حقوق زوجیت کیس:عورت کوزبردستی شوہرکیساتھ بھجوایاجاسکتا؟
اگر خاتون عدالتی فیصلہ تسلیم نہ کرے تو کیا اسے گرفتار کیا جائیگا ؟ شریعت بینچ کے سوالات خاتون ضد میں کہے وہ شوہر کے پاس جائیگی نہ خلع لے گی تو کیا ہو گا ؟ جسٹس مندوخیل شریعت اپیلٹ بینچ نے عدالتی اختیار پروفاقی اور صوبائی حکومتوں سے معاونت مانگ لی
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بینچ نے حقوق زوجیت کی ادائیگی سے متعلق عدالتی اختیار کے دائرہ کار پروفاقی اور صوبائی حکومتوں سے تفصیلی معاونت طلب کرلی، جسٹس جمال مندوخیل نے نے سوالات اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیا عدالت کسی خاتون کو زبردستی شوہر کے پاس بھجوا سکتی ہے ؟ انہوں نے استفسار کیا کہ حقوق زوجیت بحالی کے کیس میں عدالت کا اختیار کس حد تک ہے اور اگر خاتون عدالتی فیصلہ تسلیم نہ کرے تو کیا اسے گرفتار کیا جائے گا ؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ نکاح ایک معاہدہ ہے اور جب تک وہ برقرار ہے فریقین اس پر عملدرآمد کے پابند ہوتے ہیں۔ اگر خاتون شوہر کے ساتھ نہ رہنا چاہے تو وہ خلع لے سکتی ہے جبکہ اگر شوہر عدالتی حکم کے باوجود خرچہ ادا نہ کرے تو اسے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
قانون دونوں کیلئے برابر ہے ،جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیئے کہ ضابطہ دیوانی کے تحت عدالتی حکم نہ ماننے کی صورت میں خاتون کی جائیداد ضبط کی جا سکتی ہے اور گرفتاری بھی ممکن ہے تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا جائیداد کی ضبطگی یا گرفتاری شرعی طور پر درست ہو گی یا نہیں ۔ جسٹس عرفان سعادت خان نے سوال اٹھایا کہ عدالت کسی خاتون کو حقوقِ زوجیت کی ادائیگی پر مجبور کیسے کر سکتی ہے اور کیا اسے شوہر کے ساتھ رہنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے ؟ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ اگر خاتون ضد میں یہ کہے کہ نہ وہ شوہر کے پاس جائے گی اور نہ ہی خلع لے گی تو ایسی صورت میں کیا ہو گا ؟ دوسری طرف شوہر بھی ضد کر سکتا ہے کہ نہ وہ بیوی کو ساتھ رکھے گا اور نہ طلاق دے گا، جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے ۔ عدالت نے اس اہم آئینی و شرعی نوعیت کے سوالات پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے تفصیلی معاونت طلب کرتے ہوئے سماعت اپریل کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی ۔