دفاعی معاہدے:پاکستان کے6سے8ممالک کیساتھ مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں
جنگی طیاروں، ڈرونز اور میزائلوں کو میدانِ جنگ میں آزمودہ ہونے کا اعزاز مل گیا،13ملکوں کیساتھ بات چیت ہوئی پاکستانی جنگی طیاروں اور ہتھیاروں کی قیمت کم،مذاکرات انتہائی رازدارانہ ،عالمی دباؤ پر ناکام ہوسکتے :رضاحیات ہراج
اسلام آباد (رائٹرز)پاکستان کی دفاعی صنعت میں غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے کیونکہ بھارت کے ساتھ گزشتہ سال ہونے والے تنازع کے بعد پاکستانی جنگی طیاروں، ڈرونز اور میزائلوں کو ’’کمبیٹ ٹیسٹڈ‘‘(میدانِ جنگ میں آزمودہ) ہونے کا اعزاز حاصل ہو گیا ہے ، جس کے نتیجے میں متعدد ممالک نے ان میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے ۔تین پاکستانی ذرائع کے مطابق اسلام آباد نے اب تک 13 ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر بات چیت کی ہے ، جن میں سے چھ سے آٹھ ممالک کے ساتھ مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان ممکنہ معاہدوں میں چین کے اشتراک سے تیار کئے جانے والے جے ایف17 تھنڈر جنگی طیارے ، تربیتی طیارے ،ڈرونزاور جدید ہتھیاروں کے نظام شامل ہیں۔ وزیرِ دفاعی پیداواررضاحیات ہراج نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ متعدد ممالک پاکستانی جنگی طیاروں اور دیگر عسکری سازوسامان میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات کے باعث عالمی سطح پر اسلحے کی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے ، جس کے بعد کئی ممالک متبادل ذرائع کی تلاش میں ہیں۔
وزیرِ دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے رائٹرز سے گفتگو میں کہاکہ یہ بات چیت جاری ہے لیکن بین الاقوامی دباؤ کے باعث یہ مذاکرات کسی بھی مرحلے پر ناکام بھی ہو سکتے ہیں،انہوں نے ان مذاکرات کو انتہائی حساس اور رازدارانہ قرار دیا۔رضا حیات ہراج نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی جنگی طیاروں اور ہتھیاروں کی قیمت امریکی اور یورپی متبادل مصنوعات کے مقابلے میں کہیں کم ہے ، اگرچہ بعض مغربی ہتھیار تکنیکی اعتبار سے زیادہ جدید ہو سکتے ہیں تاہم ان کی قیمت پاکستان کے جے ایف17 تھنڈر طیارے کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہے ، جس کی لاگت تقریباً 3 کروڑ سے 4 کروڑ امریکی ڈالر کے درمیان ہے ۔
ذرائع کے مطابق جن ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر بات چیت جاری ہے ان میں سوڈان، سعودی عرب، انڈونیشیا، مراکش، ایتھوپیا اور نائیجیریا شامل ہیں جبکہ مشرقی لیبیا کی وہ حکومت بھی ان مذاکرات کا حصہ ہے جس کی قیادت خلیفہ حفتر کر رہے ہیں۔پاکستانی فوج اس امر کی سرکاری طور پر تصدیق بھی کر چکی ہے کہ بنگلہ دیش اور عراق کے ساتھ جے ایف17 طیاروں اور دیگر ہتھیاروں کے حوالے سے بات چیت جاری ہے تاہم ان مذاکرات کی تفصیلات تاحال منظرِ عام پر نہیں لائی گئیں۔ریٹائرڈ ایئرمارشل عاصم سلیمان نے کہا ہے کہ افریقہ کے مزید تین ممالک بھی پاکستانی اسلحے کے ممکنہ خریداروں کی فہرست میں شامل ہیں۔ تین ذرائع نے بتایا کہ سب سے زیادہ پیش رفت بنگلہ دیش کے ساتھ ایک جامع دفاعی معاہدے پر ہو رہی ہے ، جس میں اسلحے کی فراہمی، دفاعی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ شامل ہے ۔