ہم پنشنرز کی بچت، ملازمین کی جمع پونجی کے امین، مرادشاہ

ہم پنشنرز کی بچت، ملازمین کی جمع پونجی کے امین، مرادشاہ

گورننس اور رسک کنٹرولز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے ، وزیراعلیٰ سندھ فنڈ مینجمنٹ ہاؤس بورڈکا پہلا اجلاس، مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر قائم

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ فنڈ مینجمنٹ ہاؤس (ایس ایف ایم ایچ) بورڈ کا پہلا تاریخی اجلاس منعقد ہوا، جس کے ذریعے اسے سرکاری طور پر صوبے کے نامزد سرکاری فنڈز کے انتظام کے مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر قائم کر دیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ ہاؤس اس بات کو یقینی بنائے گا کہ عوامی پیسے کا ہر روپیہ شفافیت اور پیشہ ورانہ انداز میں اور سندھ کے عوام کے طویل مدتی مفاد کے لیے لگایا جائے ۔ اجلاس کے دوران بورڈ نے سندھ فنڈ مینجمنٹ ہاؤس ایکٹ 2021 کا جائزہ لیا، جو قانونی طور پر ایس ایف ایم ایچ کو نامزد سرکاری فنڈز کے لیے بنیادی ادارہ جاتی پلیٹ فارم کے طور پر اختیارات فراہم کرتا ہے ۔ مراد شاہ نے ہدایت کی کہ گورننس اور رسک کنٹرولز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پنشنرز کی بچت، سماجی امدادی فنڈز اور سرکاری ملازمین کی جمع پونجی کے امین ہیں،میں ان فنڈز کے ساتھ قیاس آرائی یا غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کی اجازت نہیں دوں گا۔ انہوں نے بورڈ کو ہدایت کی کہ سکیورٹی، شفافیت اور طویل مدتی منافع کو ترجیح دی جائے ۔

اجلاس کا ایک اہم نتیجہ مسودہ ایس ایف ایم ایچ انویسٹمنٹ پالیسی 2026 کی اصولی منظوری تھا، جو 2021 کی ہدایات کی جگہ لے گی اور ’’قابل اجازت‘‘اور ’’ممنوعہ‘‘سرمایہ کاری کی واضح تعریفوں کے ساتھ مزید مضبوط حفاظتی اقدامات متعارف کرائے گی۔ انویسٹمنٹ پالیسی 2026 کے تحت عوامی سرمایہ کے تحفظ کے لیے مخصوص حدود مقرر کی گئی ہیں، جن میں ایکویٹیز کل فنڈ کے حجم کے 15 فیصد تک محدود ہوں گی جبکہ کسی ایک اسکرپ میں سرمایہ کاری 3 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی۔ میوچل فنڈز صرف ان اسکیموں تک محدود ہوں گے جن کی کم از کم ریٹنگ ’’اے ایم ٹو پلس پلس‘‘ہو اور فنڈ کا حجم کم از کم پانچ ارب روپے ہو۔بورڈ نے انویسٹمنٹ کمیٹی کو بعض اہم آپریشنل اختیارات بھی تفویض کرنے کا فیصلہ کیا جن میں حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے منصوبوں کے لیے متعین حدود کے اندر بینک گارنٹیز اور اسٹینڈ بائی لیٹرز آف کریڈٹ جاری کرنے کا اختیار شامل ہے ۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ کمیٹی باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرے اور تمام فیصلوں کو دستاویزی شکل دے ۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے ڈیٹا کی بنیاد پر ہونے چاہئیں اور ہر سرمایہ کاری کا فیصلہ قابل سراغ اور قابل آڈٹ ہونا چاہیے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فنڈ مینجمنٹ کے پیشہ ورانہ طریقہ کار عالمی بہترین معیارات کے مطابق ہونے چاہئیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں