6 ماہ میں 1442 غیر قانونی پٹرول پمپ سیل، 828 ارب لیوی وصول
کارروائیوں سے تیل کی سمگلنگ میں کمی ہوئی، گزشتہ مالی سال کی نسبت لیوی آمدن میں 284 ارب اضافہ ہوا ٹیکنالوجی اور اداروں کیساتھ تعاون سے سمگلنگ کیخلاف موثر اقدامات سے معیشت کو مزید مستحکم بنایا جا سکتا :ایف بی آر
اسلام آباد(مدثرعلی رانا) ایف بی آر کسٹمز نے ملک بھر میں 1576 غیر قانونی پٹرول پمپس کی نشاندہی کی جن میں سے 1442 کو سیل کر دیا گیا ۔ دستاویز کے مطابق کسٹمز انفورسمنٹ کی کارروائیوں سے پٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ میں کمی ہوئی، حکومت کو جولائی سے دسمبر تک 828 ارب روپے پٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی سے وصول ہوئے ۔گزشتہ مالی سال کی نسبت پی ڈی ایل آمدن جولائی سے نومبر 284 ارب روپے اضافہ کیساتھ 706 ارب روپے رہی، 146 ارب روپے اضافی ایندھن کی قانونی سپلائی اور 138 ارب روپے قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے جمع ہوئے جن سے حکومت کی آمدنی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔
ایف بی آر نے کسٹمز انفورسمنٹ کے ذریعے پٹرولیم آئل اور لبریکنٹس کی سمگلنگ کیخلاف اقدامات میں خاطر خواہ تیزی لائی جس کے نتیجے میں قانونی ایندھن کی فراہمی میں اضافہ اور حکومتی آمدنی میں نمایاں بہتری آئی ۔ ایف بی آر دستاویز میں بتایا گیا کہ سمگلنگ کے خلاف یہ کارروائیاں ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت کی جا رہی ہیں ۔ان اقدامات میں غیر قانونی پٹرول پمپس کو سیل کرنا، ایندھن کی نقل و حمل کی سخت نگرانی اور سرحدی و ملکی سطح پر سمگلنگ کے راستوں کو بند کرنا شامل ہے ۔ ۔ایف بی آر کے مطابق جولائی سے دسمبر 2025 تک آدھے سال کی پی ڈی ایل کی وصولی 828 ارب روپے تک پہنچ گئی جو 734 ارب روپے کے مقررہ ہدف سے 94 ارب روپے زیادہ ہے ۔ ۔دستاویز میں بتایا گیا کہ ٹرانسفارمیشن پلان کے ذریعے ٹیکنالوجی اور اداروں کیساتھ تعاون سے سمگلنگ کے خلاف مؤثر اقدامات کے ذریعے ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے ۔