بچے حوالگی کیس:جج اور وکیل دشمن،میاں بیوی معاملہ خودحل کریں:جسٹس محسن کیانی

بچے حوالگی کیس:جج اور وکیل دشمن،میاں بیوی معاملہ خودحل کریں:جسٹس محسن کیانی

بچوں کوتقسیم نہیں کیاجاسکتا،میاں بیوی میں جھگڑے ہو سکتے مگر انہیں ماں باپ کی لڑائی میں نہیں بدلناچاہیے گھر بیوی کے نام کرانا بڑی بات نہیں، میں نے اپنی جائیداداہلیہ کے نام کر رکھی:ریمارکس،میاں بیوی صلح پرراضی

اسلام آباد(اپنے نامہ نگارسے )اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے بچے حوالگی کیس میں آئندہ جمعہ کو چاروں بچوں کو عدالت پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ بچوں کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا،میاں بیوی کے درمیان جھگڑے ہو سکتے ہیں مگر انہیں ماں باپ کی لڑائی میں تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے ۔ خاتون کی بچے حوالگی درخواست پرسماعت کے دوران عدالت کے استفسارپر وکیل نے بتایا  کہ ساڑھے بارہ سال سے ساڑھے چار سال کی عمر کے چار بچوں میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں،چھوٹا بیٹا خاتون کے پاس جبکہ تین بچے والد کے پاس ہیں ،عدالت نے میاں بیوی سے علیحدگی سے متعلق سوال کیا تو دونوں نے بیان دیا کہ نہ تو علیحدگی ہوئی ہے اور نہ ہی وہ علیحدگی چاہتے ہیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جب علیحدگی نہیں ہوئی تو چار سال سے الگ رہنے کی وجہ کیا ہے ؟،شوہرنے موقف اختیار کیا اس نے نہ علیحدگی چاہی اور نہ ہی دوسری شادی کی تاہم بیوی کا مطالبہ ہے۔

کہ گھر اس کے نام کیا جائے ، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا گھر بیوی کے نام کرانا کوئی بڑی بات نہیں، میں نے اپنی جائیداد بھی اپنی اہلیہ کے نام کر رکھی ہے ،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ جج اور وکیل میاں بیوی اور بچوں کے دشمن ہوتے ہیں کیونکہ وہ معاملہ حل نہیں کر سکتے جو میاں بیوی خود آپس میں حل کر سکتے ہیں،عدالت نے فریقین کو ہدایت کی کہ وہ آپس میں بیٹھ کر معاملہ حل کریں، معافی مانگنا اور معاف کرنا سیکھیں اور ایک کو غصہ آئے تو دوسرے کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے ،عدالت نے کہا عورت کا حوصلہ ہوتا ہے کہ وہ ماں باپ کو چھوڑ کر شوہر کے ساتھ رہتی ہے اور بچوں کی تربیت کا یہی نازک وقت ہے ، کیونکہ چند سالوں میں بچے بڑے ہو جائیں گے اور اس صورتحال کا خمیازہ دونوں والدین کو بھگتنا پڑ سکتا ہے ،عدالتی استفسار پر دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سے معافی مانگنے پر آمادہ ہو گئے جس پر عدالت نے انہیں کمرہ عدالت میں ساتھ بیٹھنے کی ہدایت کر دی۔ بعدازاں سماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کر دی گئی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں