سکیورٹی سٹیٹ سے مراد ایسی ریاست ہے جہاں قومی سلامتی کو ریاست کے دیگر اداروں پر فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ فوج‘ سلامتی کے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں سیاست‘ معیشت‘ میڈیا اور شہری آزادیوں پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ شہری حقوق‘ جمہوریت اور آزادیٔ اظہار پر سلامتی کے مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ دہشت گردی‘ ملک کو لاحق خطرات‘ داخلی انتشار اور بے چینی کو کنٹرول کرنے کیلئے سخت اقدامات کیے جاتے ہیں‘ اسی کو ''ہارڈ سٹیٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا: ''پاکستان کو ہارڈ سٹیٹ بنائیں گے‘‘۔ اس میں مرکزی اتھارٹی یعنی مقتدرہ مضبوط ہوتی ہے اور فیصلہ کن اقدامات کیے جاتے ہیں۔ بعض تجزیہ کار پاکستان کو ''سکیورٹی سٹیٹ‘‘ قرار دیتے ہیں‘ کیونکہ یہاں خارجہ پالیسی اور داخلی امور میں کلیدی کردار سکیورٹی امور کا ہوتا ہے۔ یہ اصطلاح منفی معنوں میں بھی استعمال ہوتی ہے کہ ریاست شہری آزادیوں کو محدود کر کے خود کومحفوظ بناتی ہے۔ ہارڈ سٹیٹ کے مقابل اصطلاح ''سافٹ سٹیٹ‘‘ ہے۔ اس سے مراد جہاں جمہوریت فروغ پا رہی ہو‘ شہری آزادیاں اور بنیادی حقوق حاصل ہوں‘ پریس مکمل طور پر آزاد ہو‘ ظاہر ہے کہ اس میں ریاست کی گرفت مضبوط نہیں ہوتی‘ کیونکہ قوانین وعدالتیں حقوقِ انسانی کی پاسداری زیادہ کرتی ہیں۔ ہمارے ہاں بھی سکیورٹی سٹیٹ یا ہارڈ سٹیٹ منفی معنوں میں استعمال ہوتا ہے کہ شہری آزادیوں‘ حقوقِ انسانی اور پریس کی آزادی پر قدغن ہوتی ہے۔
دراصل ہر چیز کو دیکھنے اور پرکھنے کے دو زاویۂ نظرہوتے ہیں‘ یہی صورتحال سکیورٹی سٹیٹ کی ہے۔ ظاہر ہے جب قومی سلامتی کیلئے مالی وسائل زیادہ مختص ہوں گے تو عوام کی سہولتوں میں کمی آئے گی اور فلاحی ریاست کا تصور معدوم ہو جائے گا۔ لیکن حالیہ برسوں میں یہ واضح ہوا کہ ریاست کو اپنے تحفظ‘ سلامتی اور بقا کیلئے قوت درکار ہے‘ ورنہ وینزویلا کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہ ملک پٹرول کے تین سو تین ارب بیرل کے محفوظ ذخائرکا مالک ہونے کے باوجود غربت اور پسماندگی کا شکار ہوا‘ فوجی لحاظ سے کمزور ہوا حتیٰ کہ امریکی فوج نے آپریشن کر کے اس کے صدر مادورو کو اس کی اہلیہ سیلیا سمیت زندہ گرفتار کر کے امریکہ منتقل کر دیا اور اب ان پر منشیات کی سمگلنگ کے الزام میں نیویارک کی عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ اسی طرح اسرائیل نے امریکہ کی پشتیبانی اور بے پناہ حربی اسلحے کی فراہمی کے سبب غزہ اور ایران پر بے تحاشا فوجی طاقت کا استعمال کیا ہے تو اس سے یہ شعر حقیقت بن کر سب کے سامنے آتا ہے:
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
واضح رہے کہ ایران کے دستیاب تیل کے مجموعی ذخائر کی مقدار تقریباً 210 ارب بیرل بتائی جاتی ہے اور قدرتی گیس کے غیر معمولی ذخائر اس کے علاوہ ہیں‘ لیکن وہ طویل عرصے سے امریکہ کی عائد کردہ اقتصادی پابندیوں میں گھرا ہوا ہے‘ اس کی فضائی دفاعی طاقت نہ ہونے کے برابر ہے‘ اس لیے اسے جنگ میں بے پناہ نقصان اٹھانا پڑا۔ تاہم اپنی میزائل سازی کی صلاحیت کی بدولت وہ کافی حد تک اپنے ملک کا دفاع کر سکے۔ اگرچہ امریکہ نے بی ٹو سٹیلتھ بمبار طیارے استعمال کرکے کئی ٹن وزنی بم ان کی نیوکلیئر تنصیبات پر گرائے اور اُس کے دعوے کے مطابق اُن کی نیوکلیائی صلاحیت کو ناکارہ کر دیا گیا ہے‘ جبکہ ایران نے اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا‘ تاہم غیرمعمولی نقصان ضرور ہوا ہے۔ اب ایران نے چین کی طرف رجوع کیا ہے اور اپنے فضائی دفاعی نظام کی تشکیل پر پوری توجہ دے رہا ہے۔
امریکہ نے یورپ‘ جاپان اور جنوبی کوریا پر بھی دبائو ڈال رکھا ہے کہ وہ اپنی دفاعی ذمہ داریاں خود سنبھالیں‘ اس سے پہلے سب کی ذمہ داری امریکہ نے لے رکھی تھی اور اسی سبب اُسے ان سب پر اجارہ داری حاصل تھی۔ یورپ نے اپنے دفاع کا زیادہ تر بوجھ امریکہ کے سپرد کر کے اپنے ممالک میں فلاحی سہولتوں کو وسعت دے رکھی ہے۔ پس اب اگر یورپی ممالک اپنے دفاع کا بوجھ خود اٹھائیں گے اور بھاری رقوم فلاحی شعبوں سے نکال کر دفاع کی طرف منتقل کریں گے تو آسائشوں کے عادی اُن کے عوام کیلئے اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھالنا مشکل ہوگا اور حکومتیں اپنے عوام کے درمیان غیر مقبول ہوں گی۔ ٹرمپ گرین لینڈ پر قبضے کی کھلی دھمکی دے رہا ہے‘ نیٹو اور یورپی یونین تاحال مشترکہ ردِّعمل دینے سے قاصر ہیں‘ نیٹو اتحاد بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
یہ حقائق ہم نے اس لیے بیان کیے ہیں کہ دفاع پر اپنی استعداد سے زیادہ خرچ کرنے کے سبب حکومتیں عوام کو اُن کی توقعات کے مطابق سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہیں اور عوام کی ناپسندیدگی کا شکار بنتی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا بے حد و بے حساب شکر ہے کہ پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے ملک بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اور دنیا پر پاکستان کی حربی صلاحیت کی دھاک بیٹھی۔ پس اپنی جغرافیائی حدود اور داخلی وخارجی سلامتی کو محفوظ رکھنے کیلئے قربانی دینا پڑے گی‘ ورنہ وینزویلا اور ایران کے ساتھ جو ہوا‘ ساری دنیاکے سامنے ہے۔ دنیا کی ہر چیز کی طرح آزادی کی بھی ایک قیمت ہے اور وہ چکانا پڑتی ہے۔ ماضی میں ہم 1971ء کا سانحہ دیکھ چکے ہیں اور اب ایسے سانحات کے ہم دوبارہ متحمل نہیں ہو سکتے اور ملک کے دفاع اور سلامتی کو ہرچیز پر مقدم رکھنا پڑے گا۔
ایک تجزیہ نگار کے فرمودات سنے‘ اُن کے نزدیک سکیورٹی سٹیٹ یا ہارڈ سٹیٹ بنانا ناگزیر نہیں ہے‘ مضبوط سٹیٹ ہونی چاہیے۔ بادی النظر میں یہ تبصرہ دل کو لگتا ہے‘ لیکن مضبوط ریاست کیلئے بھی بھاری وسائل درکار ہیں‘ جو سرِدست پاکستان کو دستیاب نہیں ہیں۔ ہماری دعا ہے: ایسا ہو جائے کہ عالَمِ غیب سے کوئی زیرِ زمیں اورسمندروں کے نیچے سے ایسے نایاب معدنیات کے ذخائر دریافت ہو جائیں کہ ہم اپنے داخلی اور خارجی قرضوں سے نجات پائیں اور عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط ریاست میں بھی ڈھل جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور اس کی قدرت سے کچھ بھی بعید نہیں ہے‘ مگر سرِدست دستیاب حالات کو پیشِ نظر رکھ کر رائے قائم کرنا پڑتی ہے۔ مضبوط یا سلامتی کی ریاست سے یہ ہرگز مراد نہیں ہے کہ فوج تمام ریاستی شعبوں کو اپنے کنٹرول میں لے لے‘ لیکن بہرکیف اسے وسائل زیادہ درکار ہوں گے اور ریاست کو اس کے پیچھے کھڑا ہونا پڑے گا۔ حال ہی میں ٹرمپ نے کہا ہے: میں نے کانگریس کے ارکان سے بات کی ہے‘ آئندہ سال ہمیں دفاع کیلئے پندرہ سو ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
فی الوقت چین کے اشتراک سے تیار کردہ پاکستان کے جے ایف 17 تھنڈر بلاک تھری فائٹر جیٹ طیاروں کی فروخت کی مفاہمتی یادداشتوں کی بشارتیں تو وقتاً فوقتاً سنتے رہتے ہیں‘ لیکن مفاہمت کی یہ یادداشتیں باقاعدہ تجارتی معاہدات میں کب ڈھلتی ہیں‘ اس کا اندازہ نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ہمہ جہت اور کم وزن کے فورتھ جنریشن ملٹی رول لڑاکا طیارے ہیں اور دبئی کی بین الاقوامی نمائش میں یہ اپنے کرتب بھی کامیابی سے دکھا چکے ہیں‘ اللہ کرے کہ عالمی مارکیٹ میں ان کیلئے زیادہ سے زیادہ گنجائش پیدا ہو۔ ابھی تک آذربائیجان‘ میانمار اور نائیجیریا کی بابت بتایا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ باقاعدہ تجارتی معاہدے ہو چکے ہیں‘ یہ طیارے تیار ہوکر کب خریداروں کے سپرد کیے جاتے ہیں‘ اس خوش نصیب وقت کا ہر پاکستانی کو انتظار ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایران‘ عراق‘ لیبیا اور بنگلہ دیش نے بھی ان طیاروں کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے‘ اللہ کرے کہ یہ مذاکرات بھی عملی شکل اختیار کریں۔