پاکستان میں پھنسے بنگالی شہریوں کو وطن واپسی کی امید
10 لاکھ بنگالی پاکستان میں آباد ، اکثر کے پاس شہریت ہے نہ شناختی کارڈ پاکستان میں پیدا ہوئے مگر کاغذوں میں بنگلہ دیشی تسلیم کیے جاتے :حسین
کراچی (اے ایف پی)کراچی کے بنگالی بازار میں خشک مچھلی بیچنے والے 60 سالہ شاہ عالم تقریباً تیس سال سے پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔ وہ صرف چند ہفتوں کیلئے بنگلہ دیش سے آئے تھے ، مگر مالی مشکلات اور دونوں ممالک کے تعلقات کی کشیدگی نے انہیں واپس جانے سے روک دیا۔ اب 14 سال بعد براہِ راست پروازیں بحال ہو گئی ہیں، شاہ عالم اپنے بیٹے کے ساتھ عیدالاضحیٰ کے بعد واپسی کی تیاری کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ واپس جائیں گے اور اپنے باقی خاندان سے ملاقات کریں گے ،بنگلہ دیش میں فوت ہونے والی اپنی پہلی بیوی کو یاد کرتے ہوئے ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی میں10لاکھ سے زائد بنگالی باشندے آج بھی شناختی کارڈ یا شہریت کے بغیر رہ رہے ہیں۔ 20 سالہ حسین احمد اور 22 سالہ احمد نے بتایا کہ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے مگر کاغذوں میں بنگلہ دیشی تسلیم کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے تعلیم، روزگار اور خاندانی رابطے مشکل ہو گئے ہیں۔2024 میں بنگلہ دیش میں نئی قیادت کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں نرمی آئی، جس سے پاکستانی بنگالیوں میں نئی امید پیدا ہوئی ہے ۔ رفیق الحسین نے کہا کہ ہماری نسلیں پاکستان میں پیدا ہوئیں، ترقی میں حصہ ڈال رہی ہیں، اور بہتر تعلقات سے ہماری مشکلات کم ہو سکتی ہیں۔ شاہ عالم اور دیگر شہری اب اپنے آبائی وطن جانے کے خواب دیکھنے لگے ہیں۔