"MMC" (space) message & send to 7575

’’مفاہمتی یادداشتوں‘‘ کے سلطان

ماشاء اللہ! ہمارے وزیراعظم ''مفاہمتی یادداشتوں‘‘ کے سلطان ہیں۔ انہوں نے جنابِ عمران خان کے خلاف تحریکِ عدمِ اعتماد کامیاب ہونے کے بعد 11 اپریل 2022ء کو وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھایا اور یہ مدت 14 اگست 2023ء تک جاری رہی۔ درمیان میں نگران دور آیا‘ پھر 8 فروری 2024ء کے قومی انتخابات کے بعد 4 مارچ 2024ء کو انہوں نے دوبارہ وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھایا۔ اس طرح اُن کی وزارتِ عظمیٰ کی کُل مدت اب تک سوا تین سال ہو چکی ہے اور یہ جنابِ عمران خان کی مدت کے قریب تر ہے۔ اس دوران بھارت کے ساتھ چار روزہ جنگ بھی ہوئی‘ اس میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو سرخرو فرمایا اور معرکۂ حق بالخصوص فضائی جنگ میں واضح برتری نصیب ہوئی اور غیر جانبدار دنیا نے اسے تسلیم کیا۔ یہ پوری قوم کیلئے افتخار کی بات ہے۔ موجودہ حکومت اپنا دوسرا کارنامہ یہ بتاتی ہے کہ ملک کو نادہندگی کے خطرے سے نکالا اور ترقی کی راہ پر ڈالا‘ مہنگائی کی شرح میں کمی آئی اور ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قیمت مستحکم ہوئی۔ تاہم خطے کے ممالک بھارت‘ بنگلہ دیش اور افغانستان کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قیمت مقابلتاً کافی کم ہے۔ خسارے میں جانے والے اداروں کی نجکاری موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل تھی‘ لیکن پی آئی اے کے علاوہ کسی اور وقیع ادارے کی نجکاری ممکن نہ ہو سکی اور کہا جاتا ہے کہ 'عارف حبیب کنسورشیم‘ کو پی آئی اے کا باضابطہ کنٹرول اپریل تک منتقل ہو جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف اپنی وزارتِ اعلیٰ کے زمانے سے یقینا فعال اور متحرک رہے ہیں اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دور میں وہ 17 ممالک کے61 غیر ملکی دورے کر چکے ہیں۔ بعض ممالک کے بار بار دورے کیے ہیں اور ''مفاہمتی یادداشتوں‘‘ کی تعداد کم وبیش 200 بتائی جاتی ہے۔ لیکن حکومت نے آج تک یہ نہیں بتایا کہ ان میں سے کتنے ایم او یوز نے عملی شکل اختیار کی اور ان کے نتیجے میں کتنا غیر ملکی زرِ مبادلہ ملک کے اندر آیا‘ کیونکہ زرِ مبادلہ کے اعتبار سے ہمارے سٹیٹ بینک کی ساکھ کا مدار اب تک چین‘ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے فراہم کردہ اُس قرض پر ہے جو محض سہارے کیلئے ہے‘ اسے خرچ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس پر متعلقہ ممالک کو سود بھی ادا کیا جاتا ہے اور ہر سال مدت مکمل ہونے پر تجدید کی درخواست کی جاتی ہے۔ اب بھی ہماری تجدید کی درخواست متحدہ عرب امارات کے پاس جمع ہے۔ ان غیر ملکی دوروں پر یقینا قومی خزانے سے خطیر رقم بھی خرچ ہوتی ہے‘ اس لیے سوال تو بنتا ہے کہ ان دوروں کا ماحصل کیا ہے؟ پس اگر ناگوارِ خاطر نہ ہو تو قوم کو بتایا جائے کہ ان مفاہمتی یادداشتوں میں سے کتنوں نے عملی شکل اختیار کی ہے‘ بالخصوص JF17 تھنڈر کی فروخت کا معاملہ کن ملکوں کے ساتھ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے اور یہ کہ ان سودوں کی تکمیل پر پاکستان اور چین کے حصے کا تناسب کیا ہو گا۔
یہ فرض کر لیا گیا تھا کہ ہم صدر ٹرمپ کے محبوب بن گئے ہیں اور بھارتی وزیراعظم ان کی نظروں میں معتوب ہو چکا ہے۔ نیز بھارت سے درآمدات پر بھاری ٹیکس عائد کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ روس سے خام پٹرول کی درآمد کو بند کر دے اور روس دبائو میں آ کر یوکرین جنگ کے خاتمے پر آمادہ ہو جائے۔ ہم نے تب بھی کہا تھا کہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت امریکہ اور یورپ کی ترجیحِ اول ہے‘ اس کے اسباب یہ ہیں: (1) یہ ایک بڑی عالمی منڈی ہے‘ (2) اس کی معیشت مستحکم ہے اور ترقی کی جانب مائل ہے‘ وہ چند برسوں میں دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے کا دعویدار ہے‘ اس وقت بھی وہ دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے‘ جبکہ پاکستان کا نمبر 40 سے اوپر ہے‘ (3) اہلِ مغرب اُسے چین کے مقابل ایک بڑی فوجی اور معاشی قوت کے طور پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں‘ (4) اس کی تہذیب وثقافت سے بھی اہلِ مغرب کو کوئی حساسیت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حقوقِ انسانی‘ حقوقِ نسواں‘ اقلیتوں کے حقوق کی پامالی اور میڈیا پر دبائو جیسے مسائل پر جس طرح پاکستان کا مواخذہ ہوتا ہے اور تجارتی پابندیوں کی تلوار لٹکی رہتی ہے‘ بھارت میں یہ خرابیاں ہم سے دسیوں گنا زیادہ موجود ہیں‘ لیکن اس کے ساتھ یہ سلوک روا نہیں رکھا جاتا۔
چنانچہ صدر ٹرمپ سوشل میڈیا پر تو بھارت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے رہے‘ لیکن پسِ پردہ بھارت کے ساتھ اُن کے مذاکرات بھی جاری تھے۔ مودی نے یورپی یونین کے ساتھ اپنے تجارتی معاہدے کو اپنے دعوے کے مطابق''اُمُّ الصَّفَقَات‘‘ یعنی تمام کاروباری معاملات کی ماں سے تعبیر کیا ہے اور امریکہ نے بھی بھارتی درآمدات پر ٹیکس ہم سے ایک درجے کم کر کے اٹھارہ فیصد مقرر کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم مودی کو کافی عرصہ انتہائی دبائو میں رکھا‘ لیکن انہوں نے اس دبائو کو انتہائی احسن طریقے سے برداشت کیا اور آخرکار بھارت اس دبائو کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گیا‘ جبکہ ہم صرف خوش فہمی میں رہے۔ امریکہ نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں پہلے پاکستان کو شریک کرنے کا کہا‘ لیکن آخر میں دعوت نہیں دی۔ پس ہم برائے استعمال دستیاب ہوتے ہیں اور یہ فریقِ ثانی کی مرضی ہوتی ہے کہ کب استعمال کرے اور کب نظر انداز کرے۔ عملی صورت یہ ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو اُن پچھتر ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے جن کے ترکِ وطن کے ویزوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے‘ جبکہ بھارت اس فہرست میں شامل نہیں ہے اور اب سعودی عرب نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔
بھارت نے اگرچہ آپریشن سندورکو ناتمام قرار دے کر کھلی جنگ کی دھمکی دے رکھی ہے‘ لیکن اس نے افغانستان کی سابق جہادی تنظیموں کو پراکسی کے طور پر پاکستان کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیا ہے‘ کیونکہ انہیں گوریلا جنگ کا خوب تجربہ ہے۔ یہ ایک بے چہرہ دشمن ہوتا ہے‘ جو معاشرے میں گم ہو جاتا ہے۔ ہر جگہ اُسے پناہ ملتی ہے‘ کمین گاہیں بنا لیتے ہیں‘ لوگ خواستہ وناخواستہ ان کی خدمت بھی کرتے ہیں۔ یہ لوگ انتہائی اطمینان کے ساتھ اپنے اہداف کا تعین کرتے ہیں‘ ریکی کرتے ہیں‘ ضروری اسلحے اور تربیت یافتہ خود کش بمباروں یا دہشتگردوں کی منتقلی کرتے ہیں اور فریقِ مخالف کو غافل پاکر اچانک حملہ کر دیتے ہیں۔ ان کو ناکام بنانے کیلئے بہت بڑے اور باوسائل مربوط جاسوسی نظام کی ضرورت ہوتی ہے‘ جیسا کہ امریکہ نے افغانستان میں قائم کر رکھا تھا اور دوبدو جنگ کے بجائے اسلحہ بردار ڈرونز یا جنگی ہیلی کاپٹر وں کا استعمال کرتا تھا۔ اس نے پُرکشش مراعات پر اُسی معاشرے میں سے جاسوس بھرتی کر رکھے تھے‘ وہ برسرِ زمین گھوم پھر کر ہدف کی نشاندہی کرکے آپریشنل مرکز کو مطلع کرتے اور پھر طے شدہ ہدف پر اچانک حملہ کرکے انہیں نیست ونابودکر دیا جاتا تھا۔ اس کے باوجود آخرِکار امریکہ کو ناکامی کے تاثر کے ساتھ افغانستان چھوڑنا پڑا اور ایک تخمینے کے مطابق اُسے اپنے انخلا کے وقت سات ارب ڈالر کا انتہائی حساس اسلحہ چھوڑ کر جانا پڑا۔ جہاد کے عنوان سے دہشت گردی ایک معیشت بن چکی ہے‘ اس میں عطیات‘ بھتہ خوری‘ لوٹ مار الغرض سب ذرائع شامل ہیں‘ بلوچستان میں بینکوں کی لوٹ مار کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک جماعت یا ادارے کی جنگ نہیں ہے‘ یہ پاکستان کی سلامتی اور قومی بقا کی جنگ ہے اور اس کا حل بھی قوم کے اتحاد ویگانگت میں پوشیدہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری مسلّح افواج کی قربانیاں بھی بے پناہ ہیں‘ لیکن اہم بات یہ ہے کہ انٹیلی جنس کی ناکامی کا اعتراف کیا جائے اور جو اس ناکامی کے ذمہ دار ہیں‘ اُن کی تادیب کی جائے۔ ہمارے ہاں شعار یہ ہے کہ کامیابی کی صورت میں ہر کوئی سہرا اپنے سر باندھنے کیلئے بخوشی آمادہ رہتا ہے‘ لیکن ناکامی کی صورت میں کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتا۔ جب تک ذمہ داری قبول نہیں کریں گے‘ اصلاح کی کوششیں نتیجہ خیز نہیں ہوں گی۔ اگر وزیر داخلہ کا یہ دعویٰ درست ہے کہ ننانوے فیصد وارداتوں کو ہم ناکام بنادیتے ہیں تو بہت غنیمت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں