8پبلک سیکٹر ادارے آڈٹ شدہ اکاؤنٹس جمع کرانے سے گریزاں

8پبلک سیکٹر ادارے آڈٹ شدہ اکاؤنٹس جمع کرانے سے گریزاں

سندھ کے چند اداروں میں مالی نظم وضبط، اندرونی کنٹرولز میں کمزوریاں ، آڈیٹر جنرل 3 کیسز میں غیر قانونی تقرر میں 26.7کروڑ سے زائد کی بے ضابطگی ہوئی، رپورٹ

کراچی (این این آئی)آڈیٹر جنرل کی تازہ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ سندھ کے 8 پبلک سیکٹر ادارے سالانہ آڈٹ شدہ اکاؤنٹس جمع کروانے سے گریز کر رہے ہیں۔آڈیٹر جنرل پاکستان کی سندھ کے پبلک سیکٹر اداروں پر آڈٹ رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چند اداروں میں مالی نظم و ضبط اور اندرونی کنٹرولز میں کمزوریاں پائی گئی ہیں، اور 8 پبلک سیکٹر انٹرپرائزز نے سالانہ آڈٹ شدہ اکانٹس جمع نہیں کروائے ۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق 3 کیسز میں غیر قانونی تقرریوں میں 26 کروڑ 70 لاکھ روپے سے زائد کی بے ضابطگی کی نشاندہی کی گئی ہے ، خریداری کے 3 کیسز میں ایک ارب 18 کروڑ روپے کی بے ضابطگی سامنے آئی، اور واجبات کی عدم وصولی کے 4 کیسز میں 4 ارب 65 کروڑ روپے کی رقم بقایا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی اداروں کی جانب سے اخراجات اور وصولیوں کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، آڈٹ رپورٹ میں شفاف تقرریوں اور قواعد کے مطابق خریداری یقینی بنانے کی سفارش کی گئی اور پبلک سیکٹر انٹرپرائزز میں شفافیت اور احتساب بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں