صنعتوں کی بحالی کیلئے بجٹ اقدامات شروع، بجلی ٹیرف میں 102 ارب ریلیف، بند یونٹس کیلئے قرضے : ٹیکس آڈٹ میں آسانیاں فراہم کی جائیگی
بجلی پیک آور زریٹس اورگیس قیمتوں میں کراس سبسڈی ختم ، زیر التوا ریفنڈز کی معقول مدت میں ادائیگی ، ٹیکس آڈٹ تین سال میں ایک بار،برآمد کنندگان کیلئے مقامی ٹیکسوں،لیویز کی واپسی کارپوریٹ ٹیکس میں سالانہ ایک فیصد کمی ، مالی گنجائش بہتر ہونے پر سپر ٹیکس مرحلہ وار ختم کیا جائیگا:ذرائع، وزیراعظم آج برآمد کنندگان ،کاروباری شخصیات سے ملاقات اورخطاب کرینگے
اسلام آباد (مدثر علی رانا) باوثوق ذرائع کے مطابق آئندہ وفاقی بجٹ میں صنعتوں کو ریلیف دینے کے لیے بجلی ٹیرف میں کمی کا 102 ارب روپے کا پیکیج تیار کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر صنعتی شعبے کے لیے بجٹ میں ریلیف سے متعلق حکمتِ عملی مرتب کی جا رہی ہے جس میں بند صنعتی یونٹس کی بحالی کے لیے بینکوں کے ذریعے قرضوں کی فراہمی بھی شامل ہے ۔ذرائع کے مطابق ٹیکس فائلنگ، انٹرفیس اور آڈٹ نظام کو سادہ اور آسان بنانے کی اصلاحات کی جائیں گی، جبکہ برآمد کنندگان کے لیے مقامی ٹیکسوں اور لیویز کی واپسی کی سکیم لانے کی تجویز بھی زیر غور ہے ۔ صنعتی شعبے پر عائد 102 ارب روپے کی کراس سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے ، جو آئندہ بجٹ میں صنعتوں کے لیے براہِ راست بجلی ٹیرف میں ریلیف کا باعث بنے گا۔ اس کے ساتھ بجلی کے پیک آور ریٹس کے خاتمے کی تجویز بھی شامل ہے۔
ایکسپورٹرز پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کے لیے ریلیف کی گنجائش نکالنے ، سالانہ ٹیکس آڈٹ کے بجائے ہر تین سال میں ایک مرتبہ آڈٹ کرانے اور تمام زیر التوا ریفنڈز کی ادائیگی معقول مدت میں یقینی بنانے پر غور کیا جا رہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق صنعتی شعبے کے لیے بجلی کے ساتھ ساتھ گیس کی قیمتوں سے بھی کراس سبسڈی کا بوجھ ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے ۔کارپوریٹ ٹیکس کو 29 فیصد سے مرحلہ وار کم کرکے 26 فیصد تک لانے کا امکان ہے ۔ ذرائع صنعت و پیداوار کے مطابق کارپوریٹ ٹیکس میں سالانہ ایک فیصد کمی کی تجویز ہے جبکہ مالی گنجائش بہتر ہونے پر سپر ٹیکس میں اصلاحات اور مرحلہ وار خاتمے پر بھی غور کیا جا رہا ہے ۔صنعتی مسائل کے حل کے لیے نیشنل انڈسٹریل ریوائیول پروگرام کے قیام اور آن لائن سہولت کے لیے ون ونڈو فیسلیٹیشن سیل پر مشتمل ڈیجیٹل پورٹل متعارف کرانے کی تجویز بھی شامل ہے ۔ ان تجاویز پر وزیراعظم کے ساتھ اہم اجلاس ہو چکا ہے جس میں وزارتِ صنعت و پیداوار کو متعلقہ وزارتوں کے ساتھ مل کر جامع پلان تیار کر کے دوبارہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔وزیراعظم کی منظوری کے بعد یہ تجاویز آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کی جائیں گی اور رضامندی کی صورت میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں متعارف کرائی جا سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق مہنگی بجلی و گیس، ٹیکسوں کے دباؤ اور غیر یقینی معاشی حالات کے باعث صنعتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں جس سے خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار دباؤ کا شکار ہیں اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں کمی، کاروبار دوست پالیسیاں، سادہ اور منصفانہ ٹیکس نظام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔وزیراعظم محمد شہباز شریف آج ملک کے بڑے برآمد کنندگان اور کاروباری شخصیات سے ملاقات اور خطاب کریں گے ،وزیراعظم ملکی صنعت، تجارت اور برآمدات میں اضافے کا اپنا ویژن پیش کریں گے ۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم معیشت کو استحکام سے ترقی کی طرف لے جانے کیلئے مستقبل کا روڈ میپ پیش کریں گے ،سرمایہ کاری کو آسان بنانے اور بزنس فیسلیٹیشن سے متعلق حکومتی اقدامات پر بھی گفتگو ہوگی۔وزیراعظم اصلاحات، معاشی نظم و ضبط اور صنعتکاروں کے اعتماد کی بحالی پر بھی اظہارِ خیال کریں گے جبکہ قومی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرنے والے ایکسپورٹرز کو ایوارڈز بھی دیں گے ،