سپریم جوڈیشل کونسل:3ججوں کیخلاف شکایات پر کارروائی کا فیصلہ
آرٹیکل 209کے تحت دائر 59شکایات جائزہ کے بعد50نمٹا کرداخل دفتر لاپتہ وگرفتار افراد کو 24گھنٹے میں پیش نہ کرنے کیخلاف نظام تیار کرنیکا فیصلہ
اسلام آباد(اپنے نامہ نگارسے )سپریم جوڈیشل کونسل نے آرٹیکل 209 کے تحت دائر 59 شکایات کا جائزہ لینے کے بعد50شکایات نمٹا کرداخل دفتر،6موخر جبکہ 3کومزید کارروائی کے لیے بھجوا دیا، جوڈیشل کمیشن کے بھی دو اجلاس ہوئے ، بلوچستان ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کے حوالے سے اجلاس موخر کیا گیا، نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی اجلاس میں بھی عدالتی اصلاحات اور بروقت انصاف کی فراہمی کے اہم فیصلے کیے گئے ،گزشتہ روز سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس چیف جسٹس یحیی آفریدی کی صدارت میں سپریم کورٹ اسلام آباد میں ہوا، اسی دوران کونسل نے ڈرافٹ رولز کی منظوری آئندہ اجلاس تک مؤخر کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا۔
اجلاس میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس منیب اختر، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سردار محمد سرفراز ڈوگر شریک ہوئے ، جبکہ آٹھ شکایات کے لیے کونسل کی تشکیلِ نو کرتے ہوئے جسٹس سرفراز ڈوگر کی جگہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سید محمد عتیق شاہ کو شامل کیا گیا، علاوہ ازیں چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرِ صدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے دو اجلاس ہوئے ، اعلامیہ کے مطابق کمیشن نے ججز کی تقرری کے وقت امیدواروں کے انٹرویوز سے متعلق مجوزہ قواعد کے فریم ورک پر غور کیا،ابتدائی بحث کے بعد کمیشن نے مزید تفصیلی غور و خوض کے لیے ایجنڈا مؤخر کر دیا،بلوچستان ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کا دوسرا اجلاس بھی موخر کردیا گیا،بلوچستان کی ڈسٹرکٹ جوڈیشری سے دو ایڈیشنل ججز کی تقرری پر غور کیا گیا،بلوچستان بار کونسل کے نمائندے کی نامزدگی تک معاملہ مؤخر کر دیا گیا۔
قبل ازیں نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کا57 واں اجلاس چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر صدارت ہوا جس میں عدالتی اصلاحات اور بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں،لاپتہ افراد اور گرفتار افراد کو 24 گھنٹوں میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہ کرنے کے خلاف دو ہفتوں میں باقاعدہ شکایتی نظام تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا،عدالتی اداروں کے لیے مصنوعی ذہانت کے رہنما اصولوں کی منظوری بھی دے دی گئی۔جاری اعلامیہ کے مطابق اٹارنی جنرل جبری گمشدگیوں اور گرفتاریوں سے متعلق قانونی فریم ورک پر باقاعدہ پیش رفت رپورٹ پیش کریں گے ،عدالتی اداروں کے لیے مصنوعی ذہانت کے رہنما اصولوں کی منظوری دے دی گئی اور ہائی کورٹس کو عدالتی مصنوعی ذہانت کے نفاذ کے لیے اپنے طریقہ کار اور حفاظتی نظام خود وضع کرنے کا اختیار ہوگا، اسی طرح تمام اضلاع میں ای فائلنگ کے نفاذ کے لیے عدالتی قواعد میں ترامیم کا فیصلہ اور لازمی پری ٹرائل ثالثی کے لیے قانون سازی میں تیزی لانے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔
اجلاس میں تمام ہائی کورٹس میں غیر ملکی ثالثی فیصلوں سے متعلق مقدمات کے لیے مخصوص بینچ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ ایف بی آر کی جانب سے بے بنیاد اپیلوں کی حوصلہ شکنی اور غیر ضروری مقدمات کی سکریننگ کے اقدامات کو سراہا گیا۔ ہائی کورٹس اور ضلعی عدلیہ کی بروقت مقدمات نمٹانے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے بتایا گیا کہ یکم ستمبر 2025 سے 15 جنوری 2026 تک ملک بھر میں سات لاکھ چون ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے گئے ، لاہور ہائی کورٹ میں 2020 سے قبل کے تقریباً تمام پرانے مقدمات نمٹا دیئے گئے ، ماڈل، سول و فوجداری عدالتوں میں چار ماہ کے دوران انسٹھ ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے گئے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جیل اصلاحات پر کارکردگی کو بھی سراہا گیا۔ مزید برآں 2026-27 کے دوران تمام صوبوں میں خواتین کے لیے فیملی سپورٹ اور میڈی ایشن مراکز قائم کرنے پر توجہ دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔