"MMC" (space) message & send to 7575

فلسفۂ دعا

دعا بندے اور رب کے مابین ایک ایسا تعلق ہے جو کسی ضابطے کا پابند نہیں ہے‘ نہ نماز کی طرح اس میں عربی زبان کا التزام ہے۔ الغرض بندے کی زبان کوئی بھی ہو حتیٰ کہ گونگا بھی اپنے رب سے براہِ راست التجا کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں دعا کی ترغیب بھی دی ہے اور انبیائے کرام علیہم السلام کی دعائیں بھی بیان فرمائی ہیں تاکہ معلوم ہو کہ دعا کرنا ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کا شعار رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بندوں سے دعا کی قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے: (1) ''اور (اے رسولِ مکرم!) جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں تو (بتا دیجیے) میں یقینا قریب ہوں‘ دعا کرنے والا جب بھی مجھ سے دعا کرے میں اُسے قبول کرتا ہوں‘ پس اُنہیں چاہیے کہ میرے احکام کو مانیں اور مجھ پر ایمان رکھیں تاکہ وہ ہدایت پائیں‘‘ (البقرہ: 186) (2) ''بھلا وہ کون ہے جو پریشاں حال کی دعا کو قبول فرماتا ہے جب وہ اُس سے دعا کرے اور اس کی تکلیف کو دور فرماتا ہے‘‘ (النمل: 62)۔ بندگی اپنے رب کے حضور انتہائی عَجز وانکسار کا نام ہے اور دعا اس کا بہت بڑا مَظہر ہے کہ انسان مصیبت میں صرف اُسی کو پکارتا ہے‘ گویا یہ حقیقت اُس کے لاشعور میں پیوست ہے کہ اس کا کارساز اور چارہ ساز صرف اللہ تبارک وتعالیٰ ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے: ''اور تمہارے رب نے فرمایا: تم مجھ سے دعا کرو‘ میں تمہاری دعا کو قبول فرمائوں گا‘ بیشک جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں‘ وہ عنقریب ذلیل ورسوا ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے‘‘ (المومن: 60)۔ مفسرینِ کرام نے اس آیت میں دعا سے اخلاص ولِلّٰہیت اور عبادت بھی مراد لی ہے۔ اس کی تائید اسی آیت کے اگلے حصے سے ہوتی ہے‘ اس سے معلوم ہوا کہ دعا اور عبادت لازم وملزوم ہیں۔
حدیثِ پاک میں ہے: ''رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''دعا عبادت کا مغز ہے‘‘ (ترمذی: 3371)۔ (2) ''دعا عبادت ہی ہے‘‘ (ترمذی: 2969)۔ بعض اوقات دعا میں عبادت سے بھی بڑھ کر بندے کو حضوریٔ قلب نصیب ہوتی ہے‘ کیونکہ وہ اپنے رب کو براہِ راست پکار رہا ہوتا ہے اور براہِ راست تخاطُب کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے‘ سو اگر اس کا انگ انگ اور رُواں رُواں مجسّم دعا بن جائے تو اس کی قبولیت یقینی ہے۔ حدیث پاک میں فرمایا: ''تم اللہ سے اس حال میں دعا کرو کہ تمہیں اپنی دعا کی قبولیت کا کامل یقین ہو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ غافل اور بے پروا دل کی دعا کو قبول نہیں فرماتا‘‘ ( ترمذی: 3479)۔ (3) ''بندے کی دعا اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہوتی ہے‘ بشرطیکہ وہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے اور نہ دعا میں جلد بازی کرے‘ عرض کیا گیا: یا رسول اللہﷺ! دعا میں جلد بازی کیا ہے‘ آپﷺ نے فرمایا: بندہ کہتا ہے: ''میں مانگتا رہا‘ مانگتا رہا‘ لیکن لگتا نہیں کہ میری دعا قبول ہو گی‘ سو وہ ہمت ہار جاتا ہے اور دعا کرنا چھوڑ دیتا ہے‘‘ (مسلم: 2735)۔ (4) ''مظلوم کی دعا سے بچو‘ کیونکہ اُس کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہے‘‘ (بخاری: 2448)۔ پس معلوم ہوا کہ جب تک آدمی مَن میں ڈوب کر دعا نہ کرے‘ مارے باندھے کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ دعا مانگنا شعارِ نبوت ہے۔ رسول اللہﷺ سے مختلف مواقع کے لیے دعائیں مذکور ہیں: ''آپﷺ نے فرمایا: اللہ نے ہر نبی سے ایک دعا کی قبولیت کا وعدہ فرمایا‘ سو ہر نبی نے جلدی سے دعا مانگ لی اور میں نے قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کی خاطر اپنے لیے قبولیتِ دعا کے اس وعدۂ ربانی کو محفوظ کر رکھا ہے‘ پس جو کوئی میری امت میں سے شرک سے محفوظ رہ کر مرا‘ تو اُس کو ان شاء اللہ یہ دعا (حسبِ مرتبہ وحسبِ حال) نصیب ہو گی‘‘ (مسلم: 199)۔
یہ تمہیدی کلمات میں نے اس لیے لکھے ہیں کہ ہمارے دانشور وقتاً فوقتاً ہمیں باور کراتے رہتے ہیں کہ کائنات طبعی قوانین کے تحت چل رہی ہے‘ اسی کو قدرت کا تکوینی نظام یا قانونِ فطرت بھی کہتے ہیں۔ سرسید احمد خاں اور غلام احمد پرویز اسی فکر کے داعی اور مُبلِّغ تھے۔ یہ قدیم یونانی فلسفے کی جدید تعبیر ہے‘ وہ بھی کہتے تھے کہ عقلِ اول یعنی خالق‘ کائنات کی تخلیق کر کے معاذ اللہ معطّل ہو گیا ہے‘ اب کائنات اپنے طبعی قوانین کے تحت چل رہی ہے اور خالق کو اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔ سرسیّد احمد خاں نے رسول اللہﷺ کے جسمانی معراج کے معجزے کا ردّ کرتے ہوئے یہاں تک لکھ دیا کہ اگر حدیث صحیح بھی ہو‘ لیکن وہ قانونِ فطرت کے خلاف ہے تو صحیح ہونے کے باوجود اُسے ردّ کر دیا جائے گا اور یہ قرار دیا جائے گا کہ راوی کو سمجھنے میں غلطی ہوئی۔ ذیل میں ہم ان مفکرین کے اقتباسات پیش کر رہے ہیں تاکہ آپ کو ان کی وحدتِ فکر کا اندازہ ہو جائے:سرسیّد احمد خاں لکھتے ہیں: ''رسول اللہﷺ کا جسمانی طور پر رات کو بیت المقدس جانا اور وہاں سے ایک سیڑھی کے ذریعے آسمانوں پر جانا قانونِ فطرت کے خلاف ہے اور عقلاً محال ہے۔ اگر معراج النبی کے راویوں کو ثِقہ بھی مان لیا جائے تو یہی کہا جائے گا کہ اُنہیں سمجھنے میں غلطی ہوئی۔ یہ کہہ دینا کہ اللہ اِس پر قادر ہے‘ یہ جاہلوں اور مرفوع القلم لوگوں کا کام ہے‘ یعنی ایسے لوگ مجنون کے حکم میں ہیں‘ سچے مومن ایسی بات نہیں کہہ سکتے۔ قانونِ فطرت کے مقابل کوئی دلیل قابلِ قبول نہیں ہے۔ ایسی تمام دلیلوں کو اُنہوں نے راوی کے سَہو اور خطا‘ دور اَزکار تاویلات‘ فرضی اور رکیک دلائل سے تعبیر کیا‘‘ (تفسیر القرآن‘ جلد: 2‘ ص: 122 تا 123)۔ یہ سرسید احمد خان کی طویل عبارت کا خلاصہ ہے۔ الغرض سرسیّد معجزات پر ایمان رکھنے والوں کو جاہل اور دیوانے قرار دیتے ہیں۔ ہمیں وحیِ ربانی کے مقابل کھڑی ہونے والی عقل کی فرزانگی کے بجائے دیوانگی کا طعن قبول ہے‘ کیونکہ قدرتِ باری تعالیٰ کی جلالت پر ایمان لانے ہی میں مومن کی سعادت ہے اور یہی عشقِ مصطفیﷺ کا تقاضا ہے۔ سرسیّد احمد خاں صاحب تو گویا قانونِ فطرت کو ''فَاطِر‘‘ یعنی خالق پر بھی حاکم سمجھتے ہیں کہ جس نے اس عالَمِ اسباب کو پیدا کیا اور جو سبب اور مُسبَّب اور علّت ومعلول کے تحت چل رہا ہے‘ خود خالق بھی معاذ اللہ! اس کے خلاف نہیں کر سکتا۔
سورۂ بقرہ آیت: 186 اور سورۂ مومن آیت: 60 کا ترجمہ ہم اوپر لکھ آئے ہیں‘ اس کے تحت غلام احمد پرویز لکھتے ہیں: ''اس آیت کے مفہوم کو سمجھنے میں مجھے دشواری تھی‘ کیونکہ اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہر ایک کی دعا مِن وعَن قبول ہو جائے‘ لیکن تجربہ یہ بتاتا ہے کہ عملاً ایسا نہیں ہوتا‘ اگر بعض کی دعائیں قبول ہو جاتی ہیں تو بہت سوں کی رَد بھی ہو جاتی ہیں‘ اس کی یہ تاویل کہ دعا کس صورت میں قبول ہو‘ اللہ تعالیٰ کی حکمت پر منحصر ہے۔ اگر اس کی دعا بعینہٖ قبول نہیں ہوئی تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ اس کا مصیبت میں مبتلا رہنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اُس کے حق میں بہتر ہے اور یہ آیت بھی اس مفہوم کی تائید نہیں کرتی: ''بھلا وہ کون ہے جو مصیبت زدہ کی دعا کو قبول فرماتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کر دیتا ہے‘‘ (النمل: 62)۔ یعنی اس آیت کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہر مصیبت زدہ کی دعا قبول ہو اور کسی پریشاں حال و درماندہ کی دعا رد نہ ہو‘ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایک مفہوم میرے ذہن میں یہ آیا کہ زندگی کے کسی مشکل موڑ پر جب بندہ اپنی عقل سے فیصلہ نہ کر سکے تو رہنمائی کیلئے قرآن سے رجوع کرے‘ لیکن پھر یہ آیت میرے سامنے آئی: ''اور (اے مسلمانو!) تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں جنگ نہیں کرتے حالانکہ بعض کمزور مرد‘ عورتیں اور بچے یہ دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں ظالموں کی اس بستی سے نکال دے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی کارساز بنا اور اپنی طرف سے کوئی مددگار بنا‘‘ (النساء: 36)۔ (جاری)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں