"RKC" (space) message & send to 7575

کراچی کا نوحہ

میں پہلی دفعہ کراچی 1997ء میں گیا تھا۔ اُس وقت میں ملتان میں ڈان کا رپورٹر تھا اور ایک ریسرچ رپورٹ پر کام کر رہا تھا جس کیلئے کراچی میں کچھ لوگوں سے ملنا تھا۔ میری وہاں کوئی جان پہچان نہ تھی۔ ملتان میں مرحوم دوست راشد رحمن ایک خوبصورت دل کے مالک انسان تھے‘ ایک وکیل اور ہیومین رائٹس ایکٹوسٹ‘ جو ایچ آر سی پی ملتان کو ہیڈ کرتے تھے اور مظلوموں کے حقیقی ساتھی تھے۔ 2014ء میں وہ ایک جنونی شخص کے ہاتھوں شہید ہو گئے کیونکہ ایک ایسے ملزم کا کیس لڑ رہے تھے جس پر گستاخی کا الزام تھا۔ مجھے راشد رحمن کی موت کا بہت دکھ ہے۔ وہ ہمارے ملتان کا ایک خوبصورت چہرہ تھے۔ خیر‘ اُن سے بات ہوئی تو کہنے لگے کہ میرا اگلے ہفتے کراچی کا پروگرام ہے‘ آپ میرے ساتھ چلیں۔ وہاں میرے بھائی بہن کا گھر ہے‘ آرام سے رہیں اور اپنا کام بھی کر لیں۔ وہ ٹرین کی ٹکٹ کراچکے تھے‘ میں نے بھی بکنگ کرا لی اور یوں ہم دونوں ملتان سے بذریعہ ٹرین کراچی پہنچے اور ان کے بھائی توصیف احمد کے گھر ٹھہرے۔ توصیف صاحب اور ان کی فیملی نے بہت آئو بھگت کی۔ وہ وہاں یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے اور اب اردو کالم لکھتے ہیں۔ ان کی آئی اے رحمن سے بھی رشتہ داری تھی۔ ایک مہذب‘ مہمان نواز اور مروت بھرا خاندان۔ توصیف صاحب نے ایک نوجوان خوجہ (کراچی کی مسلم برادری) کو ڈھونڈ نکالا جو میرے ساتھ کراچی میں ان علاقوں میں پھرتا رہا جہاں کی کمیونٹی کے بارے میں نے ریسرچ رپورٹ لکھنا تھی۔ اس نوجوان نے بھی بڑی مدد کی۔ تین چار دن وہاں رہا اور پھر ٹرین پکڑ کر ملتان واپس آگیا۔ راشد رحمن کچھ دن مزید کراچی میں رک گئے۔ ان دنوں کراچی کے حالات خراب تھے اور پی پی پی حکومت کی طرف سے آپریشن ہوئے تھے لہٰذا شہر کی فضائوں میں ابھی لہو اور خوف کی بو موجود تھی۔ کراچی شہر تو اپنی جگہ اچھا لگا ہی لیکن جو بات سب سے اچھی لگی وہ یہ تھی کہ جب میں صبح صبح کراچی ریلوے اسٹیشن پر اترا تو وہاں ڈان اخبار دستیاب تھا۔ ہم ملتان میں اخبار دوپہر کے بعد ملنے کے عادی تھے۔ پہلے یہ کبھی کراچی سے جہاز پر آتا تھا تو ملتان میں شام تک گھروں میں تقسیم ہوتا۔ پھر لاہور سے شروع ہوا تو بھی آتے آتے دوپہر ہوجاتی۔ ہم آفس میں اپنے دوست خالد شیخ کو فون کر کے پوچھتے اخبار پہنچ گیا کیونکہ فکر ہوتی تھی کہ خبر چھپی یا نہیں چھپی۔ چھپی تو کیا نام کے ساتھ چھپی۔ ٹی وی کے دور سے پہلے پرنٹ اخبار میں نام کے ساتھ خبر چھپنے کی جو خوشی ہوتی تھی وہ صرف اُس دور کے رپورٹرز ہی محسوس کرسکتے ہیں۔ ٹی وی کی صحافت جہاں اخبار اور خبر کو کھا گئی وہیں ہم رپورٹرز کو اپنا نام دیکھ کر جو سنسنی محسوس ہوتی تھی وہ بھی کھا گئی۔
کراچی میں دوسری دفعہ 2002ء میں جانا ہوا جب ٹی وی چینل شروع ہوا تواس کی ٹریننگ کیلئے ایک ماہ وہیں رہا جہاں شہر کو قریب سے دیکھا۔ ایس ایس پی میر زبیر محمود سے پہلی ملاقات وہیں ہوئی جنہوں نے شاید اکرم لاہوری اور دیگر ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ میر زبیر مُلک کے چند ایماندار اور قابل پولیس افسران میں شمار ہوتے تھے۔ اس کے بعد بھی کراچی کئی دفعہ جانا ہوا لیکن ہر دفعہ کراچی کو مزید بگڑتے ہی دیکھا۔ لیکن کراچی اس وقت زیادہ سمجھ میں آیا جب قرۃ العین حیدر کا ناول ''آگ کا دریا‘‘ پڑھا۔ اس میں ایک باب کراچی پر ہے‘ جب وہاں ہندوستان سے آنے والے مسلمان نئے نئے آباد ہورہے تھے۔ نئی زندگی اور نئے شہر سے واقفیت بڑھا رہے تھے۔ اس ناول میں کراچی کو ایک دریا کی طرح کوزے میں بند کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد میں نے سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک تفصیلی فیصلہ پڑھا جو چیف جسٹس افتخار چودھری کے دور میں لکھا گیا تھا۔ اس فیصلے کی بنیاد کراچی میں ہونے والی قتل و غارت اور بھتے کے بارے درجنوں عدالتی سماعتیں تھیں۔ وہ فیصلہ بھی آپ کی آنکھیں کھول دے گا کہ کراچی کے ساتھ کیا ظلم ہوا۔ پھر سینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کو دی جانے والی ایک بریفنگ یاد آتی ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سیّد اس کے چیئرمین تھے جبکہ اس کمیٹی کے ممبرز میں ہر پارٹی کے بڑے بڑے سینیٹرز شامل تھے جن میں رضا ربانی اور فرحت اللہ بابر بھی شامل تھے۔ یہ بریفنگ اُس وقت کے ڈی جی رینجرز میجر جنرل رضوان اختر نے دی تھی‘ جو بعد میں پروموٹ ہو کر 2014ء میں ڈی جی آئی ایس آئی بنے تھے۔ اس بریفنگ میں انہوں نے کھل کر سیاسی پارٹیوں کے عسکری وِنگز کی کراچی میں موجودگی کا انکشاف کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ہر سیاسی پارٹی کا اپنا الگ عسکری وِنگ موجود ہے جس کے ذریعے مخالفوں کو مروایا جاتا ہے یا تشدد آمیز کارروائیوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کو اس حالت میں لانے والے سیاسی پارٹیوں کے یہی عسکری وِنگز ہیں۔ تاہم اس انکشاف یا الزام پر سینیٹر رضا ربانی نے احتجاج کیا کہ یہ سیاسی پارٹیوں کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ اس پر جنرل رضوان نے کہا کہ ہم آپ کو تمام سیاسی وِنگز کے ثبوت پیش کر دیتے ہیں جس پر خاموشی چھا گئی۔
کراچی کی تباہی کی کہانی بہت پرانی ہے۔ اس شہر نے لاکھوں لوگوں کو اپنے ہاں جگہ دی‘ روزگار دیا‘ عزت دی۔ ملک بھر سے لوگ مزدوری کرنے اس شہر میں گئے اور یہ شہر سب کو اپنے ہاں سموتا رہا۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ ایک شہر آخر کتنے لوگوں کو روزگار یا رہائش فراہم کرسکتا ہے؟ اندرونِ سندھ سے لوگ آئے‘ ہمارے سرائیکی علاقوں سے لوگ وہاں گئے‘ خیبرپختونوا سے بھی لوگ مزدوری کی تلاش میں گئے‘ کشمیر تک سے لوگ وہاں پہنچے۔ اور تو اور افغان مہاجرین بھی بڑی تعداد میں وہاں پہنچے۔ یوں اس خوبصورت شہر کی حالت بگڑتی گئی اور پھر نسلی فسادات شروع ہو گئے جنہوں نے شہر کو لہولہان کر کے رکھ دیا اور وہ زخم آج تک نہیں بھرے۔ اس بے تحاشا آبادی کے نتیجے میں کراچی میں کچی بستیاں اُبھریں‘ وسائل پر دبائو بڑھا۔ جرائم عروج پر پہنچے۔ وہاں پہلے سے موجود لوگوں کے ساتھ کلچر‘ زبان اور دیگر مسائل کھڑے ہوئے اور یوں وہاں کے اردو سپیکنگ اور ملک بھر سے آنے والی دیگر قوموں میں جو اختلافات یا لڑائیاں شروع ہوئیں ان کی وجہ سے کراچی کا بیڑا غرق ہوتا چلا گیا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں کراچی کا ہولڈ ایم کیو ایم کے پاس تھا تو پچھلے اٹھارہ سال سے سندھ پر پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ کبھی وہاں کوئی پرانی بلڈنگ گر جانے سے درجنوں افراد جاں بحق ہو جاتے ہیں تو کبھی عمارت میں آگ لگنے سے۔ اس شہر کو جس محبت‘ پیار اور فنڈز کی ضرورت تھی وہ نہیں ملے۔ پیپلز پارٹی پر الزام لگتا رہا کہ وہ کراچی پر توجہ نہیں دیتی کیونکہ کراچی میں ان کا دو تین سیٹیں چھوڑ کر کوئی ووٹ بینک نہیں۔ باقی سیٹیں پہلے ایم کیو ایم تو بعد میں عمران خان کو ملیں۔ پی پی پی کے حصے میں چند ہی سیٹیں آئیں۔ مرتضیٰ وہاب کے کراچی کا مئیر بننے سے امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید اب کراچی کچھ بہتر ہوگا‘ لیکن اب کراچی اتنا بڑا ہوگیا ہے کہ اکیلا مئیر اسے نہیں سنبھال پا رہا۔ اگر شہری انتظامیہ کے پاس فائر فائٹنگ کا سامان تک موجود نہیں تو پھر شہر کی مجموعی حالت کا اندازہ لگا لیں۔
کراچی وہ بدنصیب شہر ہے جو تقریباً پورے ملک کو پالتا ہے لیکن خود لاوارث ہے۔ جس طرح گل پلازہ میں انسانی جانوں کا نقصان ہوا اور حکومتی نالائقی سامنے آئی‘ اس سے رہی سہی امید بھی ختم ہو گئی۔ مان لیا دنیا بھر میں آتشزدگی کے واقعات ہوتے ہیں لیکن وہاں رسپانس‘ ریسکیو آپریشن اور فائر فائٹرز کی کوششیں اور جدید آلات بھی ہوتے ہیں۔ گل پلازہ میں 36گھنٹے تک آگ نہ بجھائی سکی اور 24گھنٹے تک شہر کا میئر یا صوبے کا وزیراعلیٰ وہاں نظر نہیں آئے۔ اب کراچی کا نوحہ کون لکھے کہ پہلے لاشیں گرتی تھیں‘ بوری بند لاشیں ملتی تھیں‘ وہ کام بند ہوا تو اب کبھی کوئی خستہ رہائشی عمارت گر جاتی ہے تو کبھی کسی عمارت میں آگ لگ جاتی ہے۔ انسان پہلے بھی مر رہے تھے‘ اب بھی مر رہے ہیں۔ بس نالائقی اور موت کی صورت بدلی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں