محمود اچکزئی نامزدگی کے5ماہ بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر،نوٹیفکیشن جاری
سپیکر نے نوٹیفکیشن اپوزیشن ارکان کے حوالے کیا ،عمر ایوب کی نااہلی کے بعدعمران خان نے نامزد کیا تھا ، فضل الرحمن ،اعتزاز کا فون ، مبارک باد دی اپوزیشن سے طے ہوا فوج اور عدلیہ کے خلاف کوئی بات نہیں ہوگی ، ایاز صادق، 8فروری کو عوام ساتھ دیں ، فضل الرحمن جلدہمارے ساتھ مل جائینگے ، اچکزئی
اسلام آباد،لاہور (نامہ نگار، نامہ نگار خصوصی ،سٹاف رپورٹر، اپنے رپورٹر سے ، مانیٹرنگ ڈیسک )سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے قائدحزب اختلاف کی تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیاگیا۔ ترجمان قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی تقرری کا نوٹیفکیشن قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے طریق کار 2007 کے قاعدہ 39 کے تحت جاری کیا گیا۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا نوٹیفکیشن اپوزیشن اراکین اسمبلی کے وفد کو دیا۔اپوزیشن کے وفد میں اراکین قومی اسمبلی بیرسٹر گوہر علی خان، جنید اکبر، سردار لطیف کھوسہ ، جمال احسن خان، شہرام خان ، شاندانہ گلزار، زین قریشی، علی اصغر خان، ملک انور تاج اور یوسف خان شامل تھے ۔اس موقع پر وفاقی وزیر برائے قانون وانصاف اعظم نذیر تاڑر اور کوارڈینیٹر ٹو وزیر اعظم رومینہ خورشید عالم بھی موجود تھے ۔سپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں حزب اختلاف کے رہنماؤں کو قائد حزب اختلاف کی تقرری کے نوٹیفکیشن کی حوالگی کیلئے مدعو کیا گیا، جہاں پر سپیکر نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی تقرری کا نوٹیفکیشن ان کے حوالے کیا۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان نے گزشتہ سال اگست میں محمود خان اچکزئی کو قائدِ حزبِ اختلاف نامزد کیا تھا، کیونکہ اس عہدے پر فائز رکن قومی اسمبلی عمر ایوب نو مئی 2023 کے واقعات سے متعلق مقدمات میں سزا کے بعد پارلیمنٹ کی رکنیت سے نااہل ہوچکے تھے ۔اپوزیشن لیڈر کا عہدہ پانچ ماہ سے خالی تھا جو اگست 2025 میں پی ٹی آئی کے عمر ایوب کی نااہلی کے بعد خالی ہوا تھا۔اچکزئی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 266 قلعہ عبداللہ اور چمن سے کامیاب قرار پائے تھے ۔ادھر دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے واضح کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے عمل میں اپوزیشن سے طے ہوا ہے کہ ایوان میں پاکستان، پاکستان کی فوج اور عدلیہ کے خلاف کوئی بات نہیں ہوگی اور اپوزیشن لیڈر کیلئے اسمبلی میں ایسے کوئی قواعد نہیں کہ اپوزیشن لیڈر کھڑا ہوگا تو ایوان انہیں مائیک فراہم کرنے کا پابند ہوگا یہ عوام کا منتخب ایوان ہے اور اس میں کارروائی آئین پاکستان اور پاکستان کے مفادات کے تابع ہی چلے گی۔ ایاز صادق نے کہا کہ ہم ملک میں سیاسی استحکام کے خواہاں ہیں اور اس کے لئے اہل سیاست کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ اپوزیشن حکومت سے مذاکرات کی خواہاں ہے تو وہ پل بننے کے لئے تیار ہیں مگر مذاکراتی عمل بامقصد ہونا چاہئے ۔
انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی تقرری کے حوالہ سے خود پی ٹی آئی کے بھی تحفظات تھے مگر ہم نے طے شدہ طریقہ کار پر پیش رفت کی اور ان کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے عمل میں تاخیر کی وجہ ان کا سیکرٹریٹ نہیں خود اپوزیشن تھی اور یہ وجوہات وہ خود جانتے ہیں۔تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ قائمہ کمیٹیوں میں واپسی کے حوالے سے کوئی تجویز زیر غور نہیں ، مذاکرات کا مینڈیٹ اب بھی محموداچکزئی کے پاس ہے ۔ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی نیک شگون ہے ، یہ تعیناتی پہلے ہی ہو جانی چاہیے تھی، انہوں نے کہا محمود اچکزئی کی جمہوریت کے لیے بڑی قربانیاں ہیں، ہم یہی اُمید ر کھتے ہیں کہ بانی کی رہائی سمیت وہ ہمارے مقصد کو آگے بڑھائیں گے ۔ پارلیمنٹ اب مکمل ہوئی ہے ، اپوزیشن لیڈر کے بغیر پارلیمنٹ مکمل نہیں تھی۔ ہم سمجھتے ہیں ملک میں نئے چارٹر کی ضرورت ہے ، ہم سب سے بات کر سکتے ہیں اور نئے چارٹر سے بات چیت کا دروازہ کھل سکتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی جو بہتر سمجھیں گے کریں گے ، ہم آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن چاہتے ہیں۔دوسری طرف جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی سے رابطہ کرکے ان کو اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری ہونے پر مبارکباد دی ۔ فضل الرحمن نے کہا کہ اس مشکل وقت میں قائد حزب اختلاف ہونا ایک نیک شگون ہے ۔ اپوزیشن لیڈرمحمود اچکزئی نے مولانافضل الرحمن کا شکریہ ادا کیا ۔ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی سے سیاسی قیادت نے ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔ترجمان اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بتایا کہ سابق گورنر بلوچستان ظہور آغا، سابق گورنر خیبر پختونخوا غلام علی نے محمود اچکزئی سے رابطہ کیا ہے ۔ترجمان کے مطابق پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما بیرسٹر اعتزاز احسن اور پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی محمود اچکزئی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ترجمان اپوزیشن اتحاد کے مطابق سیاسی قیادت نے محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد ہونے پر مبارکباد دی اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 8 فروری کو ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال اور یوم سیاہ منانے کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے ساتھ دینے کی اپیل کردی۔محمود خان اچکزئی، وائس چیئرمین سینٹر علامہ راجہ ناصر عباس، سیکرٹری جنرل اسد قیصر اور دیگر نے محمد زبیر کی رہائش گاہ پر عشائیے کے بعد پریس کانفرنس کی۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان بحرانوں میں گھرا ہوا ہے ، یہ بحران اندر سے پیدا کیے گئے ہیں، ملک کے کئی ادارے نوکر کا کام کررہے ہیں، ہماری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے جس کے بغیر ملک نہیں چل سکتا ہے تاہم غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک فاقوں کی طرف جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آپ نے ایک بڑی پارٹی سے اس کا نشان چھین لیا، ملک کی بڑی جماعت کا لیڈر جیل میں ہے ۔اچکزئی نے کہا کہ سہیل آفریدی کا دورہ کراچی کامیاب رہا ہے ، ہم ظلم مٹانے آئے ہیں، ہمارے ساتھ چلو۔انہوں نے کہا کہ ہم اس ملک کے لیے لڑے ہیں، باجوڑ سے خیبر تک حالات بہتر نہیں ہیں۔
افغانستان ایشیا کا دل ہے ، جس کے مسئلے کو زمینی حقائق سے دیکھتے ہوئے حل کریں۔مسائل کا حل طاقت نہیں ڈائیلاگ ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم ادارے کے کہنے پر نہیں چلتے ہیں کیونکہ اقتدار والے لوگ نہیں ہیں۔تحریک تحفظ آئین کی حفاظت کے لیے بنی ہے ، ہماری پہلی تنظیم ہے جو اداروں کے کہنے پرنہیں بنی، اندازہ تھاکہ حکومت آئین پر حملہ آور ہوگی۔یہ تحریک ہم نے کسی کی دشمنی میں نہیں بنائی ہے ۔محمود اچکزئی نے کہا کہ اصلی پی ڈی ایم لندن میں بنارہے تھے ، پی ڈی ایم کے وقت کہا تھا کسی کو ہٹانے میں شامل نہیں ہوں گا، اس بربادی کے خلاف ہمیں نکلنا ہوگا۔فضل الرحمن بھی ہمارے ساتھ جلد شامل ہوجائیں گے ۔چیئرمین نے کہا کہ حکمرانوں سے گلہ ہے انہیں طرز حکمرانی نہیں آتی، نوازشریف سن رہے ہوں گے انہوں نے کمیٹی بنائی تھی۔ جس نے متفقہ فیصلہ کیا کہ افغان جو یہاں پیدا ہوئے ان کو شہریت دی جائے ۔محمود اچکزئی نے کہا کہ پاکستان ڈنڈوں سے نہیں چلے گا، وزیرستان سے کہیں وہ آپ کا ہے ، دل سے لگائیں تو مسائل حل ہوں گے ۔
مدارس کو کس نے دہشت گردی میں تبدیل کیا ؟۔حالات خرابی کا ذمہ دار میں تو نہیں ؟۔وینزویلا میں جو کچھ ہوا عالمی حالات تبدیل ہورہے ہیں۔اس پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس بلائیں، تمام اداروں کا اجلاس بلائیں، آئیں اجتماعی دانش سے ملک کو مسائل سے باہرنکالیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور نوازشریف سے متعلق سوال کا جواب قومی اسمبلی میں دوں گا۔حکومت سے مذاکرات سے متعلق سوال کا جواب اسلام آباد میں دوں گا۔انہوں نے کہا کہ آپ لیڈر ایجاد نہیں کرسکتے ، اسد قیصر سے کہا تھا کہ آصف زرداری کے خلاف میں الیکشن لڑوں گا، صدارتی الیکشن میں ایک ووٹ نہیں بکا۔محمود اچکزئی نے مزید کہا کہ پاکستان کی تمام جماعتیں پانچ چھ نکات پرمتفق ہوں، آپ دستخط کردیں بانی پی ٹی آئی سے میں کرالوں گا اور قومی حکومت بنائیں گے ۔راجہ ناصر عباس نے کہا کہ انسان صحیح غلط کا انتخاب کر سکتا ہے ، عوام کے منتخب نمائندے ہم پر حکومت نہیں کر رہے ، پیکا ایکٹ کے تحت میڈیا کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے ، 73 کے آئین میں تمام اکائیوں کی نمائندگی تھی۔