بھارت بامعنی مذاکرات کیطرف آئے ورنہ ایک اور ذلت آمیز شکست کیلئے تیار رہے : زرداری، مشترکہ اجلاس سے خطاب اپوزیشن کا ہنگامہ، نعرے
بھارت کو ہماری بات توجہ سے سننی چاہیے ، پاکستان پہلے ہی انڈیا اور افغانستان کو اپنی صلاحیتوں کی محض ایک جھلک دکھا چکا ،جموں و کشمیر کے عوام کے جائز مقصد کی حمایت جاری رکھیں گے افغان حکومت کسی اور ملک کے عزائم کیلئے میدانِ جنگ بننے سے گریز کرے ،آئندہ سال منصفانہ این ایف سی ایوارڈ کے منتظر ہیں،آئیے ! آزمائش کی گھڑیوں میں دکھائی گئی یکجہتی برقرار رکھیں صدر مملکت کی ایران پر مسلط جنگ ، امارات، بحرین، اردن، کویت، قطر،سعودیہ پر حملوں کی مذمت ، خامنہ ای کی شہادت پر دلی تعزیت کا اظہار ، امن اور ضبط و تحمل کا راستہ اپنانے پر زور
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نامہ نگار) موجودہ حکومت کے تیسرے پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ جنگی میدانوں سے نکل کر بامعنی مذاکرات کی طرف آئے ورنہ ایک اور ذلت و توہین آمیز شکست کے لیے تیار رہے ۔ بھارت کو ہماری بات توجہ سے سننی چاہیے ۔ پاکستان پہلے ہی انڈیا اور افغانستان کو اپنی صلاحیتوں کی ایک جھلک دکھا چکا ہے، جموں و کشمیر کے عوام کے جائز مقصد کی حمایت جاری رکھیں گے ۔صدر نے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کی مذمت کرتے ہوئے تہران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ صدر مملکت نے متحدہ عرب امارات، بحرین، اردن، کویت، قطر اور سعودی عرب پر کیے گئے حملوں کی بھی مذمت کی اور خطے کو گہرے بحران سے بچانے کے لیے مذاکراتی حل اختیار کرنے ، امن اور ضبط و تحمل کا راستہ اپنانے پر زور دیا۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور قومی اسمبلی و سینیٹ کے اراکین شریک تھے جبکہ گیلریوں میں صوبائی گورنرز، وزرائے اعلیٰ اور سفارت کار موجود تھے ۔ صدر مملکت نے نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر نویں بار پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ خطاب کے دوران اپوزیشن نے شدید ہنگامہ اور احتجاج کیا اور اسپیکر ڈائس کے سامنے نعرے بازی کی۔صدر مملکت نے خبردار کیا کہ پاکستان پہلے ہی بھارت اور افغانستان کو اپنی صلاحیتوں کی محض ایک جھلک دکھا چکا ہے ۔ نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر خودمختاری کا تحفظ، دہشت گردی کا خاتمہ اور معاشی استحکام کو مزید مستحکم بنانا ہماری ترجیحات ہونی چاہئیں۔ صدر مملکت نے واضح کیا کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے ، ہم آپ کے لیے تیار ہیں۔ میرا ان کے لیے پیغام ہے کہ جنگی میدانوں سے نکل کر بامعنی مذاکرات کی میز پر آئیں کیونکہ علاقائی سلامتی کا یہی واحد راستہ ہے ۔ پاکستان جموں و کشمیر کے عوام کے جائز مقصد کی مکمل سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
صدر مملکت نے کہا کہ جب تک کشمیری عوام بھارت کے ناجائز اور غاصبانہ قبضے سے آزادی حاصل نہیں کرتے ، اس وقت تک جنوبی ایشیا میں کوئی بھی آزاد اور محفوظ نہیں ہو سکتا۔ جتنی جلد خطے میں استحکام واپس آئے گا، اتنی ہی جلد دنیا زندگیوں اور مجروح اعتماد کی بحالی کے کام کی طرف لوٹ سکے گی۔ انہوں نے زیادہ سے زیادہ ضبط و تحمل اختیار کرنے ، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور تمام برادر ممالک کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔معرکۂ حق کا ذکر کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے ابتدا میں بھارت کی جانب سے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، تاہم بعد میں مسلح افواج نے غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کے حملے کو ایک تاریخی تذویراتی فتح میں بدل دیا۔ اسی طرح 26 فروری کی رات افغان طالبان حکومت کی جانب سے کیے گئے حملوں کے جواب میں مسلح افواج نے فیصلہ کن کارروائی کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ سیاسی قیادت متحد رہی اور عوام ثابت قدم رہے ۔ دونوں کامیاب فوجی مقابلوں پر فوج، فضائیہ، بحریہ، رینجرز، فرنٹیئر کور، پولیس سروسز، انٹیلی جنس اداروں اور سکیورٹی فورسز کے مشکور ہیں۔ جب وہ شہید فوجیوں کے اہل خانہ سے ملنے گئے تو انہیں وہی دکھ محسوس ہوا جو انہیں اپنی اہلیہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے وقت ہوا تھا۔معرکۂ حق کے حوالے سے صدر مملکت نے کہا کہ یہ صرف ایک فوجی فتح نہیں تھی، یہ بحران کے وقت ہمارے قومی عزم کا اظہار تھا۔ ہم نے بھارت کی جارحیت کا بہادری سے مقابلہ کیا اور عسکری اور سفارتی دونوں محاذوں پر سرخرو ہو کر ابھرے ۔ ہمارے فیصلہ کن اور اصولی موقف کو عالمی دارالحکومتوں نے بلا شبہ تسلیم کیا۔بھارتی رہنماؤں کی جانب سے ایک اور جنگ کی تیاری کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ علاقائی امن کے داعی کے طور پر وہ اس کی سفارش نہیں کریں گے ، تاہم کوئی بھی جارح ایک اور ذلت آمیز شکست کے لیے تیار رہے ۔
پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے اور جب ضرورت پڑے تو فیصلہ کن انداز میں اپنا دفاع کرنا جانتا ہے ۔غضب للحق آپریشن کے حوالے سے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی اور دراندازیوں کے ردعمل میں فوجی کارروائی سے بچنے کے لیے ہر ممکن سفارتی راستہ اختیار کیا۔ ہمارے لیے جنگ ہمیشہ آخری آپشن ہوتی ہے ۔ کوئی ریاست اپنی سرزمین پر مسلسل حملے برداشت نہیں کرتی۔ ہم نے بھارت اور افغانستان دونوں کو اپنی صلاحیتوں کی محض ایک جھلک دکھائی ہے ۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین مقدس ہے ۔ ہم کسی بھی داخلی یا خارجی فریق کو اپنی سلامتی کو عدم استحکام کا شکار بنانے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے ۔ پاکستان اور دوست ممالک کی متعدد سفارتی کوششوں کے باوجود افغان طالبان حکومت دوحہ میں کیے گئے وعدوں کے برخلاف القاعدہ، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی سمیت مختلف دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتی رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں چاہیے کہ وہ اُن دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کریں جو تنازع اور جنگی معیشت پر پلتے ہیں۔ ان میں سے کوئی چیز افغانستان کے بچوں کو خوراک نہیں دے گی اور نہ ہی قومی یکجہتی کے مواقع پیدا کرے گی۔ میں انہیں مشورہ دوں گا کہ کسی اور ملک کے عزائم کے لیے میدانِ جنگ بننے سے گریز کریں۔ پاکستان نے ہمیشہ افغان عوام کو اپنا سمجھا اور کبھی مذاکرات سے منہ نہیں موڑا۔پاک امریکہ تعلقات پر بات کرتے ہوئے صدر مملکت نے حالیہ پاکستان بھارت کشیدگی کم کرنے میں دونوں ممالک کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ گزشتہ سال کے دوران پاکستان اور امریکہ نے سٹریٹجک تعاون، سرمایہ کاری اور اقتصادی شراکت داری کے نئے دروازے کھولے ہیں اور آنے والا سال مزید نتیجہ خیز ہونے کی توقع ہے ۔صدر مملکت نے کہا کہ چین کے ساتھ آہنی دوستی تمام شعبوں میں نئی بلندیوں تک پہنچ چکی ہے اور سی پیک پاکستان کے بنیادی ڈھانچے میں انقلاب برپا کرے گا۔
انہوں نے معرکۂ حق کے دوران پاکستان سے یکجہتی پر چین اور مشترکہ سلامتی و رابطہ کاری کے مقاصد کو آگے بڑھانے پر صدر شی جن پنگ کا شکریہ ادا کیا۔خلیجی ممالک، آذربائیجان اور ترکیہ کے ساتھ گہرے ہوتے تعلقات کو سراہتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان سعودی سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ خطے میں ایک نیا سنگ میل ہے ۔فلسطینی عوام کی مشکلات اور غزہ کی تباہی کو اجاگر کرتے ہوئے صدر مملکت نے 1967ء سے قبل کی سرحدوں اور دارالحکومت القدس الشریف پر مشتمل آزاد اور غیر منقسم فلسطینی ریاست کے قیام کی پاکستان کی غیر متزلزل اصولی حمایت کا اعادہ کیا۔صدر آصف علی زرداری نے بنگلہ دیش کے عوام کو انتخابات کے انعقاد اور نئی حکومت کے قیام پر مبارکباد دی اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم اور مضبوط ہونے جا رہے ہیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ دریاؤں کے بہاؤ میں بھارت کی چھیڑ چھاڑ اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا کھلی آبی دہشت گردی ہے ، جس کے ذریعے اہم آبی وسائل کو سیاسی دباؤ کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اس سے پاکستان کی زرعی معیشت خطرے میں پڑ رہی ہے اور بین الاقوامی و انسانی قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ۔ یہ یکطرفہ اقدام بین الاقوامی قانون کے تحت ناقابل قبول ہے ۔ پاکستان علاقائی استحکام کے تحفظ کے لیے اپنے آبی حقوق کا غیر متزلزل عزم، طاقت اور قانونی وضاحت کے ساتھ دفاع کرے گا۔صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ صوبائی خودمختاری نے شراکتی طرز حکمرانی کو مضبوط کیا ہے کیونکہ مضبوط وفاق کے لیے مرکزیت نہیں بلکہ ہم آہنگی درکار ہے اور مشترکہ مفادات کونسل جیسے آئینی فورمز کو مؤثر انداز میں کام کرنا چاہیے ۔
انہوں نے قدرتی وسائل، مالیاتی تقسیم، توانائی کے اشتراک اور آبی نظم و نسق سے متعلق امور کو مشاورت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ سال ایک منصفانہ اور متوازن قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے منتظر ہیں۔بلوچستان پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں چلنے والی شورشوں کو ختم کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ بلوچ عوام کی حقیقی سماجی اور معاشی شکایات کا ازالہ بھی کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام پاکستان کی ترقی میں مکمل شراکت دار ہیں اور رہیں گے ۔ملکی معاشی منظرنامے کو اجاگر کرتے ہوئے صدر مملکت نے معیشت کو عملی طور پر دیوالیہ پن کی حالت سے نکالنے پر حکومت کی کاوشوں کو سراہا اور بہتر ہوتے معاشی اشاریوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک طویل سفر کا پہلا قدم ہے جو پائیدار اور عوام دوست ترقی کی طرف جاتا ہے ۔ ہمارے تنخواہ دار طبقے ، پنشنرز، مزدور اور چھوٹے تاجر ایک طویل آزمائش سے گزرے ہیں۔
اگلا مرحلہ جامع ترقی، روزگار کے مواقع اور براہ راست ریلیف پر مرکوز ہونا چاہیے اور ٹیکس و اخراجات میں شفافیت، ٹیکس کے دائرہ کار میں توسیع اور معیشت کی تشکیل نو کے لیے ٹیکنالوجی اور جدت اپنانا چاہیے ۔صنعتی بحالی کے لیے توانائی شعبے میں اصلاحات کو پیشگی شرط قرار دیتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت، آبی نظم و نسق اور مربوط پالیسی ناگزیر تقاضے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو وسعت دے کر غریب طبقات کو بااختیار بنایا جائے اور خواتین کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں، ان کی حفاظت، ڈیجیٹل رسائی اور مالی خودمختاری کو یقینی بنایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک ایسی جمہوری ریاست کا تصور پیش کیا جو آئین پسندی اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ہو، جبکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس قوم کو متفقہ آئین دیا اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے قربانی اور مثالی قیادت کے ذریعے جمہوری عمل کو مضبوط بنایا۔
صدر مملکت نے کہا کہ صدر کے منصب پر فائز ہوتے ہوئے انہوں نے یکطرفہ طور پر ایوان صدر کے اختیارات 1973ء کے آئین کے مطابق پارلیمنٹ کے ایوانوں کو واپس کر دیے ۔ تاریخی اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے آج ایوان صدر وفاق کی وحدت کی علامت کے طور پر کھڑا ہے اور وفاقی اکائیوں کے درمیان ایک پل اور ان آئینی قوانین کا محافظ ہے جو ہم سب کو باہم جوڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نئے پارلیمانی سال کے آغاز کے ساتھ خودمختاری کا تحفظ، دہشت گردی کا خاتمہ اور معاشی استحکام کو مزید مستحکم بنانا ہماری ترجیحات ہونی چاہئیں۔ آئیے آزمائش کی گھڑیوں میں دکھائی گئی یکجہتی کو برقرار رکھیں اور اصلاحات کو ادارہ جاتی شکل دیں۔ آئیے یقینی بنائیں کہ معاشی سطح پر حاصل ہونے والی کامیابیاں ملکی سطح پر ریلیف میں تبدیل ہوں اور اپنی سرحدوں کا تحفظ کرتے ہوئے اندرون ملک مواقع پیدا کریں۔صدر مملکت کے خطاب کے موقع پر اپوزیشن ارکان کا احتجاج، نعرے بازی اور شور شرابہ جاری رہا۔
اجلاس کے آغاز پر مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کرائی گئی۔ دعا کے بعد اپوزیشن کے بیرسٹر گوہر نے نکتہ اعتراض پر بولنے کا موقع مانگا جسے مسترد کر دیا گیا۔ صدر مملکت کے خطاب کے دوران اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر نعرے لگاتے رہے اور بانی پی ٹی آئی کے حق میں آواز بلند کرتے رہے ۔ شور شرابے کے باعث وزیر اعظم سمیت حکومتی اور اتحادی ارکان ہیڈ فون لگا کر تقریر سنتے رہے ۔ تقریر کے اختتام پر صدر مملکت نے وکٹری کا نشان بنایا اور اسپیکر و چیئرمین سینیٹ سے مصافحہ کیا۔مشترکہ اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، مریم اورنگزیب، شرجیل میمن، پیپلز پارٹی کی دیگر قیادت اور غیر ملکی سفرا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مہمان گیلری میں مریم نواز کے پاس حکومتی مرد و خواتین ارکان کا جھرمٹ لگا رہا۔