خوارج ٹی ٹی پی اور تحریک طالبان افغانستان کاگٹھ جوڑ،دہشتگردوں کو بحرہند میں ڈبو دینگے،وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کا اجرا:قومی یکجہتی کی آج سب سے زیادہ ضرورت :شہباز شریف

خوارج ٹی ٹی پی اور تحریک طالبان افغانستان کاگٹھ جوڑ،دہشتگردوں کو بحرہند میں ڈبو دینگے،وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کا اجرا:قومی یکجہتی کی آج سب سے زیادہ ضرورت :شہباز شریف

قرضوں سے نجات ،غربت ،بیروزگاری کا خاتمہ مشکل ہے ناممکن نہیں:قومی پیغام امن کمیٹی سے گفتگو ،صحت کارڈ میں شفافیت یقینی بنائی جائے ، وزیراعظم کا افتتاحی تقریب سے خطاب

اسلام آباد (نامہ نگار،اے پی پی)وزیراعظم شہباز شریف نے ملک سے غربت، بیروزگاری کے خاتمے ، قرضوں سے نجات حاصل کرنے اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے قومی اتحاد اور یکجہتی کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے نہ تھی،ملک میں دہشت گردی کے ناسور نے دوبارہ سر اٹھایا ہے ، خوارج، ٹی ٹی پی اورتحریک طالبان افغانستان کا گٹھ جوڑ ہے ،ہمارے دشمنوں کے ذریعے انہیں وسائل پہنچ رہے ہیں،دہشت گردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحر ہند میں ڈبو دیں گے ،تمام مذاہب کے پیروکاروں کو اپنے طریقوں سے عبادت اور تہوار منانے کا پورا حق ہے ، اﷲتعالیٰ نے پاکستان کو جو وسائل عطا کئے ہیں وہ شاید ہی کسی ملک کے پاس ہوں،وسائل کو اگر استعما ل کریں تو ہمارے تمام مسائل ختم ہوجائیں گے ،فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں معرکہ حق میں افواج پاکستان نے دشمن کو ایسا سبق سکھایا جو رہتی دنیا تک نہیں بھولے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو قومی پیغام امن کمیٹی کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اطلاعات ونشریات عطا اﷲتارڑ،وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری اوردیگر حکام بھی موجود تھے ۔

وزیراعظم نے کہا قومی پیغام امن کمیٹی کے ارکان کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں، یہ انتہائی خوش آئندبات ہے کہ کمیٹی ایک ایسا کردار ادا کرنے جا رہی ہے جس کی اس وقت بہت ضرورت ہے ، تحریک پاکستان میں زندگی کے ہر شعبے کے کروڑوں مسلمانوں اور اقلیتی برادری نے حصہ ڈالا،سیسل چودھری ،سپریم کورٹ کے سابق جج رانا بھگوان داس اور اقلیتی برادری کے دیگر ارکان کی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بڑی خدمات ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان بنانے کا مقصد ایسا خطے کا حصول تھا جہاں اسلام کا بول بالا ہو،پاکستان میں تمام مذاہب کو اپنے طریقوں سے عبادت کرنے اور تہوار منانے کا حق ہے ،ہر پاکستانی کو اپنی محنت اور قابلیت کے بل بوتے پر اپنا مقام پیدا کرنے کا حق ہے ۔وزیراعظم نے کہا آج پاکستان ترقی اور خوشحالی کی منزل کی طرف رواں دواں ہے ، قیام پاکستان میں علما کرام کا بھی بہت اہم کردار تھا، اﷲتعالیٰ نے پاکستان کو وہ تمام وسائل عطا کیے ہیں جو شاید ہی کسی دوسرے ملک کے پاس ہوں، اﷲتعالی ٰنے ہمیں کھربوں ڈالر کے قدرتی وسائل عطا کر رکھے ہیں جن کو ہم استعمال کریں تو ہمارے تمام مسائل ختم ہو جائیں گے ، پاکستان کو صحیح معنوں میں رفاہی مملکت بنائیں گے ، قرضوں سے نجات حاصل کرنی ہے ،غربت اور بیروزگاری کا خاتمہ کرنا ہے ، یہ کام مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں، اس کیلئے وہ طریقے اور اسلوب اختیار کرنے ہوں گے جن کے لیے پاکستان معرض وجود میں آیا تھا ۔وزیراعظم نے کہا مئی 2025 میں معرکہ حق میں افواج پاکستان نے ہندوستان کو شکست فاش دی ،یہ فتح اﷲتعالیٰ کی نصرت اور اس کی کمال مہربانی اور افواج پاکستان کی جرات، اعلیٰ ترین تربیت ، بہترین ٹیکنالوجی اور 24کروڑ عوام کی دعاؤں کا نتیجہ ہے ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں معر کہ حق میں فتح پر اﷲکا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے ۔

وزیراعظم نے کہا آج سب سے بڑا چیلنج دہشتگردی ہے ، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک لاکھ پاکستانی شہید ہو چکے ہیں جن میں عام شہری، مائیں، بہنیں، بچے ، ڈاکٹر، انجینئرز، تاجر اور چاروں صوبوں کے باسی شامل ہیں، انہوں نے اپنے خون سے ملک کی آبیاری کی ہے ، افواج پاکستان، پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں افسر اور جوان بھی شہید ہوئے ہیں ،انہوں نے قربانیاں دے کر نہ صرف دہشت گردی کا خاتمہ کیا بلکہ دیگر ممالک کو بھی بچایا ،جس طرح 2018 میں دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا تھا مجھے مکمل یقین ہے اس مرتبہ بھی دہشتگردی کا سر کچلا جائے گا،دہشت گردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحر ہند میں ڈبو دیں گے ۔وزیراعظم نے کہا قومی پیغام امن کمیٹی میں تمام مکاتب فکر کے علما کرام شامل ہیں ،اﷲتعالیٰ اس کمیٹی کو کامیابیاں عطا کرے ،اسلام کا اعلیٰ و ارفع پیغام صوبوں میں پہنچائیں ،تدبر، فہم و فراست ،بردباری اور حوصلے کے ساتھ معاملات کو آگے لے کر چلنا ہے ۔معاملات کو مل بیٹھ کر طے کرنے کی ضرورت ہے ۔قومی پیغام امن کمیٹی کے کنوینر مولانا طاہر اشرفی نے کہا جس اعتماد کا اظہار وزیراعظم نے کیا ہے ہم اس پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے ، پشاور میں خیبرپختونخوا کے گورنر کے ساتھ تفصیلی ملاقات کے بعد یہ طے ہوا ہے کہ خیبر پختونخواکے تمام علما کرام کی دو روزہ علماو مشائخ کانفرنس بلائی جائے گی جس میں مشاورت سے فیصلے کئے جائیں گے اوران کے تمام تحفظات کو دور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاجن حالات میں پیغام امن کمیٹی کی تشکیل ہوئی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے پاکستان میں امن کی کوششوں کو استحکام ملے گا۔

جامعہ الرشید کے مہتمم مولانا مفتی عبدالرحیم نے کہا کمیٹی امن کا پیغام لے کر ہر جگہ پہنچے گی۔علامہ عارف حسین واحدی نے کہاخوارج کا دین اسلام سے تعلق ہے نہ ہی وہ پاکستان کے خیرخواہ ہیں، وہ دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں،ملک کو امن کا گہوارہ بنانے میں حکومت کا ساتھ دیں گے ۔علامہ محمد حسین اکبر نے کہا فتنہ والخوارج اور فتنہ ا لہندوستان کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے یہ کمیٹی بھرپور سرگرمی سے کام کرے گی۔علامہ سید ضیا اﷲشاہ بخاری نے کہا سیاسی اور عسکری قیادت کا ملک کی ترقی کے لیے موقف ایک ہے ، ہم نے پیغام دے دیا ہے علما پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔علامہ راغب نعیمی نے کہا ملک میں قیام امن اور یکجہتی کے فروغ کیلئے حکومت کا ساتھ دیں گے ۔مولانا زبیر فہیم نے کہا سیاسی، دینی اور عسکری قیادت جب مل کر کام کرے گی تو یہ ملک امن کا گہوارہ بنے گا۔مفتی محمد یوسف خان نے کہا قومی پیغام امن کمیٹی اپنی ذمہ داری ادا کرے گی۔علامہ محمد آصف اکبر نے کہا اس وقت ملک میں سب سے بڑا مسئلہ فکری دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے ۔مولانا محمد عادل عطاری نے کہا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کا ساتھ دیں گے ۔ہندو کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے راجیش کمار نے کہا پاکستان میں ہندو برادری خوشی اور خوشحالی کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے ،ہم یہ عہد کرتے ہیں اس دھرتی ماں کی حفاظت، رواداری، امن وآشتی کے فروغ کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔مسیحی برادری کی نمائندگی کرتے ہوئے بشپ آزاد مارشل نے کہا ہم ایسا بیانیہ بنانے میں کامیاب ہوں گے جس سے امن کا پیغام پھیلے گا۔

مولانا طیب پنج پیری نے کہا وزیراعظم نے ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کیا ۔مولانا محمد توقیر عباس نے کہا نظریاتی سرحدوں کی حفاظت علما کی ذمہ داری ہے ۔ڈائریکٹر جنرل مذہبی تعلیمات ڈاکٹر غلام قمر نے کہا ملک میں 36 ہزار مدارس ہیں جن میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کی بھی تعلیم دی جارہی ہے کچھ حلقوں کی طرف سے غلط پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ مدارس میں درس نظامی کی تعلیم کو متاثرکیا جارہا ہے ، نہ ہم ایسا کررہے ہیں نہ ہی کیا جائے گا۔دریں اثنائوزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد ،آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان کے شہریوں کے مفت علاج کے لئے وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کا اجرا کر تے ہوئے کہا ہے وزیراعظم صحت کارڈ کا اجرا عوامی فلاح کے عزم کا تسلسل ہے ،علاج اور صحت کی سہولیات کا حصول عوام کا بنیادی حق ہے ،ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمزور طبقے کا سہارا بنے ۔ صحت کارڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا2016 میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے صحت کارڈ پروگرام کا اجرا کیا تھا اور صوبوں میں بڑی تیزی سے یہ پروگرام عوام تک پہنچا اور لاکھوں خاندان اس سے مستفید ہوئے ۔انہوں نے کہا صحت سے زیادہ زندگی میں کوئی اور چیز قیمتی نہیں ہے ،صحت ہوگی تو تعلیم ،کھیل اور زندگی کے ہر شعبے میں سرگرمیاں جاری رکھی جا سکتی ہیں اور مخالفین کو بھی شکست فاش دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا اشرافیہ امریکا ،یورپ اور دیگر ممالک میں اپنے اور اپنے بچوں کے لئے مہنگے ترین علاج کا انتظام کرا سکتی ہے لیکن عام آدمی ،مزدوروں اور غریب طبقے کے لئے بہت مشکلات ہیں،مجھے امید ہے کہ اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے تمام تر اقدامات کئے جائیں گے ، تھرڈ پارٹی کے ذریعے صحت کارڈ پروگرام میں شفافیت یقینی بنائی جائے ۔انہوں نے کہا سندھ میں صحت کارڈ پروگرام کے اجرا کی تجویز قابل غور ہے ،سندھ کا یقیناً اپنا پروگرام ہوگا ،وزیراعلیٰ سندھ سے اس حوالے سے بات کر کے اس کا حل نکالیں گے تاکہ وہاں پر بھی یہ سہولت میسر ہو۔خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی صحت کے پروگرام موجود ہیں ، پنجاب میں بھی بڑی کامیابی کے ساتھ صحت کارڈ پروگرام پر عملدرآمد جاری ہے اور اربوں روپے اس پر خرچ کئے جا رہے ہیں۔وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا اسلام آباد ، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے ایک کروڑ لوگوں کو مفت علاج کی سہولت حاصل ہوگی۔انہوں نے کہا سندھ واحد صوبہ ہے جو وزیراعظم صحت کارڈ استعمال نہیں کر رہا، باقی تمام صوبوں میں یہ سہولت حاصل ہے ۔وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد ارشد قائم خانی نے کہا صحت کارڈ پروگرام سے ہر پاکستانی کے لئے کیش لیس علاج کی سہولت حاصل ہوگی،600 سے زائد ہسپتالوں میں کیش لیس علاج کی سہولت حاصل ہوگی ،کہیں بھی رقم کی ادائیگی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی،شناختی کارڈ اور بچوں کے ب فارم کو صحت کارڈ کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا۔اس موقع پر وزیراعظم نے اسلام آباد ، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے لئے صحت کارڈز بھی تقسیم کئے ۔

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بلوچستان کے ضلع خاران میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے 2 بینکوں کو لو ٹ لیا ،  سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 12 دہشت گرد ہلاک کردئیے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق خاران میں فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 15 سے 20 دہشتگردوں نے سٹی پولیس سٹیشن، نیشنل بینک اور حبیب بینک کو نشانہ بنا کر بینکوں سے 34 لاکھ روپے لوٹ لیے ۔سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں فتنہ الہندوستان کے 12 دہشتگرد ہلاک ہو گئے جبکہ دہشتگردوں کا پولیس سٹیشن میں اہلکاروں کو یرغمال بنانے کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔آئی ایس پی آر نے کہا کہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے ، عزم استحکام کے تحت انسداد دہشتگردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں