خواجہ مسعود مرحوم نے جب اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کا نام اپنے روحانی مرشد جلال الدین رومی کے نام پر جلال الدین رومی رکھا تو ان کے دل کے نہاں خانوں میں یہی خواہش تھی کہ نومولود بڑا ہو کر ویسا ہی بنے۔ انہیں کیا خبر تھی کہ یہ بچہ بڑا ہو کر ایسا فقیر منش‘ غنی‘ فیاض اور سخی ثابت ہو گا کہ ان کے مرشد کے نام کی لاج بھی رکھے گا اور اسے روشن بھی کرے گا۔ رومی ملتان کا حاتم طائی ثابت ہوا۔
ایمانداری کی بات ہے کہ میں یہ کالم خواجہ جلال الدین رومی کی زندگی میں لکھ ہی نہیں سکتا تھا کہ ہمارا دوست ہم سے ناراض ہو جاتا اور ایسے محبت کرنے والے کی ناراضی کا کم از کم یہ عاجز تو تصور بھی نہیں کر سکتا۔ جلال الدین رومی صرف شہرِ ملتان کا دوست اور مربی نہیں تھا بلکہ اس کی محبت کے اسیر دنیا بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی اس شہر میں آئے‘ خواجہ جلال الدین رومی سے ملے اور پھر اس کی محبت کا اسیر نہ ہو جائے۔ اسے رب العزت نے غریبوں میں اپنی دولت اور دوستوں میں محبت تقسیم کرنے کیلئے پیدا کیا تھا اور وہ یہ دونوں کام کرتا ہوا دو روز قبل اپنے مالک کے ہاں حاضر ہو گیا۔ پانچ روز قبل اس نے ہسپتال میں اپنے سرہانے کھڑے ہوئے اپنے منجھلے بیٹے خواجہ نجم الدین سے پوچھا کہ آج شعبان کی کیا تاریخ ہے۔ اس نے بتایا کہ آج شعبان کی تیرہ تاریخ ہے۔ اگلے روز پھر اسے مخاطب کرکے پوچھا: آج شعبان کی چودہ تاریخ ہے نا! نجم الدین نے اثبات میں سر ہلا کر تصدیق کی۔ جلال الدین رومی نے اسے بتایا کہ کل شعبان کی پندرہ تاریخ ہے۔ خدا جانے اس کے دل میں کیا تھا مگر اسے پندرہ شعبان کا انتظار تھا۔ اگلے روز دن ڈھلے چاند کے ساتھ پندرہ شعبان کا آغاز ہوا اور جلال الدین رومی اپنے اگلے سفر پر روانہ ہو گیا۔ اب سمجھ آئی کہ وہ گزشتہ تین روز سے بار بار پندرہ شعبان کا کیوں پوچھ رہا تھا۔
اسے لوگوں کی زندگیاں بدلنے کا شوق بھی تھا اور اسے اس کا ہنر بھی آتا تھا۔ ایک دوست بتانے لگا کہ 2021ء میں اس کے پاس ایک خاتون آئی‘ اس کے ساتھ اس کی بیٹی بھی تھی۔ خاتون نے بتایا کہ وہ بیوہ ہے اور اس کی تین بیٹیاں ہیں۔ اس بیٹی کا ملتان کے ایک نجی میڈیکل کالج میں داخلے کا میرٹ تو آ گیا ہے لیکن اس کے پاس اس کی فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں ہے۔ اس دوست‘ جو ضلعی انتظامی افسر تھا‘ نے اپنے ذرائع سے اس خاتون کے بارے میں معلوم کیا تو اس کی باتوں کی تصدیق ہو گئی۔ اس نے جلال الدین رومی کو بتایا کہ اس طرح ایک بچی کا داخلہ ہو گیا ہے مگر مالی مشکلات درپیش ہیں۔ دو روز بعد جلال الدین رومی نے پہلے سال کی فیس کا پندرہ لاکھ روپے کا چیک ان کے گھر بھجوا دیا اور یہ سلسلہ اس کی تعلیم کے مکمل ہونے تک چلتا رہا۔ یہ صرف ایک بچی کی کہانی ہے۔ خواجہ رومی ایک دو نہیں بلامبالغہ سینکڑوں مستحق طلبہ و طالبات کے تعلیمی اخراجات اس خاموشی سے پورے کر رہا تھا کہ اس کا صحیح علم صرف اس کے اکاؤنٹس والوں کو ہی تھا۔
امراضِ گردہ کے مریضوں کیلئے خواجہ رومی نے نہ صرف یورالوجی وارڈ قائم کروایا بلکہ مفت ڈائیلیسز کا سارا خرچہ بھی برداشت کرتا تھا۔ اس کے علاوہ دل اور سینے کی سرجری اور انتہائی نگہداشت کے شعبوں پر مشتمل 120 بیڈز کا میڈیکل کمپلیکس تعمیر کرایا۔ وہ گزشتہ کئی سال سے نشتر ہسپتال‘ چودھری پرویزالٰہی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور چلڈرن کمپلیکس میں جان بچانے والی ادویات‘ وینٹی لیٹرز اور ڈائیلیسز مشینوں کے علاوہ انسانی وسائل بھی فراہم کر رہا تھا۔ اس نے سندھ اور بلوچستان کے اُن علاقوں میں جہاں پانی کی فراہمی کا مسئلہ درپیش تھا‘ ہزاروں لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا بندوبست کیا۔ خواجہ رومی ملتان میں درجن بھر سے زیادہ فلٹریشن پلانٹس کی دیکھ بھال اور آپریشنل اخراجات بڑی خاموشی سے ادا کر رہا تھا۔
ایک ضلعی انتظامی افسر نے اسے اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ ملتان شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کرنے کیلئے ان کے بیوٹیفکیشن پروگرام میں اپنا حصہ ڈالے۔ خواجہ رومی نے مسکرا کر کہا کہ وہ شہر کو اس طرح سے نہیں کسی اور طرح سے خوبصورت کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ وہ شہر میں چوک‘ محرابیں اور دروازے بنوانے کے بجائے محنت کشوں‘ سفید پوشوں اور مستحقین کی زندگیاں آسان کرنے‘ ان کو صحت اور تعلیم کی سہولتیں فراہم کرنے اور ان کے روزگار کو یقینی بنانے کیلئے کوشاں تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ چوک کی خوبصورتی‘ دروازوں کا حسن اور پارکوں کا سبزہ تو مرجھا سکتا ہے مگر کسی بچے یا بچی کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا‘ کسی مستحق کو معاشی طور پر اس کے پاؤں پر کھڑا کرنا اور کسی ضرورت مند کو کھانا کھلانا سیمنٹ اور سریے سے وقتی خوبصورتی کیلئے بنائی جانے والی آرائشی تعمیرات اور ان پر لگنے والی ناموں کی تختیوں سے کہیں زیادہ دیرپا اور بہتر کام ہے اور وہ اپنے اس کام میں شہر کا سب سے نمایاں شخص تھا۔
ایک روز مجھ سے کہنے لگا: ہم عام روٹین سے ہٹ کر شہر میں مفت کھانے کا کوئی بندوبست کرنے کے بجائے ملتان ریلوے سٹیشن پر کام کرنے والے قلیوں کیلئے کھانے کا اہتمام کیوں نہ کریں۔ پھر اس نے اپنے خیال کو عملی جامہ پہنا دیا۔ گزشتہ کئی سال سے وہ ملتان ریلوے سٹیشن پر محنت مزدوری کرنے والے قلیوں کو کھانا فراہم کر رہا تھا۔ تین روز قبل جب حضرت بہاء الدین زکریاؒ کے مزار کے صحن میں خواجہ جلال الدین رومی کی نمازِ جنازہ ادا ہو رہی تھی تو اپنی مخصوص سرخ قمیص میں ملبوس درجنوں قلی میلوں دور اپنے محسن کو آخری بار خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے موجود تھے۔ جلال الدین رومی کا دل بہت بڑا تھا اور اس کا ہاتھ اس سے کہیں زیادہ کھلا تھا۔
اس کی رہائش گاہ کے ارد گرد کے درجنوں گھروں کے ملازمین‘ ڈرائیور اور مالی وغیرہ ہر روز کبھی ناشتہ‘ کبھی دوپہر کا اور کبھی رات کا کھانا اس طرح کھاتے کہ جلال الدین رومی کے ملازم ان تک یہ کھانا خود پہنچاتے۔ جلال الدین رومی بھک منگوں‘ پیشہ ور گدا گروں اور فقیروں کے بجائے کم آمدنی والے محنت کشوں کیلئے دل میں ایسا درد لیے پھرتا تھا کہ ان کی ہر ممکن مدد کے باوجود اس کی تسلی نہ ہوتی تھی۔ کسی شادی پر جاتا تو شادی میں دی جانے والی سلامی سے کئی گنا زیادہ رقم بیروں میں تقسیم کر دیتا۔ کسی کا زیر تعمیر گھر دیکھنے جاتا تو مزدوروں کو اس خاموشی سے پیسے پکڑاتا کہ کسی کو کم ہی خبر ہوتی۔ اس کے چلے جانے سے یہ شہر مزید بانجھ ہو گیا۔ سینکڑوں طلبہ و طالبات‘ سفید پوش‘ مستحقین اور بیوائیں بے آسرا اور بہت سے یتیم ایک بار پھر یتیم ہو گئے۔
خواجہ جلال الدین رومی اپنی مختصر سی زندگی میں اتنا کچھ کر گیا ہے کہ اس کیلئے کئی کالم درکار ہیں لیکن یہ وہ کام ہے جسے وہ اپنی زندگی میں ناپسند کرتا تھا اور اسے تشہیر سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ساری عمر لوگوں کی خدمت میں مصروف خواجہ رومی نے اپنے سفرِ آخرت سے لے کر اپنی لحد تک کا معاملہ اپنی زندگی میں ہی طے کر لیا تھا۔ بھائی الیاس کو بلا کر کہنے لگا: میں نے اپنا کفن پہلے ہی لے رکھا ہے‘ مجھے ہسپتال سے گھر لے جانا اور وہیں نہلانا۔ پھر مجھے دفتر لے جانا اور ابا جی کے کمرے میں تھوڑی دیر رکھنا۔ اگر پیر آف گولڑہ شریف آئیں تو میری نمازِ جنازہ ان سے پڑھوانا۔
خواجہ رومی کا جنازہ اگرچہ میرے گھر سے نہیں اٹھا مگر اس کو کندھا دیتے ہوئے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے اپنے بھائی کی میت اٹھا رہا ہوں۔ نمازِ جنازہ اسکے پیر معین الحق کے صاحبزادے نے پڑھائی۔ جنازہ کے بعد چہرہ دیکھنے کیلئے چہرے سے کفن ہٹایا گیا تو میں شش و پنج میں پڑ گیا کہ اس کو آخری بار دیکھوں یا نہ دیکھوں؟ پھر سوچا کہ یہ روشن چہرہ ابھی تھوڑی دیر بعد بہاء الدین زکریاؒ کے مزار میں منوں مٹی تلے ہمیشہ کیلئے گم ہو جائے گا۔ میں نے اسے دیکھنے کی کوشش تو کی مگر کچھ صاف دکھائی نہ دیا۔ آنکھوں میں اتر آنے والے پانی نے سب کچھ دھندلا دیا تھا‘ مگر مجھے یقین ہے وہ مسکرا رہا ہو گا۔