آئی ایم ایف سے وعدے اپنی جگہ،مہنگائی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا،قابو پائینگے:گورنر سٹیٹ بنک
جی سی سی ممالک سے ترسیلات زر میں اضافہ کیلئے نیا جامع فریم ورک تیارکررہے ،42 ارب ڈالر سے زائدموصولی کی توقع آئی ایم ایف پروگرام کے تحت یو اے ای ودیگر ممالک کے قرض رول اوور ہوتے رہینگے ،بیرونی ادائیگی کا دباؤ کم ہوگا،جمیل احمد
کراچی (سٹاف رپورٹر) گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے ملکی معیشت، ترسیلات زر، زرمبادلہ کے ذخائر، مانیٹری پالیسی، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق متعدد اہم انکشافات اور خوشخبریاں سنادیں۔ سٹیٹ بینک ہیڈ آفس میں صحافیوں سے خصوصی ملاقات میں ان کا کہنا تھا جی سی سی ممالک سے پاکستان آنے والی ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک ایک نیا جامع فریم ورک تیار کر رہا ہے جس کے تحت آئندہ ایک سال میں پاکستان کو 42 ارب ڈالر سے زائد ترسیلات زر موصول ہونے کی توقع ہے ۔ گورنر سٹیٹ بینک نے بتایا آئی ایم ایف پروگرام کے تحت متحدہ عرب امارات سمیت دیگر دوست ممالک کے قرضے رول اوور ہوتے رہیں گے ، جس سے بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مالی سال 2026 میں بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے باوجود پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کم نہیں ہوں گے ، جو معاشی استحکام کی واضح علامت ہے ۔
ڈالر کی سٹے بازی اور ریٹ میں ہیر پھیر کے خلاف کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک نے کہا گزشتہ تین برس کے دوران قواعد کی خلاف ورزی پر166ایکسچینج کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کیے گئے جبکہ اس وقت ملک میں صرف 26 ایکسچینج کمپنیاں سٹیٹ بینک کی سخت نگرانی میں کاروبار کر رہی ہیں۔گورنر نے انکشاف کیا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرح سود کے فیصلے کو قبل از وقت باہر جانے سے روکنے کے لیے الیکٹرانک ڈیوائسز پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے ، احتیاطی تدابیر کے طور پر اب مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس سٹاک ایکسچینج ٹریڈنگ کے اختتامی مراحل میں شروع کیے جاتے ہیں۔ ڈیجیٹل معیشت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا تناسب تاریخ میں پہلی بار نمایاں سطح پر پہنچ گیا ہے۔
اور یومیہ 70 سے 80 لاکھ ڈیجیٹل لین دین ریکارڈ ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا اگرچہ شرح سود میں کمی سے حکومتی قرضوں کے حجم میں کمی آتی ہے تاہم اس کے نتیجے میں سٹیٹ بینک کے منافع میں کمی واقع ہوتی ہے ۔ انہوں نے واضح کیا آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدے اپنی جگہ مگر مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سٹیٹ بینک کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گا۔انہوں نے بتایا سٹیٹ بینک اب تک 6 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ادا کر چکا ہے اور مزید تقریباً 4 ارب ڈالر کے قرضے باآسانی ادا کیے جائیں گے ۔ رواں سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہ سکتا ہے اور مہنگائی کی شرح پانچ سے سات فیصد تک رہ سکتی ہے ۔ کرپٹو کرنسی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا اس شعبے پر عالمی قوانین اور ضوابط کے تحت کام کیا جا رہا ۔انہوں نے واضح کیا کہ سٹیٹ بینک کا اہم اور اولین ہدف ملکی معاشی نمو کو چار فیصد سے اوپر اور اس کے بعد اگلا ہدف چھ فیصد پر لے جانے کا ہے ۔