اظہار رائے کی آزادی ،ریڈ لائن کراس ہونے پر قانون حرکت میں آئیگا:وفاقی وزرا
خارجہ پالیسی پربحث سے اجتناب ،اسلام، سلامتی اور قومی سکیورٹی جیسے معاملات پر احتیاط ضروری:اعظم نذیر تارڑ عرب ممالک اور ایران پاکستان کیلئے اہم،خارجہ پالیسی کو مقامی سیاست کی نذر نہ کریں:عطاء تارڑ ،پریس کانفرنس
اسلام آباد (دنیا نیوز،اے پی پی ،این این آئی) وفاقی وزرا ئنے خارجہ پالیسی کے بارے میں سوشل میڈیا پر غیر ضروری تبصروں کو نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے لئے پاکستان کا مفاد مقدم ہے ، خطے کے ممالک کے ساتھ ہمارے قریبی اور دوستانہ تعلقات ہیں، خارجہ پالیسی کو مقامی معاملات کے طور پر نہ لیا جائے ، عوام اور میڈیا کو بین الاقوامی معاملات خصوصا ًخارجہ پالیسی پر اظہارِ رائے دیتے وقت آئین اور قومی مفاد کو مدنظر رکھنا چاہیے ،ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ،وزیراطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت اور دفاعی سٹیٹ ہے ، خطے میں پاکستان کا کلیدی کردار ہے ، پاکستان کی خارجہ پالیسی سے متعلق بحث سے اجتناب کیا جائے ، پاکستان کے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات پر غیر ذمہ دارانہ تبصرے مناسب نہیں اور اگر کوئی ریڈ لائن کراس کرے گا تو کارروائی کی جائے گی،انہوں نے کہا کہ خطے میں صورتحال کشیدہ ہے ، پاکستان کا اپنے دفاع اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے واضح مؤقف ہے ، موجودہ صورتحال کے باعث پوری دنیا گہری تشویش میں مبتلا ہے ۔
وزیراعظم خطے کے ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں، خطے کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم نے دورہ روس ملتوی کیا ہے ۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے ،تاہم اس آزادی پر قانون کے تحت کچھ پابندیاں بھی ہیں،اسلام، سلامتی اور قومی سکیورٹی جیسے معاملات پر احتیاط ضروری ہے ، ریڈ لائن کراس ہوگی تو قانون حرکت میں آئے گا۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ نے کہا کہ زیادہ ویوز لینے کے چکر میں بھیڑ چال چلی جا رہی ہے ، مسلم ممالک سمجھتے ہیں شاید یہ ریاست کی پالیسی ہے ، خارجہ پالیسی کو مقامی سیاست کی نذر نہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک کے ساتھ پاکستان کے قریبی اور دوستانہ تعلقات ہیں جبکہ خارجہ پالیسی سے متعلق سوشل میڈیا پر غیر ضروری تبصرے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔عطاء تارڑ نے کہا کہ میرا حلف اور آئین مجھے دفتر خارجہ کے مؤقف کے مطابق بات کرنے کا پابند بناتا ہے جبکہ ذاتی پسند، ناپسند یا سیاسی ایجنڈے کی بنیاد پر تبصرہ مناسب نہیں، سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر تبصرے میں احتیاط ضروری ہے ، تاہم مقامی سیاست پر تنقید کی گنجائش موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک اور ایران پاکستان کیلئے اہمیت رکھتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ سنسنی پیدا کر کے ویوز حاصل کرنا خطرناک رجحان ہے ۔