حملوں سے نقصان ہوا مگرایران کو ہرانا مشکل : منیر اکرم
ٹرمپ پرجنگ روکنے کا دبائو ،ایران میں فوج اتاری تو اس کیلئے مشکل ہوجائیگی پاکستان کی ثالثی بڑی بات ہے ،جمیل احمد، ’’دنیا مہر بخاری کے ساتھ‘‘ میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا کہ ایران جنگ سے امریکی معیشت کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے ،امریکا میں اپوزیشن بڑھتی جارہی ہے ،ٹرمپ پرجنگ روکنے کا اندرونی دبائو بھی ہے ،دوسری طرف اسرائیل کے ہارڈ لائنر چاہتے ہیں کہ جنگ جاری رکھی جائے ،پروگرام ’’دنیا مہر بخاری کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں امریکا نے ایران میں فوج اتاری تو ان کیلئے مشکل ہوجائے گی،ہماری کوشش یہی ہونی چاہیے کہ صورتحال مزید نہ بگڑے ،جلد از جلد جنگ رک جائے مزید نہ پھیلے ،پہلے عمان ایران ،امریکا کے درمیان مذاکرات کروا رہا تھا تو درمیان میں امریکا نے ایران پر حملہ کردیا، اب ہم ثالثی کررہے ہیں تو ہمیں بڑی طاقتوں کو اپنے ساتھ رکھنا ہے ، کیونکہ ٹرمپ اور اسرائیل کو یہ نظر آنا چاہیے کہ انہوں نے پھر ایسی حرکت کی تو اس کا اثر بڑی طاقتیں جو ان کے دوست ہیں ان پر ہوسکتا ہے ،ایران میں عسکری قوت موجود ہے ،رجیم چینج ہو سکا نہ ہی امریکا نے ان کی لڑنے کی صلاحیت کو ختم کیا ہے ،حملوں سے ایران کا نقصان بہت ہوا ہے ،مگرایران کو ہرانا مشکل ہے کیونکہ ایران بڑا ملک ہے ،ان کی بڑی عوام اور فوج ہے ،یہ ابھی تک ڈٹے ہوئے ہیں۔سابق سفیر ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا ہے کہ ایران جنگ سے معیشت کے لحاظ سے دنیا میں نفسا نفسی پھیلی ہوئی ہے ،عرب ممالک پر بھی حملے ہورہے ہیں، تمام چیزوں کو دیکھیں تو پتا چلتا ہے دونوں طرف سے حدت اور شدت بڑھتی جارہی ہے ،ایسی حالت میں پاکستان کا ثالثی کرنا بڑی بات ہے ۔