پانچ افراد قتل کیس:چھ مجرموں کی عمر قید کی سزا برقرار، اپیلیں خارج
ہائیکورٹ نے سزائے موت عمر قید میں تبدیل کی تھی، سپریم کورٹ نے فیصلہ برقرار رکھا نوجوان ہونے کی بنیاد پر قتل کے مجرم کی سزائے موت کم کر کے عمر قید میں تبدیل کر دی گئی
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے قصور میں پانچ افراد کے قتل کے کیس میں چھ ملزمان کی عمر قید کی سزائیں برقرار رکھتے ہوئے اپیلیں خارج کر دیں۔ عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ درست قرار دیتے ہوئے مدعی مقدمہ کی سزا بڑھانے کی اپیل مسترد کر دی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی غلطی نہیں۔ یہ فیصلہ جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہوار اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے سنایا۔
ٹرائل کورٹ نے سات مجرموں کو چار چار بار سزائے موت سنائی اور تین ملزمان کو بری کیا تھا، بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے ایک ملزم بری اور چھ مجرموں کی سزائیں عمر قید میں تبدیل کی تھیں۔ ادھر سپریم کورٹ نے قتل کے مجرم جواد علی کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی۔ عدالت نے نوجوان ہونے کی بنیاد پر سزائے موت کم کرتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ فیصلہ جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس ملک شہزاد خان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے جاری کیا۔ ٹرائل کورٹ نے جواد علی کو قتل کے جرم میں سزائے موت اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ نے اپیل خارج کر کے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔