قومی اسمبلی کا دوسرا پارلیمانی سال مکمل، سیاسی کشیدگی غالب رہی
130ایام کار مکمل، 11اجلاس اور ایک مشترکہ نشست میں صدارتی خطاب ہوا 27ویں آئینی ترمیم، اپوزیشن بحران اور آئینی تبدیلیاں سال بھر زیر بحث رہیں
اسلام آباد (سہیل خان)قومی اسمبلی کا دوسرا پارلیمانی سال آئینی تقاضے پورے کرتے ہوئے مکمل ہوگیا۔ اس دوران 130ایامِ کار پورے کیے گئے ، گیارہ اجلاس منعقد ہوئے جبکہ ایک مشترکہ اجلاس سے صدر آصف علی زرداری نے خطاب کیا۔ نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر صدارتی خطاب کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں ایوانِ صدر سے رابطہ کیا جائے گا۔ اجلاس تین مارچ کو متوقع ہے اور حکومتی ارکان کو آگاہ کر دیا گیا ۔سال بھر ایوان کی کارروائی سیاسی کشیدگی کی زد میں رہی۔ بڑی اپوزیشن جماعت مخصوص نشستوں سے محروم ہوئی جبکہ 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے حکومت کو دو تہائی اکثریت یقینی بنانا پڑی۔ سینیٹ میں مطلوبہ حمایت حاصل کرنے کے لیے دو ارکان نے اپوزیشن سے الگ ہو کر حکومت کا ساتھ دیا۔ بعض ارکان کی جانب سے پارٹی فیصلے کے برخلاف ووٹ دینے پر سیاسی تنازع بھی کھڑا ہوا۔اس عرصے میں قومی اسمبلی قائدِ حزبِ اختلاف سے بھی محروم رہی۔ عمر ایوب خان سمیت متعدد ارکان کی نااہلی کے بعد یہ عہدہ کئی ماہ خالی رہا۔ سیاسی قیدیوں کے معاملے پر بین الپارلیمانی یونین کی جانب سے مراسلہ بھی موصول ہوا اور ان امور پر عالمی سطح پر ردعمل سامنے آیا۔پارلیمانی سال کے دوران آرٹیکل 243 میں ترمیم، فیلڈ مارشل اور فوجی ڈھانچے سے متعلق نکات، اعلیٰ عدلیہ میں آئینی ردوبدل اور وفاقی آئینی عدالت کا قیام اہم پیش رفت رہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کیا گیا تاہم متعدد مواقع پر اسے مؤثر پذیرائی نہ مل سکی۔ نئے پارلیمانی سال کے آغاز کے ساتھ صدارتی خطاب کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔