غیر قانونی قبضہ قابل سزا جرم، پنجاب اونر شپ پراپرٹی ترمیمی آرڈیننس کا گزٹ نوٹیفکیشن

غیر قانونی قبضہ قابل سزا جرم، پنجاب اونر شپ پراپرٹی ترمیمی آرڈیننس کا گزٹ نوٹیفکیشن

5سے 10سال قید ،سہولت کارکوبھی سزاہوگی ،ہرضلع میں پنجاب پراپرٹی ٹربیونل بنے گا ،کیس کا فیصلہ 30دن میں ہوگا ایڈیشنل سیشن ججز کو بطور ٹربیونل تعینات کیا جائے گا،فیصلے کیخلاف 30دن میں لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا جاسکے گا

لاہور (کورٹ رپورٹر) حکومتِ پنجاب نے پنجاب اونرشپ پراپرٹی ترمیمی آرڈیننس کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا، غیر قانونی قبضہ قابل سزا جرم قرار دے دیا گیا، ، قبضے میں مدد کرنے والے سہولت کار کو بھی سزا ہوگی،ریٹائرڈ سیشن ججز کی بجائے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز پر مشتمل پنجاب پراپرٹی ٹربیونل ہرضلع میں تشکیل دیا جائے گا ،غیر قانونی قبضے میں ملوث افراد کو 5سے 10سال سزا اور ایک کروڑ روپے جرمانہ ہوگا ،اس حوالے سے دنیا نیوز کی 9 جنوری کو مجوزہ ترامیم کے حوالے سے نشر کی گئی خبر درست ثابت ہوئی۔گورنر پنجاب سردار سلیم خان کی جانب سے ترمیمی آرڈیننس گزشتہ روز جاری کیا گیا۔

گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق کسی پراپرٹی پر غیر قانونی قبضہ یا جعل سازی کرنے والا 5 سے 10 سال کی سزا کا مستحق ہو سکتا ہے ، ہر ضلع میں ڈی سی، ڈی پی او، اے سی، ڈی سی آر سمیت دیگر پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی،جو لوگوں کی پراپرٹی پر قبضے سے متعلق امور سر انجام دے گی، کمیٹی ٹربیونل کی جانب سے شکایت بھیجے جانے کے 30 دن کے اندر اندر رپورٹ جمع کروائے گی۔فریقین کے درمیان معاملے کے حل یا رضا مندی کی صورت میں کمیٹی ٹربیونل سے فیصلہ حاصل کرنے کیلئے رپورٹ ارسال کرے گی، کیس کی سماعت کے دوران ٹربیونل کسی بھی موقع پر پراپرٹی کی ریگولیشن کے حوالے سے کوئی وقتی آرڈر جاری کر سکتا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت پنجاب چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے مشورے کے بعد ایڈیشنل سیشن ججز کو بطور ٹربیونل تعینات کرسکتی ہے ، ٹربیونل کے ایڈیشنل سیشن ججز کو ان کیسز کے حوالے سے بلا شرکت غیرے اختیار ہوگا۔ٹربیونل ایک ماہ میں کیس کا فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا اور روزانہ کی بنیادوں پر کیس چلائے گا، ٹربیونل کسی بھی پراپرٹی کے حوالے سے اس کی مالیت کے عوض رقم مہیا کرنے کا حکم بھی جاری کر سکتا ہے ۔اگر کوئی کیس کسی عدالت یا ٹربیونل میں زیر سماعت ہے تو درخواست گزار کیس کو ٹرانسفر کروانے کیلئے اسی عدالت یا ٹربیونل سے رجوع کرے گا، یہ قانونی نقطہ آئینی عدالت، سپریم کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں زیر اہتمام کیسز پر لاگو نہیں ہوسکتا۔گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف 30 دن میں لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جا سکے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں