"KMK" (space) message & send to 7575

تعلیم بغیر تربیت بیکار ہے

بڑے کام تو ہماری حکومتوں کے بس کی بات نہیں‘ لیکن اب اسے ڈھٹائی کہیں یا اپنے بارے میں کوئی غلط فہمی سمجھ لیں کہ یہ عاجز کبھی کبھی اپنی اوقات سے بڑی باتوں کے بارے میں سوچتا ہے اور پھر لکھ بھی دیتا ہے۔ حالانکہ عالم یہ ہے کہ بڑی باتیں اور بڑے کام تو رہے ایک طرف‘ ادھر تو چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی لکھے کے اکارت جانے کا یقین رہتا ہے مگر لکھتے ہیں اور اس یقین کے ساتھ کہ ہم اپنا فرض ضرور پورا کر رہے ہیں۔ آپ اسے ثابت قدمی سمجھ لیں تو یہ آپ کی عنایت ہو گی وگرنہ اس کیلئے زیادہ مناسب الفاظ بھی موجود ہیں۔
ویسے تو اگر حکومتیں اپنا کام ٹھیک طرح سرانجام نہ دے رہی ہوں تو یہ کہہ کر جان نہیں چھڑائی جا سکتی کہ حکومتوں کا کام حکومتیں جانیں۔ ان مسائل کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا جو ہماری روز مرہ کی زندگی سے متعلق ہیں۔ ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ میں اب کسی حد تک اس بات کا بھی قائل ہوتا جا رہا ہوں کہ اس قوم پر کسی بات کا‘ کسی لکھے کا اور کسی سمجھائے کا اثر آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے اور حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اول تو لوگ ہماری بات سنتے ہی نہیں‘ اور اگر سنتے ہیں تو سمجھتے نہیں اور اگر سمجھتے بھی ہیں تو اس پر عمل کرنے کیلئے قطعاً تیار نہیں۔ امام فخر الدین رازی کا ایک قول ہے کہ ''سب لوگ مردہ ہیں سوائے علم والوں کے‘ اور علم والے سوئے ہوئے ہیں‘ سوائے ان کے جو اپنے علم پر عمل کرتے ہیں‘ اور عمل کرنے والے بھی ہلاکت میں ہیں سوائے مخلص لوگوں کے‘ اور مخلص لوگ بھی ایک بہت بڑے خطرے میں ہیں اور اس خطرے سے محفوظ صرف وہ ہیں جو تکبر سے پاک اور عاجزی والے ہیں‘‘۔ ان مدارج میں ہم جیسوں کا مقام کیا ہے اور ہم کہاں کھڑے ہیں؟ تاہم یہ بات طے ہے کہ ہم گھنٹی بجانے پر مامور ہیں اور اپنی استطاعت اور ہمت کے مطابق صدائے خیر بلند کر رہے ہیں۔
ٹریفک کے معاملات میں قانون محض جرمانے بڑھانے پر اور اس پر عملدرآمد کرانے والے ادارے اور اس کے اہلکار صرف چالان کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ چالان اور جرمانے اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے اور قانون اس وقت تک کاغذ کے ٹکڑے پر لکھے ہوئے بیکار الفاظ سے زیادہ کی اہمیت نہیں رکھتا جب تک اس پر عملدرآمد اور اس کی خلاف ورزی پر سزا کا اطلاق نہیں ہوتا۔ جرمانے اور چالان بہرحال اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ضرور ہیں لیکن اس معاملے کو باقاعدہ بہتری کی طرف لے جانے کیلئے سزا کے خوف کے ساتھ احساسِ ذمہ داری اور قانون پر راضی برضا ہو کر عمل کرنے کا احساس پیدا کرنا نہایت ضروری ہے۔ یہ جو میں عوام الناس کی جانب سے ٹریفک قوانین کی روز افزوں بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں پر لکھتا ہوں تو اس کے پس منظر میں میری بنیادی خواہش یہی ہے کہ لوگ اس معاملے کو محض چالان اور جرمانے سے جوڑ کر دیکھنا چھوڑ دیں اور اسے ایک سماجی اور معاشرتی مسئلے کے طور پر دیکھیں اور ان قوانین پر عملدرآمد کو سب سے پہلے تو اپنی ذات کے حوالے سے دیکھیں کہ ان قوانین پر عمل کرنے کی صورت میں اس کے سب سے پہلے بینی فشری یعنی فائدہ حاصل کرنے والے وہ خود ہیں۔ اگر آپ تھوڑے سے خود غرض ہو کر بھی سوچیں تو معاشرہ اور سماج دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ ٹریفک قوانین بنیادی طور پر انسانی جان کی حفاظت کو مدنظر رکھ کر بنائے جاتے ہیں اور کوشش کی جاتی ہے کہ ان قوانین کے ذریعے ممکنہ حد تک انسانی جان ومال کو محفوظ رکھتے ہوئے ٹریفک کے نظام کو رواں رکھا جائے۔ اس سارے نظام کو محفوظ انداز میں چلانے کے سبب سے بنیادی ذمہ داری ڈرائیور کے کندھوں پر ہوتی ہے۔ ذاتی سواری کا ڈرائیور ہونے کی ذمہ داری پر فائز شخص خود اپنی جان کے ساتھ اپنے خاندان کی حفاظت کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ کی صورت میں وہ بہت سے دیگر لوگوں کی جان ومال کا محافظ ہوتا ہے۔ یعنی ہر دو صورتوں میں ڈرائیور کے کندھوں پر خود اپنی جان کے علاوہ اور بہت سے افراد کی جان کی حفاظت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
فی الوقت میں ڈرائیور کی ذات کی حد تک رہتے ہوئے بات کروں تو ہیلمٹ پہننے‘ سیٹ بیلٹ لگانے‘ دوران ڈرائیورنگ موبائل فون نہ سننے‘ ون وے کی پابندی کرنے اور اشاروں پر عمل کرنے کا سب سے پہلا فائدہ خود ان پر عمل کرنے والے کو ہے۔ بصورت دیگر اس کا پہلا شکار بھی اس پر عمل نہ کرنے والا خود ہوتا ہے۔ ان موٹی موٹی باتوں کو محض جرمانوں کے ذریعے سمجھانے کی کوشش بہرحال وہ اثر نہیں ڈال سکتی جو اثر ذہنی تربیت کے ذریعے ڈالا جا سکتا ہے اور اس سلسلے میں سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ سکولوں میں ابتدائی تعلیمی مدارج کے دوران انگریزی‘ حساب اور اس قسم کے دیگر غیر ضروری مضامین پڑھانے کے بجائے ابتدائی عمر میں بچوں کی معاشرتی اور سماجی نشوونما پر توجہ دی جائے۔ چار پانچ سال کے بچے کو نہ تو ولیم ورڈز ورتھ بننا ہے اور نہ ہی اس نے مسئلہ فیثا غورث حل کرنا ہے۔ یہ وقت اس کی ذہنی نشوونما کا ہوتا ہے اور اسی عمر میں اسے معاشرے کا کارآمد شہری بننے کی تعلیم دی جانی چاہیے۔
سولہ سترہ سال کی تعلیم کے دوران کم از کم اس عاجز نے اپنی معاشرتی ذمہ داریوں یا اخلاقیات کی تربیت کے سلسلے میں کوئی کورس نہیں پڑھا۔ اخلاقیات اور تربیت کے بارے میں کُل دو جملے پڑھائے گئے‘ ایک یہ کہ ماں باپ کا احترام کرو اور دوسرا یہ کہ استاد کی عزت کرو۔ اس کے علاوہ کوئی اخلاقی سبق مجھے یاد نہیں۔ اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی بچہ باقی سارے معاشرے اور سماج کو تو جوتے کی نوک پر رکھے اور صرف ماں باپ اور استاد کی عزت کرے۔ عزت کرنا اور احترام دینا ایک رویے کا نام ہے۔ جب آپ کا رویہ بقیہ سارے معاشرے کے معاملے میں عزت واحترام سے عاری ہوگا تو آپ کے دل سے ماں باپ کی عزت اور استاد کا احترام بھی مٹ جائے گا۔
میں ایک روز اپنے دونوں نواسوں کو ان کے سکول سے واپس گھر لانے کیلئے گیا تو وہ دونوں اس وقت اپنے پلے روم میں کھیل رہے تھے۔ سیفان تب شاید پانچ سال کا اور ضوریز بمشکل چار سال کا تھا۔ وہ ایک رنگین میز کے گرد اپنی چھوٹی چھوٹی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کی کلاس ٹیچر ان کو میز پر رکھے ہوئے چھوٹے سے بیٹری سے چلنے والے ٹریفک اشارے کو جلا بجھا کر سرخ‘ پیلی اور سبز روشنی پر رکنے‘ تیار ہونے اور چلنے کے بارے میں سمجھا رہی تھی۔ نرسری اور پریپ کلاس کے بچوں کا نہ کوئی بستہ تھا اور نہ ہی کوئی اے بی سی یا گنتی کا کوئی قاعدہ تھا۔ اس دوران صرف انہیں روز مرہ کی چیزوں جیسے کھانے پینے کا سلیقہ‘ باتھ روم استعمال کرنے کا طریقہ‘ سڑک پار کرنے کا قرینہ‘ صفائی کی اہمیت‘ ٹریفک کے قوانین اور بکھری ہوئی چیزوں کو ترتیب دینا سکھایا جا رہا تھا۔ اس کا اثر میں نے یہ دیکھا کہ دو سال بعد جب سیفان شاید سکول کے دوسرے درجے میں تھا‘ ہمارے ساتھ شاپنگ کرکے مال سے نکلا اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔ ابھی گاڑی چلی ہی تھی کہ کہنے لگا کہ اسے پیشاب آیا ہے۔ میری بیٹی کہنے لگی کہ ہم پانچ سات منٹ میں گھر پہنچ جائیں گے۔ یہ کہہ کر اس نے گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔ سیفان نے مال کی پارکنگ میں لگے ہوئے سائن بورڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں حد رفتار بیس میل کا بورڈ لگا ہوا ہے اور وہ اس سے تیز گاڑی نہیں چلا سکتی۔ ماں کو کہنے لگا کہ وہ سامنے برگر شاپ کے باتھ روم میں چلا جائے گا لیکن گاڑی کی رفتار بیس میل سے زیادہ نہ کی جائے۔ قانون ہمارے ہاں بھی موجود ہے مگر تربیت نہ ہونے کی وجہ سے قانون مذاق بن چکا ہے۔ ایک لفظ تعلیم وتربیت ہوتا تھا۔ ویسے تو ہمارے ہاں تعلیم کی حالت بھی کافی پتلی ہے تاہم تربیت کا خانہ تو بالکل صاف ہو چکا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ''علم بغیر عمل بیکار ہے اور عمل بغیر خلوص آزار ہے‘‘۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں