اسلام آباد:نماز جمعہ میں خودکش دھماکا،32شہید،169زخمی
ریڈزون سے بارہ پندرہ کلومیٹر دور ترلائی کی مسجد کو نشانہ بنایاگیا،گارڈز کیساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ایک حملہ آور فرار، دوسرے نے دروازے پر خود کو اس وقت اڑا یا جب نمازی سجدہ ریز تھے آئی جی کاعزیز بھی شہید،کئی زخمیوں کی حالت نازک،حملہ آور کا سر مل گیا، داعش سے تعلق، افغانستان میں تربیت لی،4 گرفتار، صدر وزیراعظم کی مذمت،مجلس وحدت مسلمین کا 3روزہ سوگ
اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر،خصوصی رپورٹر، نیوز رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی دارالحکومت کے مضافاتی علاقے ترلائی میں واقع مسجد و امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں جمعہ کی نماز کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے میں 32 نمازی شہید ہوگئے جبکہ 169 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس کی گونج دور دور تک سنی گئی اور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے ، ہر طرف چیخ و پکار شروع ہو گئی اور دھواں پھیل گیا ۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکا جمعہ کی نماز کی دوسری رکعت کے دوران اس وقت ہوا جب نمازی سجدے کی حالت میں تھے ۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق امام بارگاہ کی سکیورٹی کیلئے 6افراد موجود تھے جن میں تین کے پاس اسلحہ تھا،حملہ آور نے پہلے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں سکیورٹی پر مامور دو افراد گولیاں لگنے سے نیچے گر گئے جبکہ تیسرے نے جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک حملہ آور وہاں سے فرار ہو کر گلیوں میں چھپ گیا ،جبکہ دوسرے خودکش حملہ آور نے فائرنگ جاری رکھی، جس سے سکیورٹی پر مامور تیسرا شخص بھی زخمی ہو کر نیچے گر گیا ،خودکش حملہ آور امام بارگاہ کے اندر داخل ہوا جبکہ جو شخص نیچے گرا ہوا تھا اس کی فائرنگ کے نتیجے میں کچھ گولیاں خودکش حملہ آور کو بھی لگیں جس کے بعد وہ نیچے گرا اور ایک زبردست دھماکا ہوا۔مرکزی دروازے کے اندر جا کر جس جگہ پر حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑایا وہاں پر کافی سارے لوگ مسجد کی طرف جا رہے تھے ۔ عینی شاہد رضا جعفر نے بتایا کہ چند سال قبل بھی اس امام بارگاہ کو شدت پسندی کا نشانہ بنایا گیا تھا لیکن بروقت کارروائی کی وجہ سے حملہ آور اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوئے تھے ۔
امام بارگاہ خدیجتہ الکبری ٰجس جگہ پر واقع ہے وہاں سے کامسیٹ یونیورسٹی سمیت دو یونیورسٹیاں زیادہ دور نہیں، جبکہ یہ علاقہ ریڈ زون سے صرف بارہ سے پندرہ کلیومیٹر کی دوری پر ہے ۔ آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے بتایا کہ اس دھماکے میں ان کے کزن کے بیٹے حسن بھی شہید ہوئے جو نماز پڑھنے کیلئے 3 منزلہ عمارت میں موجود تھے ۔ واقعے کے فوری بعد دارالحکومت کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کے حکم پر 25ایمبولینسز اسلام آباد روانہ کی گئیں جبکہ ہسپتالو ں میں ہا ئی الرٹ جاری، سرجنز او ردیگر سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی خدمات بھی طلب کرلی گئیں۔زخمیوں کو پمزہسپتال، پولی کلینک، فیڈرل جنرل ہسپتال اور بے نظیر ہسپتال سمیت مختلف مراکز میں لے جایا گیا،پمز ہسپتال میں گنجائش ختم ہونے کے بعد زخمیوں کو راولپنڈی کے دیگر ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے ،زخمیوں میں سی سی ڈی راولپنڈی کے انسپکٹر غلام شبیر اور ان کے بیٹے غلام رضابھی شامل ہیں۔
واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کردئیے گئے جبکہ پولیس، ریسکیو 1122 اور بم ڈسپوزل سکواڈ کے عملے نے متاثرہ علاقے کو احاطے میں لے لیا، حملے کے محرکات اور دیگر ملزموں کی شناخت کیلئے تفتیشی عمل تیز کردیا۔خودکش حملہ آور کا سر مل گیا،جس کی شناخت یاسر ولد بہادر خان کے نام سے ہوئی ہے جس کی عمر 32 سال اور پشاور کے محلہ قاضیاں کا رہائشی ہے ، حکومتی ذرائع کے مطابق خود کش بمبار کا تعلق کالعدم تنظیم داعش سے ہے اور اس نے افغانستان سے دہشتگرد کارروائیوں کی تربیت حاصل کی ،وہ پانچ ماہ افغانستان میں رہ کر آیا ہے ۔ خودکش بمبار کی والدہ اور دو بھائیوں سمیت چار افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ۔وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا حملہ آور کے جسمانی شواہد اور دیگر شواہد کی بنیاد پر تفتیش جاری ہے اور تمام معلومات اعلیٰ سطح پر شیئر کی جا چکی ہیں۔خودکش بمبارکی ٹریول ہسٹری افغانستان کی ہے ۔
وہ افغانستان کا شہری تو نہیں لیکن کتنی بار اس نے افغانستان کا سفر کیا ہے اس کی تفصیل آ گئی ہے ۔ملک بھر میں ہونے والی دہشت گردی میں ہمسایہ ملک ملوث ہے ، یہ دہشت گرد بزدلی کی آخری حدوں کو چھو گئے ہیں، یہ سافٹ ٹارگٹس پر حملہ آور ہوتے ہیں۔جبکہ بلوچستان میں دہشت گردوں کو اُن کی سوچ سے زیادہ نقصان پہنچایا گیا۔ ہمسایہ ملک بھارت کی پراکسی نہ بنیں، جو ملک بھر میں ہونے والی دہشت گردی میں معاونت کررہا ہے ۔پولیس نے حملے کی ذمہ داری فتنہ الخوارج پر عائد کی ہے ،حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ خود کش بمبار نے افغانستان سے دہشتگرد کارروائیوں کی تربیت حاصل کی، خود کش بمبار متعدد بار افغانستان کا سفر کر چکا ہے ۔افغانستان میں موجود مختلف دہشتگرد گروہ طالبان رجیم کی سرپرستی میں خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، پاکستان میں ہر دہشتگردانہ کارروائی کے پس پشت افغانستان اور بھارت کا گٹھ جوڑ ہے ۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پوری قوم ایسی مذموم اور بزدلانہ کارروائیوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ہے ۔
صدرآصف علی زرداری نے دہشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا قوم مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی اور وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کرکے واقعے کی فوری تفتیش اور ذمہ داران کے تعین کے احکامات جاری کیے ۔ وزیراعظم نے کہا ملک میں بے امنی پھیلانے والوں کو کوئی چھوٹ نہیں دی جائے گی اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دلائی جائے گی۔وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا نمازیوں کو نشانہ بنانا نہایت بزدلانہ، انسانیت سوز اور قابل نفرت فعل ہے ۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا اس ظلم کا جواب ریاست پوری قوت سے دے گی، بھارت عبرت ناک شکست کے بعد اپنی پراکسیوں کے ذریعے جنگ لڑ رہا ہے ، بھارت کی اب براہ راست جنگ لڑنے کی ہمت نہیں۔
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا پاکستان میں دہشتگردی کی کوئی جگہ نہیں ہے ، نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، دین اور قومی ضمیر پر حملہ ہے ۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق،گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی ،و دیگر نے بھی دہشتگردی کی مذمت کی۔ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد نقوی نے کہا دارالحکومت میں دہشتگردی سکیورٹی پر سوالیہ نشان ہے ، مطالبہ کرتے ہیں کہ خود کش حملے کی باریک بینی سے تحقیقات کرائی جائیں اور حقائق کو منظر عام پر لاتے ہوئے خود کش حملے میں ملوث شر پسندوں اور ان کے سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کرقرار واقعی سزا دی جائے ۔شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے کہا متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے سانحہ اسلام آباد کے خلاف نمائش چورنگی پر احتجاج کیا گیا،مجلس وحدت مسلمین نے سانحہ پر 3روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے ۔