بجلی پر فکسڈ ٹیکس کمزور ریگولیٹری،ناقص معاہدوں کا نتیجہ

بجلی پر فکسڈ ٹیکس کمزور ریگولیٹری،ناقص معاہدوں کا نتیجہ

یہ اصلاحات نہیں صارفین پر عملی بوجھ کی منتقلی، اکثریت کو ریلیف دیں

(تجزیہ:سلمان غنی)

نیپرا کی جانب سے ماہانہ 300یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز لگادئیے گئے ہیں ، مطلب مسائل زدہ عوام کے لئے کہیں سے کوئی خیر کی خبر نہیں اور ہر آنے والے وقت کے ساتھ ساتھ آمدن محدود اور اخراجات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو خود حکومت اور حکومتی لیڈر شپ کے لئے لمحہ فکریہ ہے اور بڑا سوال یہ کھڑا نظر آ رہا ہے کہ آخر کیونکر ملک میں جاری جمہوریت عوام کے لئے اطمینان اور ملک میں استحکام کا باعث نہیں بن رہی اور آخر کب تک مہنگائی زدہ عوام یہ لوڈ برداشت کرتے رہیں گے ۔فکسڈ چارجز لگانے کے عمل کا کیا جواز ہے اس کا تجزیہ ضروری ہے ۔

بجلی گھروں کو کیپسٹی پیمنٹ میں جو بھاری ادائیگیاں کی جاتی ہیں وہ حکومت کے لئے تو پریشانی کا باعث ہیں لیکن فکسڈ ٹیکس لگا کر یہ مالی بوجھ براہ راست صارفین کو منتقل کیا جا رہا ہے یعنی اب صارف صرف استعمال شدہ بجلی کی ادائیگی ہی نہیں کرے گا بلکہ سسٹم کی موجودگی کی لاگت کا بوجھ بھی اس پر آئے گا۔ جہاں تک بجلی کی بحرانی کیفیت کا سوال ہے تو بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اپنی نااہلی اور مجرمانہ غفلت کے باعث اپنے لائن لاسز اور ریکوری مسائل بھی حل نہیں کر پا رہیں، ماضی میں صنعتی و کمرشل صارفین پر زیادہ بوجھ ڈال کر گھریلو صارفین کو بجلی پر سبسڈی دی جاتی تھی لیکن صنعتوں کو ریلیف دینے کی پالیسی کے ساتھ گھریلو صارفین پر جزوی لاگت شفٹ کی جا رہی ہے ۔

ویسے بھی اگر حکومتی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تو حکومت نے توانائی سمیت بعض اہم شعبہ جات میں فیصلوں کے عمل کو آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط کیا ہے اور خصوصاً توانائی اصلاحات پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہے اور شرائط میں کاسٹ ریکوری ٹیرف بھی شامل ہے اور اس سلسلہ کے تحت فکسڈ چارجز اس سمت قدم ہے تاکہ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ کم ہو ۔ماضی میں کم بجلی خرچ کرنے والوں کا بل بھی کم آتا تھا اور لوگ بجلی کے بل کے خوف کی وجہ سے بجلی کی بچت کرتے نظر آتے تھے لیکن اب فکسڈ ٹیکس سے کم یونٹ استعمال کرنے والوں کو بھی بھاری بل آئے گا جس سے بجلی کی بچت کی ترغیب بھی کمزور پڑ جائے گی ۔بلاشبہ فسکڈ ٹیکس کے نفاذ کا عمل حکومت کی مالی مجبوریوں اور پاور سیکٹر کی سختیوں کو ظاہر کرتا ہے اور یہ ریلیف کی بجائے عملی بوجھ کا عمل ہے جو عوام کے لئے پریشانی کا باعث ہوگا۔ لیکن اس کی اصل وجہ کمزور ریگولیٹری عمل اور طویل المدتی ناقص معاہدے ہیں اور یہ توانائی اصلاحات کی بجائے صارفین پر عملی بوجھ کی منتقلی ہے ۔

اس عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاور سیکٹر زبردست دباؤ میں ہے ۔سیاسی تاریخ میں توانائی کی قیمتیں حکومت کی مقبولیت کا بڑا پیمانہ بنتی ہیں اور اگر موثر اصلاحات کی بجائے بوجھ مرحلہ وار عوام تک منتقل ہوگا تو ان پر عرصہ حیات تنگ ہوتا جائے گا۔ یہ رجحان خود حکومتوں کی عدم مقبولیت کا بڑا پیمانہ بن جاتا ہے ۔ اب بجلی کے بحران اور طوفان کا یہ عمل سولر صارفین پر بھی اثر انداز ہوگا اور گرڈ لاگت بھی صارفین پر پڑ رہی ہے ۔ اب نیٹ میٹرنگ پالیسی پر بھی سختیاں سامنے آ رہی ہیں ۔برآمدات بڑھانے کے لئے صنعت کو سستی بجلی کی فراہمی کا عمل دراصل عام آدمی پر ہی پڑے گا ۔اس کے اثرات میں جہاں عوام کی پریشانی بڑھے گی وہاں بجلی چوری کا رجحان بھی بڑھ سکتا ہے ۔ حکومت کے لئے لازم ہے کہ وہ اکثریت کی ریلیف کا بندوبست کرے جس کے سامنے وہ جوابدہ ہے ۔ عام آدمی اور متوسط طبقہ کے لئے بجلی ناقابل برداشت نہیں ہونی چاہئے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں