سعودی عرب کی ہر وقت اور ہرحال میں مدد کرینگے:پاکستان
ہم نہیں چاہتے ہمارے دوست آپس میں جھگڑیں، دونوں ملکوں کی قیادت سے رابطے میں ہیں ، اسی لئے ایران نے خلیجی ممالک کیساتھ مصالحتی کوششیں کیں:ترجمان شہباز شریف آبنائے ہرمز کے راستے جہازوں کیلئے سکیورٹی گشت فراہم کرنیکا امکان رد، پاکستان اپنی سرحدوں کا ذمہ دار،سب سے اہم پاکستانیوں کو ایندھن کی خطرناک کمی سے بچانا:مشرف زیدی
اسلام آباد (مانیٹرنگ سیل )وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان ہر حال میں اور ہر وقت سعودی عرب کی حمایت کے لیے تیار ہے ۔مشرف زیدی نے بدھ کو امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد ضرورت پڑنے پر ریاض کی مدد کے لیے آئے گا۔ انہوں نے کہا:یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ پاکستان سعودی عرب کی مدد کو آئے گا یا نہیں۔ دونوں ممالک، حتیٰ کہ سٹرٹیجک باہمی دفاعی معاہدے سے پہلے بھی، اس اصول پر عمل کرتے رہے ہیں کہ ایک دوسرے کی ضرورت پڑنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔ اس لیے یہ سوال نہیں کہ شاید ہم مدد کریں گے ؛ ہم ضرور کریں گے ۔ چاہے کچھ بھی ہو، جب بھی ہو۔انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کیا کر رہا ہے تاکہ صورتحال اس حد تک بڑھنے نہ پائے کہ اس کے قریبی شراکت دار مزید کسی تنازع میں الجھ جائیں، جو نہ صرف خطے میں استحکام اور خوشحالی کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ خاص طور پر پاکستانی عوام کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے ۔
انہوں نے یاد دلایا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر حال ہی میں سعودی عرب گئے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان ، سعودی اور ایرانی قیادت دونوں کے ساتھ رابطے میں ہے ۔انہوں نے مزید کہا:ہمارے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے امریکی قیادت کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔انہوں نے کہا کہ:گزشتہ چھ سے سات دنوں میں متعدد بار بات چیت ہوئی اور ایک چیز جو پاکستان کی نظر میں قابل تعریف ہے وہ یہ ہے کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں نے خود کو تنازع میں گھسیٹنے کیخلاف مزاحمت کی ہے ۔انہوں نے اسی حوالے سے کہا کہ امر یکا یا دیگر جگہوں کے کچھ لوگوں کی طرف سے ہر قسم کی اپیلیں آئیں کہ خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کو براہِ راست مداخلت کرنی چاہیے ، تاہم انہوں نے کہا کہ اب تک ان ممالک نے ایسا کرنے سے گریز کیا ہے ۔انہوں نے اس پر زور دیا:یہی وہ بات ہے جو پاکستان دیکھنا چاہتا ہے ۔جب پوچھا گیا کہ پاکستان سعودی عرب کو فوجی امداد فراہم کرنے کے قریب کتنا ہے ، تو زیدی نے کہا کہ اس پر تبصرہ کرنا قیاس آرائی اور غیر ذمہ دارانہ ہوگا۔انٹرویو کے دوران مشرف زیدی سے پاکستان کے ایران کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔
اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان مقامی دوست اور قریبی اتحادی کے طور پر اپنی ذمہ داری سے بخوبی آگاہ ہے ۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اسحاق ڈار اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے درمیان کئی بار بات چیت ہوئی ۔زیدی نے کہا:یہ بات چیت اور دیگر اقدامات ہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر آپ نے دیکھا کہ ایران نے خلیجی ممالک کے ساتھ مصالحتی کوششیں کی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان خطے کے تمام ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے ۔زیدی نے کہا:ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے دوست آپس میں جھگڑیں اور ہم یقیناً یہ بھی نہیں چاہتے کہ معصوم لوگ بلاوجہ ہلاک ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر تنازع کا حل ہمیشہ ممکن ہے ، بشرطیکہ بات چیت کا راستہ اپنایا جائے ۔ہمیں نہیں لگتا کہ کبھی بھی، خاص طور پر اس تناظر میں، ایسا وقت آئے جب ایران کو خلیجی ممالک پر حملہ کرنا چاہیے ، اور نہ ہی یہ کہ ایران کے عوام کو اس ظالمانہ بمباری کا سامنا کرنا پڑے جو وہ فی الحال برداشت کر رہے ہیں۔زیدی نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے لیے سب سے اہم کام یہ ہے کہ چاہے اس کی قیمت کچھ بھی ہو… پاکستانی صارف کو ایندھن کی کسی بھی قسم کی تباہ کن یا خطرناک کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔
انہوں نے کہا:ہم نے طویل المدتی بحران کے خطرے کو کم کرنے کے لیے سب سے مشکل فیصلے کیے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ان ممالک میں سے ایک تھا جس نے ایندھن کی قیمتیں اس توقع کے ساتھ بڑھائیں کہ آنے والے حالات کیا ہوں گے ۔انہوں نے واضح کیا کہ متبادل سپلائی چین کے ذریعے ایندھن پاکستان پہنچنے میں 18، 19 یا 20 دن لگ سکتے ہیں جبکہ معمول کے حالات میں یہ صرف پانچ سے چھ دن میں پہنچ جاتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا:یہ واقعی ایک بڑا فرق پیدا کر دیتا ہے ۔ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا پاکستان ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کے راستے جہازوں کے لیے سکیورٹی گشت فراہم کر سکتا ہے ، جو ایک اہم خلیجی پانی کا راستہ ہے اور جس کے ذریعے عالمی سطح پر ایک پانچواں حصہ خام تیل گزرتا ہے ، لیکن جنگ شروع ہونے کے بعد یہ راستہ تقریباً بند ہو گیا ہے ۔مشرف زیدی نے اس خیال کو رد کرتے ہوئے کہا:سب سے پہلے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے لیے ذمہ دار ہے اور ان میں ہمار ی سمندری حدود بھی شامل ہیں۔
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) ایران نے واضح کیا ہے کہ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ کسی تنازع میں پڑنے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے ، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی ابتر صورتحال اور ایران پر ہونے والے حملوں کے تناظر میں اہم مشاورت کی گئی۔ایرانی صدر نے کہا ایران کا خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ کسی تنازع میں پڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی تو عالمی نظام اور سکیورٹی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ بین الاقوامی ادارے اسرائیل اور امریکا سے ان کی جارحیت پر جواب طلب کریں۔ایرانی صدر نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا روس اور پاکستان کے رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے میں نے خطے میں امن کیلئے ایران کے عزم کو دہرایا ہے ،صیہونی انتظامیہ اور امریکا کی طرف سے چھیڑی گئی اس جنگ کو ختم کرنے کا واحد راستہ ایران کے جائز حقوق کو تسلیم کرنا، معاوضے کی ادائیگی اور مستقبل میں حملوں کے خلاف مضبوط عالمی ضمانتیں فراہم کرنا ہے ۔