"RKC" (space) message & send to 7575

پولیٹکل ایجنٹ سے ڈمپر ڈرائیور تک

2022ء میں شہباز شریف صاحب کے وزیراعظم بننے سے پہلے بیورو کریٹس کا ایک ہی بہانہ تھا کہ ہم کسی فائل کو ہاتھ نہیں لگائیں گے کیونکہ نیب سوال جواب شروع کر دیتی ہے۔ وفاقی بیورو کریسی نے سیکرٹریز کمیٹی بنا رکھی ہے‘ جہاں سب افسران اپنی شکایتیں یا دیگر ایشوز زیرِ بحث لاتے ہیں۔ سینئر افسران اس کمیٹی کی صدارت کرتے ہیں اور وہاں سب کچھ ڈسکس کیا جاتا ہے۔ اُن دنوں ہر وقت ہر بابو یہی شکایت کرتے ملتا تھا اور وزیر بھی کہ کیا کریں نیب کی تلوار لٹک رہی ہے لہٰذا سب کام ٹھپ ہوگئے ہیں‘ نیب کسی افسر کی کوئی بھی فائل نکال کر اس پر انکوائری شروع کر دیتا ہے‘ سو افسران نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے اور ملکی ترقی رک گئی ہے۔ ساتھ ہی کراچی؍ لاہور کے بزنس مینوں نے بھی یہ شور ڈالا ہوا تھا کہ معاشی ترقی رک گئی ہے کیونکہ نیب ان کے خلاف ایکشن لیتا ہے۔ اس وقت جنرل باجوہ ہر روز 'دربار‘ لگاتے تھے جہاں پی ٹی آئی حکومت کے وفاقی وزیر حاضری دیتے اور اپنی اپنی وزارت کی کارکردگی کا حساب کتاب پیش کرتے۔ پھر سینئر بیورو کریٹس پیش ہوتے اور اپنی وزارت کے بارے رپورٹس پیش کرتے۔ صحافیوں اور اینکرز کا بھی دربار لگتا جس میں دنیا جہاں کی سیاست اور حالات پر تبادلہ خیال کیا جاتا تھا‘ مشورے دیے جاتے تھے اور باجوہ صاحب کی جانب سے ہدایات جاری کی جاتی تھیں کہ صحافیوں نے کیسے صحافت کرنی ہے اور کس سیاستدان کو اچھا یا برا بنا کر پیش کرنا ہے۔ ہر صنعتکار اور تاجر کو شکایت تھی کہ نیب کی وجہ سے پاکستان ترقی نہیں کرپارہا۔ پھر ایک دن وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں ایک تقریب میں تاجروں کو خوشخبری سنائی کہ آج کے بعد نیب کے پر کاٹ دیے گئے ہیں‘ وہ اب آپ لوگوں سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کر سکے گا۔ بیورو کریٹس اب بھی مطمئن نہ ہوئے کہ نہیں! ہمیں فری ہینڈ چاہیے۔
شہباز شریف اور آصف علی زرداری دونوں عمران خان دور میں نیب کے قیدی رہے تھے‘ لہٰذا حکومت میں آتے ہی انہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ نیب کے دانت نکال دیے۔ یوں نیب کو بالکل فارغ کر دیا گیا اور سب نے اپنے اپنے مقدمات سیٹل کرالیے۔ اب بابوز کھل کر کھیلنے لگے کہ نیب ہمیں ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ یہاں ایک واردات یہ ڈالی گئی کہ نیب صرف 50کروڑ سے اوپر کے مقدمات میں ہاتھ ڈال سکتا ہے۔ اب روز کوئی نہ کوئی سکینڈل سامنے آرہا ہے لیکن نیب کہتا ہے ہم بے بس ہیں! کیونکہ مبینہ کرپشن کی رقم پچاس کروڑ سے کم ہے۔ کبھی ہر پاکستانی لاکھ‘ سوا لاکھ کا مقروض تھا مگر ایک حالیہ خبر کے مطابق یہ رقم اب تین لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔ ملک کا قرضہ بڑھتا ہی چلا جارہاہے۔ وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کہتے ہیں کہ اگر قرضہ ٹھیک استعمال ہو تو سب اچھا ہے۔ اس بیان میں سارا زور ''اگر‘‘ پر نظر آتا ہے۔ ''اگر‘‘ قرضہ ٹھیک استعمال ہو تو پھر پرتگال اور دبئی میں جائیدادیں کیسے بنیں گی۔ میں نے ایک خبر بریک کی ہے کہ گریڈ اکیس کے ایک افسر نے‘ جو چار دفعہ قبائل کا پولیٹکل ایجنٹ رہا ہے‘ بیوی کے نام پر برطانیہ میں سات جائیدادیں خریدی ہیں۔برطانوی بارکلے بینک میں بارہ کروڑ رکھے ہیں۔ پاکستانی بینک میں تین کروڑ ہیں۔ وہ افسر آدھا اسلام آباد اور آدھا دبئی خرید چکا ہے مگر نیب اس افسر کو گرفتار کرنے کی جرأت نہیں کر رہا کہ وہ آگے سے پی ڈی ایم حکومت کا 2022ء میں تبدیل شدہ نیب قانون دکھا دیتا ہے کہ میری جائیداد کی مالیت میرے گوشواروں کے مطابق 49 کروڑ ہے اور نیب پچاس کروڑ سے اوپر کی کرپشن پر ہی پوچھ گچھ کرسکتاہے۔ حکومت کے دو بڑوں نے خود کو اور اپنے لاڈلے افسران کو نیب سے بچاتے بچاتے سب کچھ ڈبو دیا ہے۔ کرپٹ افسران اپنے گوشواروں میں جھوٹ بول کر کُل اثاثے پچاس کروڑ سے کم دکھا کر پتلی گلی سے نکل جاتے ہیں۔ چاہے ان کی پرتگال‘ دبئی‘ لندن میں جائیدادیں اور کروڑوں کا بینک بیلنس ہی کیوں نہ نکل آئے۔ پورا قرضہ دبئی‘ لندن اور پرتگال جا رہا ہے۔ بابوز اور حکمرانوں کی جائیدادیں بن رہی ہیں۔ اب تو ایسے نئے بابوز آ رہے ہیں جن کا پہلاہدف ہی اپنی غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔ اب تو افسر پروبیشن ختم ہونے کا بھی انتظار نہیں کرتے۔
دوسری طرف کوہستان سکینڈل کے بارے میں سن لیں۔ کچھ عرصہ پہلے کوہستان کا 40 ارب روپے کا میگا سکینڈل سامنے آیا تھا جس میں چھتیس کے قریب افسران اور ٹھیکیدار ملوث تھے۔ اب نیب نے ''خوشخبری‘‘ سنائی ہے کہ اس نے یکمشت سب سے بڑی ریکوری کی ہے۔ ایک ملزم سے چار ارب پانچ کروڑ روپے کی پلی بارگین کر کے قومی خزانے میں جمع کرانے کے بعد ملزمان کو رہا کر کے گھر بھیج دیا گیا ہے۔ اس سکینڈل میں ممتاز خان‘ جو ڈمپر ڈرائیور تھا‘ نے یہ چار ارب پانچ کروڑ روپے جمع کرائے ہیں۔ اندازہ کریں کہ ایک ڈمپر ڈرائیور چار ارب کا ڈاکا مار گیا۔ بتایا گیا ہے کہ گرفتار ملزم ممتاز نے پلی بارگین کی رقم نقد‘ جائیداد اور گاڑیوں کی صورت میں قومی خزانے میں جمع کرائی۔ اس سے پہلے مرکزی ملزم قیصر نے مبینہ طور پر اپنے فرنٹ مین ڈمپر ڈرائیور کو استعمال کیا۔ ممتاز نے جعلی کمپنی کے نام پر بینک اکاؤنٹس کھولے اور قومی خزانے سے بڑی رقم باہر منتقل کی۔ گرفتاری کے بعد سکینڈل میں ملوث ڈمپر ڈرائیور نے قومی خزانے میں چار ارب روپے سے زائد رقم جمع کرانے پر رضامندی ظاہر کی اور پشاور کی احتساب عدالت نے پلی بارگین کی درخواست منظور کر لی۔ نیب حکام کے مطابق ملزم ممتاز کوہستان میگا کرپشن سکینڈل میں براہِ راست ملوث ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران بینک اکاؤنٹس میں چار ارب روپے سے زائد کی مشکوک ٹرانزیکشنز کے ٹھوس شواہد حاصل کیے گئے تھے۔ نیب حکام کے مطابق چار ارب روپے کی ریکوری مجموعی سکینڈل کا صرف ایک حصہ ہے‘ جبکہ کُل سکینڈل کی مالیت چالیس ارب بتائی گئی۔ نیب حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ مزید بھاری رقوم اور اثاثوں کی ریکوری کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اب تک اس سکینڈل میں ملوث 36سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اب تک کوہستان میگا سکینڈل میں 30ارب مالیت کے اثاثے سیل اور متعدد بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے۔ مزے کی بات ہے کہ مزید پلی بارگین کی درخواستیں بھی زیر غور ہیں جن پر فیصلہ شواہد اور قانون کے مطابق کیا جائے گا۔ اس سے پہلے اسی کوہستان کرپشن سکینڈل کیس میں نیب ایک گرفتار خاتون ملزمہ کی نشاندہی پر ایبٹ آباد کے گھر سے بیس کروڑ روپے کیش برآمد کر چکا ہے۔ خاتون ملزمہ کوہستان سکینڈل کے مرکزی ملزم کی اہلیہ ہے۔ اس طرح نیب خیبر پختونخوا نے تحقیقات کے دوران 77 لگژری گاڑیاں بھی ریکور کی تھیں۔ ان ریکور کی گئی گاڑیوں میں انتہائی مہنگی اور پُرتعیش گاڑیاں شامل ہیں۔ نیب کی طرف سے برآمد کی گئی گاڑیوں کی مجموعی مالیت 94کروڑ روپے سے زائد تھی۔ اس طرح نیب کی جانب سے 109 جائیدادیں بھی ضبط کی گئی تھیں‘ جن میں 30 رہائشی مکانات‘ 25 فلیٹس‘ 12 کمرشل پلازے‘ دکانیں‘ فارم ہاؤسز اور 175 کنال زرعی اراضی شامل ہے۔
اندازہ کریں خیبرپختونخوا میں کتنی اندھیرنگری مچی ہوئی تھی کہ چالیس ارب ادھر ادھر ہوگیا اور چھ سال تک کسی کو خبر نہ ہوئی۔ یہ ہے آپ کی بیوروکریسی کی اندھا دھند طاقت کہ سب افسران نے ٹھیکیداروں کے ساتھ مل کر لوٹا۔ ایک ارب کی لگژری گاڑیاں خرید لیں‘ درجنوں جائیدادیں اور کروڑں کا کیش گھر پر رکھ لیا۔ اس ملک کا قرضہ کہاں جارہا ہے؟ گریڈ اکیس کا ایک سابق پولیٹکل ایجنٹ اپنی بیوی کے نام پر لندن اور دبئی سمیت ملک بھر میں درجنوں جائیدادیں خرید لیتا ہے اور اس کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا اور ایک ڈمپر ڈرائیور چار ارب لوٹ لیتا ہے۔ یہ ہے بیوروکریٹس کو کھل کر فیصلے کرنے کی اجازت اور نیب کے پر کاٹنے کا پہلا سرکاری نتیجہ۔ خواجہ آصف اسمبلی کے فلور پر کہہ چکے کہ سرکاری افسران پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ان سرکاری بابوز کو اور کتنی آزادی درکار ہے لُٹ مار کی ؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں