گودام سے سگریٹ چوری ، چیئرمین ایف بی آر سینیٹ کمیٹی طلب
اسلام آباد (اپنے رپورٹر سے،این این آئی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات کی ذیلی کمیٹی نے ایف بی آر کے گودام سے ضبط شدہ سگریٹ چوری کیس میں پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر کوطلب کرلیا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں صوابی اور مردان میں ایف بی آر کے گوداموں سے ضبط شدہ 2828 کارٹن سگریٹ کی چوری کے معاملے کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹر محمد طلحہ محمود اور سینیٹر عمر فاروق نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے چیئرمین ایف بی آر کی عدم موجودگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس اہم عوامی نوعیت کے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے آئندہ اجلاس میں ان کی حاضری لازمی ہوگی۔
کنوینر نے سوال اٹھایا کہ جب پولیس اور ایف آئی اے کی رپورٹس کے مطابق گودام میں لگائی گئی سِیل، چھت اور تالے درست حالت میں پائے گئے تو نچلے درجے کے ملازمین کو کس بنیاد پر ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور آیا وہ اتنی مہارت سے چوری انجام دے سکتے تھے ۔کمیٹی نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ چوری کی درست تاریخ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔ کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا کہ ذمہ داری محض نچلے درجے کے عملے تک محدود دکھائی دیتی ہے جبکہ اعلیٰ افسران جوابدہی سے مبرا نظر آتے ہیں۔ ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے بتایا کہ بارہا درخواستوں کے باوجود سی سی ٹی وی فوٹیج، سٹاک رجسٹر اور انٹرنل انکوائری رپورٹ فراہم نہیں کی جارہی۔ کمیٹی نے اہم ریکارڈ ایف آئی اے کو فراہم نہ کیے جانے پر شدید تشویش ظاہر کی۔ کنوینر نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ منتقلی کا حکم دینے کی مجاز اتھارٹی کی تفصیلات اور انٹرنل انکوائری کمیٹی کی کارروائی سمیت مکمل دستاویزات فراہم کی جائیں۔