حکومت پاکستان اور ٹرمپ خاندان کی کرپٹو کمپنی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط
ورلڈ لبرٹی فنانشل کے تعاون سے ڈیجیٹل ادائیگیوں ،سرحد پار لین دین میں جدت لائی جائیگی ،کمپنی سی ای اوکی قیادت میں وفد کی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں وفاقی کابینہ کا نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کا فیصلہ،ڈیزائن پر غورکیلئے کمیٹی تشکیل،معرکہ حق کے بعد ہمارے طیاروں کی مانگ بڑھ گئی،وزیر اعظم، امیر قطر کا ٹیلیفونک رابطہ
اسلام آباد (نامہ نگار،خصوصی نیوز رپورٹر،اے پی پی،مانیٹرنگ ڈیسک،دنیا نیوز)پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان سے منسلک کرپٹو کرنسی کے کاروبار سے وابستہ کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل (ڈبلیو ایل ایف)کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر د ستخط کئے ہیں۔ایم او یو کے تحت ورلڈ لبرٹی فنانشل کے تعاون سے ڈیجیٹل ادائیگیوں ،سرحد پار لین دین میں جدت لائی جائیگی۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حکومت اور ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے ہیں جو کہ ڈبلیو ایل ایف سے منسلک ادارہ ہے ۔وزیراعظم نے پاکستان کی ڈیجیٹل مالیاتی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی دلچسپی کو سراہتے ہوئے پاکستان کے تیزی سے عالمی ڈیجیٹل فنانس کا حصہ بننے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق شہباز شریف سے امریکی کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زچری وٹکوف کی قیادت میں وفد نے بدھ کو یہاں ملاقات کی جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے خصوصی معاون سید طارق فاطمی اور چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب بھی شریک ہوئے ۔
اس موقع پر ڈیجیٹل ادائیگیوں میں جدت کے لیے پاکستان کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے ۔ وزیراعظم نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ڈیجیٹل پاکستان کے حوالے سے اپنا ویژن پیش کیا جس کا مقصد شہریوں کو زیادہ بہتر رابطوں، رسائی اور شفاف ذرائع کی سہولت کو فروغ دینا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور مالیاتی جدت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی رفتار پاکستان کی وسعت اختیار کرتی ڈیجیٹل معیشت کا ایک اہم جزو ہے ۔اس موقع پر زچری وٹکوف نے محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے لئے پاکستان کے ساتھ تعاون میں گہری دلچسپی ظاہر کی جس میں سرحد پار ادائیگیوں اور زر مبادلہ کے عمل میں جدت شامل ہے ۔ انہوں نے پاکستان کے پالیسی فریم ورک کو سراہا جس کی بدولت پاکستان عالمی ڈیجیٹل فنانس کے منظرنامے میں تیزی سے ابھر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا آئندہ دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیجیٹل ادائیگیوں اور سرحد پار لین دین میں جدت کے امکانات تلاش کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں ۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زچری وٹکوف نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے ۔
ادھر آئی ایس پی آر کے مطابق ورلڈ لبرٹی فنانشل امریکا کے اعلیٰ سطح وفد جس کی قیادت معروف عالمی فِن ٹیک ادارے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زکری وِٹکوف کر رہے تھے نے راولپنڈی میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیرسے ملاقات کی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا پاکستان بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ساتھ شراکت داری کو قومی ترقی کے اہم ستون کے طور پر دیکھتا ہے ۔آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران پاکستان کی ابھرتی ہوئی معاشی صورتحال، ڈیجیٹل فنانس اور فِن ٹیک کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد کی جانب سے پاکستان میں بین الاقوامی نجی سرمایہ کاری گروپس کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا اظہار کیا گیاجسے پاکستان کی معیشت پر عالمی اعتماد میں اضافے کی علامت قرار دیا گیا۔
زکری وِٹکوف نے پاکستان میں فِن ٹیک سیکٹر کے وسیع امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا پاکستان خطے میں مالی شمولیت اور کراس بارڈر ڈیجیٹل فنانس کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے معاشی استحکام، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور نجی شعبے کی ذمہ دارانہ شمولیت کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا۔بی بی سی کے مطابق خیال رہے کمپنی کے سی ای او زچری وٹکوف امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف کے بیٹے ہیں۔دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز نے اس مفاہمتی یادداشت سے آگاہ ایک ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز پاکستان کے مرکزی بینک کے ساتھ کام کرے گی اور اپنے ایک ارب ڈالر سٹیبل کوائن کو ادائیگیوں کے ڈیجیٹل سٹرکچر کے ساتھ ضم کرے گی جبکہ پاکستان بھی اس کے ذریعے اپنا ذاتی ڈیجیٹل کرنسی سٹرکچر چلا پائے گا۔
اسلام آباد(نامہ نگار،اے پی پی ،مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی کابینہ نے نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن پر غور کے لئے کابینہ کمیٹی تشکیل دے دی ۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا۔وفاقی کابینہ کو وزارت خزانہ کی جانب سے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے جاری ہونے والے بینک نوٹوں کے نئے ڈیزائن کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا نئے کرنسی نوٹوں کو جدید عصری تقاضوں کے حوالے سے ڈیزائن کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ ایک سو، پانچ سو، ایک ہزار اور پانچ ہزار روپے کے نئے ڈیزائن کے بینک نوٹ متعارف کروائے جائیں گے ۔نئے کرنسی نوٹوں میں زیادہ بہتر سکیورٹی تھریڈ استعمال کیا جائے گا۔ نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن میں پاکستان کی علاقائی اور جغرافیائی تنوع اور تاریخی یادگاروں کو جگہ دی گئی ہے جبکہ خواتین کی قومی ترقی میں شمولیت اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے اہم معاشرتی موضوعات کو بھی ڈیزائن کا حصہ بنایا جائے گا۔
وفاقی کابینہ نے کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن پر غور کے لئے کمیٹی تشکیل دے دی۔وفاقی کابینہ نے وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کی جانب سے پیش کی گئی پرائیویٹ حج آپریٹرز کمپنیز کی تھرڈ پارٹی کے ذریعے رجسٹریشن اور جانچ کے حوالے سے پرائیویٹ حج پالیسی 2027-2030 کا مسودہ کابینہ اراکین کی آرا کی روشنی میں مزید غور و خوض کے لئے حج پالیسی کمیٹی کو بھجوانے کی ہدایت کی۔وفاقی کابینہ نے کمیٹی برائے توانائی کے 24 دسمبر 2025 اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 23 دسمبر 2025 کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق بھی کر دی۔کابینہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا معاشی استحکام آگیا ، اب ترقی کیلئے اقدامات کریں گے ، پاکستان خوشحالی کے سفر پر گامزن ہوگا ، دہشت گردی کا مکمل صفایا کریں گے ، معرکہ حق کے بعد دنیا میں ہمارے طیاروں کی مانگ بڑھ گئی،کئی ممالک طیاروں کی بات کر رہے ہیں، معیشت کو فائدہ ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط خوش آئند ہیں، اس ایم او یو سے ملکی معیشت کو فائدہ ہو گا اور بین الاقوامی ٹرانزیکشن میں آسانی آئے گی۔
وزیراعظم نے پاکستان ایئر فورس کو تیمور ویپن سسٹم اور پاک بحریہ کو ایل وائی 80 کے کامیاب تجربے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا معرکہ حق میں کامیابی کے بعد دنیا میں ہمارے لڑاکا طیاروں کی مانگ بڑھ گئی ہے ، بہت سے ممالک طیاروں کے حصول کیلئے بات چیت کر رہے ہیں، ہماری دفاعی پیداوار کی صنعت کو اس سے تقویت ملے گی۔ وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں افواج پاکستان ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور رینجرز کی کامیاب کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا دہشت گردی کا مکمل صفایا کرکے دم لیں گے ، پاکستان کامیاب ہو گا۔ انہوں نے کابینہ کو اپنے دورہ کوئٹہ سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا این 25 شاہراہ ، کراچی تا چمن جو 850 کلومیٹر طویل ہے کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے ، یہ منصوبہ ایک سال میں مکمل ہو گا اور وفاق اس پر 400 ارب روپے خرچ کرے گا، یہ وہ پیسہ ہے جو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں گرنے کے بعد فائدہ عوام کو منتقل کرنے کی بجائے اس شاہراہ کی تعمیر کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔
وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا بلوچستان میں 75 ارب روپے کی لاگت سے کسانوں کیلئے زرعی پیکیج کا منصوبہ بھی مکمل ہو چکا ہے جس کیلئے وفاق نے 50 ارب روپے فراہم کئے ، سولر پینلز کے استعمال کے بعد بجلی چوری ختم ہو گئی ہے اب کسانوں کو سولر سے زراعت کیلئے پانی مل رہا ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں سات دانش سکولوں کی تعمیر کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے ، یہ منصوبہ بھی ایک سال میں مکمل ہو گا۔ انہوں نے وفاقی کابینہ کو ایک لاکھ لیپ ٹاپس کی تقسیم اور ہزاروں طلبا کی اعلیٰ تعلیم کیلئے وظائف کی فراہمی کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ دریں اثناء قطر کے امیرشیخ تمیم بن حمد الثانی اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا ۔ بدھ کو وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے ٹیلی فون کیا۔ اپنی گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قطر کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی موجودہ رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا اور ان برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
مشرق وسطیٰ کی حالیہ پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔علاوہ ازیں وزیراعظم نے سول سروس کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لئے اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کارکردگی جانچنے کا جامع اور موثر نظام وضع کرنے کیلئے سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت مجوزہ سول سروسز اصلاحات اور وزارتوں میں کارکردگی کی جانچ کے نظام کی سفارشات کا جائزہ لینے کیلئے جائزہ اجلاس ہوا۔ وزیر اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسروں کی تحسین سول سروسز کی مجموعی بہتری کے لئے نہایت ضروری ہے ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ متعلقہ کمیٹی سول سروس میں ارتقائی مگر موثر اور جامع اصلاحاتی سفارشات جلد از جلد مرتب کرے ۔ افسروں کی کارکردگی کی جامع جانچ کی بنیاد پر ان کی ترقی، مالی فوائد اور دیگر مراعات کا نظام وضع کرنے کے لئے سفارشات مرتب کی جائیں۔