3روز بعد بسنت، پتنگ اور ڈور کی قیمتیں پہلے ہی آسمان پر
شہر میں 2ہزار سیل پوائنٹس قائم،ایک تاوا گڈا 400روپے تک فروخت 9علاقوں میں پتنگ بازی ممنوع،ہسپتالوں میں الرٹ، مزید 340گرفتار
لاہور(عمران اکبر،خبر نگار، کرائم رپورٹر،ہیلتھ رپورٹر )لاہور میں بسنت فیسٹیول کی 25 سال بعد واپسی، 6، 7اور 8فروری کو بسنت منانے کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئی،انتظامیہ کی جانب سے شہر میں 2 ہزار 276 مجاز سیل پوائنٹس قائم ،دوسری طرف پتنگوں اور ڈور کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں،ایک تاوا گڈا 300سے 400روپے ،ڈیڑھ تاوا 550سے 700روپے تک میں فروخت ہو رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں بسنت فیسٹیول کے موقع پر شہریوں کو مفت ٹرانسپورٹ سروس دینے کی تیاریاں جاری ہیں ،شہر کی مختلف شاہراہیں سجا دی گئیں جبکہ شہر کے روایتی بازاروں خصوصاً موچی گیٹ میں پتنگ، ڈور اور گڈوں کی ریکارڈ فروخت ہو رہی ہے۔
کمشنر لاہور مریم خان کے مطابق شہر میں پتنگ اور ڈور کی فروخت کیلئے مجموعی طور پر 2 ہزار 276 مجاز سیل پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ دکانداروں نے من مانی قیمتیں وصول کرنا شروع کر دی ہیں ، ایک تاوا گڈے کی قیمت300سے 400،ڈیڑھ تاوے کی قیمت550سے 700روپے تک پہنچ گئی ،2 پیس ڈور کا پنا 12ہزار سے بڑھ کر 15 ہزار روپے تک پہنچ چکا ۔ دریں اثناء محکمہ ایوی ایشن کی درخواست پرضلعی انتظامیہ نے ایئرپورٹ کے اطراف ڈی ایچ اے کے 4 بلاکس( آر، ایس، پی ،کیو)، بھٹہ چوک نشاطِ کالونی، علی پارک نادر آباد ،گلشن علی کالونی ،تاج پورہ ، الفیصل ٹاؤن،جوڑے پل اور کینال بنک پل سمیت 9علاقوں میں پتنگ بازی پر پابندی عائد کر دی جبکہ محکمہ صحت نے 13 ہسپتالوں کو 6 سے 8 فروری تک ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
علاوہ ازیں پنجاب کابینہ نے لاہور کے ساتھ مزید 4اضلاع فیصل آباد، قصور، شیخوپورہ اور ملتان میں قابلِ اجازت پتنگ سازی مواد بنانے کی اجازت دیدی ۔دوسری طرف کیمیکل ڈور اور غیر قانونی پتنگ بازی کے خلاف کریک ڈاؤن میں پنجاب پولیس نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر میں 333 مقدمات درج کرکے 340 ملزموں کو گرفتارکرکے 19 ہزار 324 غیر منظور شدہ پتنگیں ،ڈور کی 612 چرخیاں برآمد کر لیں،لاہور سے 167 ملزم پکڑے گئے ۔