"MMC" (space) message & send to 7575

شعبان المعظم اور شبِّ برأت… (1)

اسلام کی رو سے شعبان المعظم ایک مقدس اور متبرک مہینہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ''اے اللہ! رجب اور شعبان میں ہمیں برکت عطا فرما اور (انہی برکات کے ماحول میں) ہمیں رمضان تک پہنچا‘‘ (شعب الایمان: 3534)، (2) ''رمضان، اللہ کا مہینہ ہے‘ شعبان میرا مہینہ ہے‘ شعبان پاک کرنے والا ہے اور رمضان گناہوں کی معافی کا سبب ہے‘‘ (کنز العمال: 23685)۔ (3) حضرت عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: ''میں نے (کبھی) نہیں دیکھا کہ سوائے رمضان کے رسول اللہﷺ نے کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں اور آپﷺ سب سے زیادہ نفلی روزے شعبان میں رکھتے تھے‘‘ (ابوداؤد: 2434)۔ (4) حضرت اسامہؓ بن زید نے عرض کیا: ''میں نے مشاہد ہ کیا ہے کہ آپﷺ (رمضان کے علاوہ) کسی بھی دوسرے مہینے کے مقابلے میں شعبان میں زیادہ روزے رکھتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: یہ رجب اور رمضان کے درمیان ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ غافل ہیں‘ اس میں بندوں کے اَعمال ربُّ العالمین کے حضور پیش کیے جاتے ہیں تو مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرے اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور روزے کی حالت میں پیش ہوں‘‘ (نسائی: 2357)۔ (5) حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں: نبیِ کریمﷺ پورے ماہِ شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! کیا نفل روزے کیلئے آپ کو شعبان تمام مہینوں سے زیادہ پسند ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس سال وفات پانے والے تمام افراد کے نام لکھ دیتا ہے‘ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میری وفات روزے کی حالت میں ہو‘‘ (مسند ابویعلیٰ: 4911)۔
بعض تفاسیر میں شعبان کی پندرہویں شب کو 'لَیْلَۃُ الْبَرَائَ ۃْ‘، 'لَیْلَۃُ الرَّحْمَۃ‘، 'لَیْلَۃُ الْمُبَارَکَۃ‘ اور 'لَیْلَۃُ الصََّکّ‘ بھی کہا گیا ہے۔ 'لَیْلَۃُ الْمُبَارَکَۃ‘ کا ذکر قرآنِ کریم میں آیا ہے: ''حٓمٓ، روشن کتاب کی قسم، بیشک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا، بیشک ہم عذاب کا ڈر سنانے والے ہیں، اس رات میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے، (یہ) ہمارے پاس سے حکم ہوتا ہے، بیشک ہم ہی (رسولوں) کو بھیجنے والے ہیں، یہ آپ کے رب کی طرف سے رحمت ہے، بیشک وہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے‘‘ (الدخان:1تا 6)۔ جمہور مفسرین کے نزدیک ''برکت والی رات‘‘ سے مراد ''لیلۃُ القدر‘‘ ہے تاہم عکرمہ اور بعض مفسرین نے اس سے ''شبِ برأت‘‘ مراد لی ہے؛ البتہ پہلا قول ہی راجح ہے۔
شعبان المعظم کی پندرہویں شب کے بارے میں متعدد احادیث آئی ہیں: رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''بیشک اللہ تعالیٰ شعبان کی درمیانی (پندرہویں) شب کو خاص توجہ فرماتا ہے اور مشرک اور کینہ پرور کے علاوہ (مغفرت کے طلبگار) اپنے سب بندوں کو بخش دیتا ہے‘‘ (ابن ماجہ: 1390)۔ (2) ''جب شعبان کی درمیانی شب ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی جانب (خصوصی) توجہ فرماتا ہے‘ پھر مومن کو بخش دیتا ہے اور کافروں کو مہلت دیتا ہے اور کینہ رکھنے والوں کو اُن کے کینے کے سبب چھوڑ دیتا ہے تاوقتیکہ وہ کینہ چھوڑ دیں‘‘ (شُعَبُ الِایْمَان: 3551)۔ مجرم کو ڈھیل دینا بھی ایک طرح کی سزا ہے تاکہ وہ سرکشی میں انتہا کو پہنچ کر شدید ترین عذاب کا سزاوار قرار پائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ''ہم تو اُن کو صرف اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں تاکہ اُن کے گناہ بڑھتے چلے جائیں اور اُن کیلئے ذلّت آمیز عذاب ہے‘‘ (آل عمران: 178)۔ ''بیشک کافر اپنی چالیں چل رہے ہیں اور میں اپنی خفیہ تدبیر فرماتا ہوں‘ سو آپ کافروں کو ڈھیل دے دیں (اور) اُن کو تھوڑی مہلت دیں‘‘ (الطارق: 15 تا 17)۔ (3) رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''جب شعبان کی درمیانی شب آئے تو رات کو نوافل پڑھو اور دن میں روزہ رکھو‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس رات کو غروبِ آفتاب سے آسمانِ دنیا کی طرف اپنی شان کے مطابق نزولِ اِجلال فرماتا ہے اور فرماتا ہے: ہے کوئی مغفرت کا طلبگار کہ میں اسے بخش دوں‘ ہے کوئی رزق کا طلبگار کہ میں اسے وسیع رزق عطا کروں‘ ہے کوئی مبتلائے مصیبت کہ میں اس کی مصیبت کا درماں کروں۔ الغرض بندوں کی تمام حاجات کا اللہ تعالیٰ ذکر فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فیضانِ رحمت طلوعِ فجر تک جاری رہتا ہے‘‘ (ابن ماجہ: 1388)۔ (4) حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں: '' شعبان کی درمیانی شب رسول اللہﷺ میرے بستر سے (اٹھ کر) تشریف لے گئے۔ (آگے چل کر) فرماتی ہیں: مجھے اندیشہ ہوا کہ آپﷺ کسی زوجۂ مطہرہ کے پاس گئے ہیں میں گھر میں آپ کو تلاش کرنے لگی تو میرے پائوں آپﷺ کے مبارک قدموں پر پڑے‘ آپ حالتِ سجدہ میں تھے۔ مجھے یاد ہے آپ فرما رہے تھے: (اے اللہ!) میرے جسم وجاں تیری بارگاہ میں سجدہ ریز ہیں‘ میں دل سے تجھ پر ایمان لایا‘ میں تیری تمام نعمتوں کا اعتراف کرتا ہوں‘ میں نے اپنے آپ پر زیادتی کی‘ سو تو مجھے بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی بخشنے والا نہیں ہے۔ میں تیری سزا سے بچ کر تیرے عفو وکرم کی پناہ میں آتا ہوں اور تیرے غضب سے بچ کر تیری رحمت کی پناہ میں آتا ہوں۔ تیری ناراضی سے بچ کر تیری رضا کی پناہ میں آتا ہوں‘ تیری گرفت سے بچنے کیلئے تیری ہی پناہ میں آتا ہوں۔ نبی کریمﷺ مسلسل عبادت میں مشغول رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی اور کثرتِ عبادت سے آپﷺ کے مبارک پائوں پر ورم آ گیا تھا۔ میں آپ کے پائوں مَل رہی تھی۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں‘ آپ نے تو اپنے آپ کو تھکا دیا‘ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کو پہلے ہی مغفرتِ کُلّی کی یقینی بشارت دے دی ہے‘ آپ پر تو اللہ تعالیٰ کے بیشمار رحمتیں ہیں‘ آپﷺ نے فرمایا: یقینا اے عائشہ! تو کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ اس رات کو آنیوالے سال کے دوران بنی آدم کے ہر پیدا ہونیوالے بچے اور ہر وفات پانیوالے شخص کا نام لکھ دیا جاتا ہے۔ اس رات کو بندوں کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور اسی میں اُنکا رزق نازل ہوتا ہے۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا اللہ کی رحمت کے بغیر کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ آپﷺ نے فرمایا: اللہ کی رحمت کے بغیر کوئی جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور آپ بھی نہیں‘ تو نبی کریمﷺ نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھا اور تین مرتبہ فرمایا: میں بھی نہیں‘ سوا اس کے کہ اللہ مجھے اپنی آغوشِ رحمت میں ڈھانپ لے‘‘ (فضائل الاوقات: 26‘ الدر المنثور‘ ج: 7‘ ص: 350)۔ اس طویل حدیث سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ رسول اللہﷺ اللہ تعالیٰ کے حضور کس قدر عَجز ونیاز فرماتے تھے۔ آپؐ کے دل پر اللہ تعالیٰ کی جلالت کا کتنا غلبہ تھا‘ اس قدر انہماک اور کثرت سے عبادت کے باوجود آپﷺ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے طلبگار رہتے تھے۔ آپﷺ امت کو تعلیم دینا چاہتے تھے کہ اللہ کا بندہ کثرتِ عبادت سے چاہے انتہائی بلندی پر پہنچ جائے لیکن اُسے اپنی عبادت اور تقویٰ پر ناز نہیں کرنا چاہیے۔ بندہ عبادت کر کے اللہ پر کوئی احسان نہیں کرتا یہ تو بندگی کا فریضہ ہے۔ جو لوگ فرطِ عقیدت میں شانِ الوہیت اور مقامِ نبوت کا تقابل کرتے ہیں‘ انہیں بار بار نبی کریمﷺ کے تواضع اور عجز وانکسار سے لبریز ان مبارک کلمات کو پڑھتے رہنا چاہیے‘ یہ سب کچھ تعلیمِ امت کیلئے ہے۔
آپ ﷺ کا فرمان ہے: ''اس رات کو مشرک‘ قتلِ ناحق کرنے والے‘ ماں باپ کے نافرمان‘ سود خور‘ عادی شرابی‘ عادی زناکار‘ قطع رحمی کرنے والے‘ چغل خور اور کینہ پرورکی بخشش نہیں ہو گی‘‘۔ یعنی ان کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے شریعت میں بیان کی ہوئی توبہ کی قبولیت کی شرائط پوری کیے بغیر اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور معافی کے حقدار نہیں بن سکتے۔ الغرض پندرہویں شبِ شعبان کے فضائل کو حضرت علی اور حضرت عائشہ سمیت متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے روایت کیا ہے۔ ان میں سے بعض روایات اگرچہ سند کے لحاظ سے ضعیف ہیں لیکن اس پر علماء کا اجماع ہے کہ ''فضائلِ اعمال‘‘ میں ضعیف روایات معتبر ہوتی ہیں۔ (جاری)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں