بچوں کو جسمانی یا ذہنی اذیت دینا جرم، سکولوں ا اور دینی مدارس پر بھی اطلاق

بچوں کو جسمانی یا ذہنی اذیت دینا جرم، سکولوں ا اور دینی  مدارس پر بھی  اطلاق

اسلام آباد میں بچوں کوتھپڑ مارنا ،ڈرانا دھمکانا،تضحیک آمیز سزا دینا قابلِ تعزیر ،خلاف ورزی پر جرمانے ،سزائیں مقرر شکایات ازالہ کیلئے کمیٹیاں قائم کی جائینگی،جنہیں سول کورٹ کے اختیارات حاصل ہونگے ،سینیٹ سے اہم ترامیم منظور

اسلام آباد (حریم جدون )وفاقی دارالحکومت میں کسی بھی صورت بچوں کو جسمانی یا ذہنی اذیت دینا جرم قرار دے دیا گیا، تھپڑ ، مارپیٹ کرنا، جلانا، زبردستی کھڑا کرنا، ڈرانا دھمکانا یا کسی بھی قسم کی تضحیک آمیز سزا دینا قابلِ تعزیر ہوگا۔ اس پابندی کا اطلاق صرف سرکاری سکولوں تک محدود نہیں بلکہ نجی تعلیمی اداروں، دینی مدارس، بورڈنگ ہاؤسز، فوسٹر کیئر سینٹرز، بحالی مراکز، کام کی جگہوں اور جووینائل جسٹس سسٹم سمیت تمام نگہداشت کے اداروں پر ہوگا۔ بچوں کو جسمانی سزا سے مکمل تحفظ دینے کے لیے سینیٹ نے قانون میں اہم ترمیم منظور کی ہے ، قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ بچوں کے خلاف کسی بھی قسم کی تادیبی کارروائی صرف ان کے وقار، عزت اور قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے کی جا سکتی ہے ۔ جسمانی یا ذہنی اذیت دینے والوں کے خلاف کارروائی پاکستان پینل کوڈ کے تحت عمل میں لائی جائے گی جبکہ خلاف ورزی پر مائنراورمیجرجرمانے اور سزائیں عائد کی جائیں گی۔شکایات کے ازالے کے لیے مختلف سطحوں پر کمیٹیاں قائم کی جائیں گی۔

وفاقی تعلیمی اداروں کی شکایات وزارتِ تعلیم کی کمیٹی سنے گی، دینی مدارس سے متعلق معاملات کے لیے وفاق المدارس کی نوٹیفائیڈ کمیٹی کام کرے گی جبکہ نجی اور دیگر اداروں کی نگرانی وزارتِ انسانی حقوق کے سپرد ہوگی۔ ہر انکوائری کمیٹی تین ارکان پر مشتمل ہوگی جس میں کم از کم ایک خاتون رکن کی شمولیت لازمی قرار دی گئی ہے ۔متاثرہ بچہ یا اس کے والدین مجاز اتھارٹی کو تحریری شکایت درج کرا سکیں گے اور کمیٹی 30 دن کے اندر فیصلہ کرنے کی پابند ہوگی۔ کمیٹی کو گواہان طلب کرنے اور شواہد ریکارڈ کرنے کے لیے سول کورٹ جیسے اختیارات حاصل ہوں گے ، جبکہ ضرورت پڑنے پر بچے کا طبی معائنہ بھی کرایا جا سکے گا۔کمیٹی کے فیصلے کے خلاف 30 دن کے اندر وفاقی محتسب سے رجوع کیا جا سکے گا اور محتسب کے فیصلے سے عدم اطمینان کی صورت میں صدرِ مملکت کو اپیل کا حق بھی حاصل ہوگا۔ماہرین کے مطابق یہ قانون بچوں کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے جو تعلیمی اور دیگر اداروں میں تشدد کے کلچر کے خاتمے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں