بھارت میں نیپا ہ وائرس، ورلڈ کپ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ
مودی کی ترجیح سیاسی تشہیر،عوامی صحت اور شہریوں کی سلامتی مسلسل نظرانداز بھارت میں نیپاہ وائرس کی نگرانی کا نظام غیر مؤثر اور غیر مربوط ہے ،طبی ماہرین نیپاہ وائرس سے اموات کی شرح40سے 70فیصد تک ہو سکتی ،امریکی سی ڈی سی
اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر) بھارت میں نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ نے خطے سمیت عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ مہلک وائرس کی موجودگی میں بھارت میں ٹی 20 ورلڈ کپ جیسے بڑے بین الاقوامی ایونٹ کا آغاز مختلف ممالک کے کھلاڑیوں اور آفیشلز کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہو سکتا ہے ۔ماہرین کے مطابق بھارت میں نیپاہ وائرس کی نگرانی کا نظام غیر موثر، غیر مربوط اور بالخصوص دیہی و سرحدی علاقوں میں تقریبا ًناکارہ ثابت ہو رہا ہے جس کے باعث وائرس پر بروقت قابو پانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
صحت کے ماہرین نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیپاہ وائرس کی موجودہ صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ترجیحات میں سیاسی تشہیر تو نمایاں ہے مگر عوامی صحت اور شہریوں کی سلامتی کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے جس کے اثرات اب خطے اور دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔عالمی میڈیا اور بین الاقوامی صحت اداروں کے مطابق بھارت میں تصدیق شدہ کیسز سامنے آنے کے بعد متعدد ایشیائی ممالک نے سرحدی نگرانی اور ہوائی اڈوں پر اسکریننگ کے اقدامات سخت کر دئیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایشیا کے کئی بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر الرٹ جاری کیا گیا ہے ۔ امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ نے خبردار کیا ہے کہ نیپاہ وائرس نہ صرف بھارت بلکہ پورے خطے کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے ۔ امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (CDC) کے مطابق اس وائرس میں اموات کی شرح 40 سے 70 فیصد تک ہو سکتی ہے ۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق تھائی لینڈ نے بھارت سے آنے والے مسافروں کے لیے خصوصی سکریننگ چیک پوائنٹس قائم کیے ہیں جبکہ تائیوان کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول نے نیپاہ وائرس کو کیٹیگری فائیو خطرہ قرار دیا ہے ۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) نے بھی نیپاہ وائرس کو ترجیحی خطرناک وائرس کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے فوری اور جامع تحقیق پر زور دیا ہے ۔برطانوی جریدے دی ٹیلی گراف کے مطابق برطانیہ، نیپال، تھائی لینڈ، تائیوان اور سری لنکا نے بھارتی مسافروں کی سکریننگ کا آغاز کر دیا جبکہ برطانوی اخبار دی انڈیپینڈنٹ کے مطابق چین، میانمار، انڈونیشیا اور ویتنام نے بھارت کے سفر کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔