگنے سے بچے تھے اور جنرل پرویز مشرف سے انہوں نے کیا وعدہ لیا تھا؟
اس ایشو پر آنے سے پہلے ذرا اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ کچھ عرصے سے ہمارے وزیر دفاع خواجہ آصف مسلسل امریکہ کے خلاف تقریریں کر رہے ہیں۔ ایسی تقریریں کبھی عمران خان کرتے تھے‘ ان کے جیل جانے کے بعد یہ نشست خواجہ آصف نے سنبھال رکھی ہے۔ مگر خواجہ آصف چونکہ کتاب اور تاریخ پڑھنے والے بندے ہیں لہٰذا ان کی تنقید میں وہ کاٹ نہیں ہوتی جو عمران خان کی تنقید میں ہوتی تھی۔ خواجہ صاحب تاریخی حوالوں سے بات کرتے ہیں جبکہ عمران خان کی باتیں زیادہ تر جذباتیت پر مبنی ہوتی تھیں جن کا مقصد عوام میں امریکہ کے خلاف جذبات بھڑکا کر اپنا قد اونچا کرنا ہوتا تھا۔
پاکستان میں اینٹی امریکہ نعرہ بہت بکتا ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نے تو اس پر پوری کتاب لکھ دی تھی کہ امریکہ کیسے دوست کے بجائے فوراً آقا بن جاتا ہے۔ پاکستانی سیاست اور سیاستدان بڑے دلچسپ ہیں۔ یہاں کم و بیش سبھی امریکہ کی حمایت سے اقتدار میں آتے ہیں اور کچھ عرصہ بعد انہیں امریکہ برا لگنا شروع ہو جاتا ہے۔ خواجہ آصف اس کی تازہ مثال ہیں۔ جب عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد شہباز شریف وزیراعظم بنے تو پاکستان کی آئی ایم ایف سے ڈیل امریکہ ہی نے کرائی تھی جس کا اعتراف خود وزیراعظم نے کیا تھا‘ اس کیلئے جنرل باجوہ نے امریکی حکام سے درخواست کی تھی۔ یہ ڈیل نہ ہوتی تو ڈالر آج پانچ سو روپے کا ہندسہ عبور کر چکا ہوتا۔ یہ پہلی دفعہ نہیں تھا کہ ہم امریکہ سے امداد لے رہے تھے‘ ہمیں تو فوجی اسلحہ ملتا ہی امریکہ سے رہا ہے‘ معاشی امداد بھی امریکہ دیتا رہا۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانیہ دلوالیہ ہو گیا تھا‘ا س نے امریکہ سے ایک ارب ڈالر کا قرضہ مانگا تاکہ اپنی تعمیرِ نو کر سکے‘ لندن اور دیگر شہر جرمن طیاروں کی بمباری سے تباہ ہو چکے تھے۔ امریکہ نے قرض دینے کی جو شرائط رکھی تھیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ آپ ان ملکوں کو آزادی دیں جنہیں کالونی بنا رکھا ہے۔ یوں یہ دوسری عالمی جنگ اور امریکہ کا دباؤ تھا کہ برطانیہ ہندوستان کو آزادی دینے پر آمادہ ہوا۔ اس کے یہاں سے جلدبازی میں نکلنے کی وجہ سے لاکھوں لوگ مارے گئے کیونکہ انگریزوں نے باقاعدہ پلان کر کے اس ملک کو آزاد نہیں کیا تھا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کواس حوالے سے منصوبہ بندی کیلئے ڈیڑھ دو سال کا وقت دیا گیا لیکن اس نے دو اڑھائی ماہ میں سب کچھ الٹ پلٹ کر دیا جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ مارے گئے۔ بہرکیف‘ ایوب خان نے امریکہ کو دو اڈے بھی دیے۔ بھٹو صاحب کے بارے بروس ریڈل نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا کہ ان کی ہنری کسنجر سے ملاقات ہوئی تھی اور مطمئن ہونے کے بعد انہیں پاکستان میں اقتدار دیا گیا تھا۔ بھٹو صاحب نے تو امریکہ کو گوادر دینے کی پیشکش بھی کی تھی لیکن امریکہ نے انکار کر دیا تھا۔ یہ سب انکشافات ان دستاویزات میں موجود ہیں جو ڈی کلاسیفائیڈ کی گئیں۔ وہی بھٹو بعد میں امریکہ کے مخالف بن کر ابھرے۔ جنرل ضیا بھی امریکہ کی مدد سے دس سال نکال گئے اور آخر میں جنیوا معاہدے پر دستخط کی وجہ سے امریکہ سے ناراض ہوگئے۔ بینظیر بھٹو نے اپنے والد کے انجام سے یہ بات سیکھی کہ امریکہ سے بگاڑ کر نہیں رکھنی۔ بینظیر بھٹو نے اپنے والد کی اینٹی امریکہ پالیسی کو کبھی فالو نہیں کیا نہ ہی کبھی امریکہ کو ان کی پھانسی کا ذمہ دار سمجھا۔ اگر آپ غور کریں تو بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری نے بڑی سمجھداری سے امریکہ کو پاکستان میں تین دفعہ اقتدار حاصل کرنے کیلئے استعمال کیا۔ پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو کی ڈیل میں بھی امریکہ کی منظوری شامل تھی۔ سابق امریکی وزیر خارجہ کنڈو لیزا رائس نے اپنی کتاب کے ایک باب میں پوری تفصیل سے بیان کیا ہے کہ کیسے وہ بینظیر بھٹو اور پرویز مشرف کو قریب لائی تھیں۔ بینظیر بھٹو کے بعد اسی ڈیل کے تحت آصف علی زرداری حکومت بنا پائے تھے۔ لیکن مجھے حیرانی ہے کہ خواجہ آصف صدر کلنٹن کے اُس دورۂ پاکستان پر تنقید کر رہے ہیں جو اصل میں نواز شریف کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا تھا۔
اب تو یہ بات کتابوں میں بھی چھپ چکی ہے کہ پرویز مشرف کے مارشل لاء کے بعد اگر کسی کو میاں نواز شریف کی فکر تھی تو وہ بل کلنٹن تھے۔ جب کلنٹن نے بھارت کے دورے کا پلان بنایا تو پاکستان آنا ان کے شیڈول میں شامل نہیں تھاکیونکہ اس وقت جنرل پرویز مشرف یہاں مارشل لاء لگا چکے تھے اور کلنٹن مشرف سے ہاتھ ملانے کو تیار نہ تھے۔ سعودی حکمران چاہتے تھے کہ بل کلنٹن جنوبی ایشیا کے دورے میں پاکستان کا دورہ بھی ضرور کریں ورنہ جنرل مشرف کی سبکی ہو گی اور ان کی حکمرانی کو جائز نہیں سمجھا جائے گا۔ کلنٹن تیار ہو گئے لیکن انہوں نے اپنے عرب دوستوں کے سامنے دورۂ پاکستان کیلئے چند شرائط رکھ دیں۔ پہلی شرط یہی تھی کہ وہ اسلام آباد صرف چند گھنٹے رکیں گے۔ دوسری شرط یہ تھی کہ وہ جب مشرف سے ہاتھ ملائیں تو اس وقت وہاں کوئی کیمرہ نہیں ہو گا اور نہ ہی اس مصافحہ کی کوئی تصویر اخبارات کو ریلیز ہو گی۔ تیسری شرط یہ تھی کہ وہ پاکستانی قوم سے ٹی وی پر خطاب بھی کریں گے اور آخری لیکن اہم شرط یہ تھی کہ اس دورے کے بدلے پرویز مشرف نواز شریف کو پھانسی کی سزا نہیں دیں گے۔ امریکیوں کا کہنا ہے کہ بل کلنٹن نہیں چاہتے تھے کہ پاکستان کو دوبارہ اُس صورتحال کا سامنا کرنا پڑے جس کا بھٹو کی پھانسی کے بعد کرنا پڑا تھا۔ پرویز مشرف کو ہر شرط منظور تھی کیونکہ اس دورے کا مطلب تھا کہ امریکہ نے ان کی فوجی حکومت کو تسلیم کر لیا اور اب وہ پاکستان کے جائز حکمران مانے جائیں گے۔ پھر وہی ہوا۔ جب نواز شریف کو چودہ برس قید کی سزا دی گئی تب کلنٹن نے ہی سعودیوں کو اس معاملے میں ڈالا کہ نواز شریف کو جیل سے باہر نکلوائیں۔بعد میں نواز شریف کو کیسے اٹک قلعے سے نکال کر سعودی عرب لے جایا گیا وہ سب جانتے ہیں۔ یہ معاملہ اتنا خفیہ رکھا گیا کہ غوث علی شاہ نے ہمارے سامنے میاں نواز شریف سے لندن میں ڈیوک سٹریٹ میں ان کے دفتر میں گلہ کیا کہ سائیں ساتھ والے سیل میں مَیں مسکین پڑا تھا کیا اُس بڑے جہاز میں میری لیے ایک سیٹ بھی نہ تھی۔ مجھے پتا بھی نہیں چلنے دیا۔ نواز شریف کو غوث علی شاہ کی یہ شکوہ بھری گفتگو پسند نہیں آتی تھی اور شاید اس لیے پاکستان لوٹ کر سب سے پہلے غوث علی شاہ سے جان چھڑائی کہ ہر وقت وہ اٹک قلعہ یاد دلاتے رہتے تھے۔ اس پس منظر میں جب خواجہ آصف اسمبلی میں بل کلنٹن کے مارچ 2000ء کے دورہ پر تبرا پڑھ رہے تھے تو پتا نہیں وہ اس دورے کے مقاصد کو‘ جس سے ان کے لیڈر کی جان بخشی ہوئی تھی‘ جان بوجھ کر نظرانداز کررہے تھے یا پھر وہی بات کہ سیاستدان زندگی بھر کسی کا شکرگزار اور ممنون نہیں ہوتا‘ لہٰذا اب بل کلنٹن کو بھی رگڑا لگانے میں کوئی حرج نہیں۔ میں خواجہ صاحب کی اس خوبی کا قائل ہوں کہ بندہ بیشک ضائع ہو جائے لیکن جملہ ضائع نہ ہو۔ کلنٹن کا احسان مند ہونا دور کی بات‘ میاں نواز شریف کے قریبی وزیر الٹا اب اس پر تبرا پڑھ رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں