دادو : تہرے قتل کا کیس، پیپلزپارٹی کے 2 ایم پی ایز سمیت 8 ملزم بری
ہائی پروفائل کیس میں سردار احمد اور برہان چانڈیو سمیت کسی پر جرم ثابت نہ ہوسکا،عدالت نے 1ماہ قبل محفوظ فیصلہ سنا دیا سڑکیں سیل،33تھانیدارتعینات تھے ،حامیوں کاجشن،ہوائی فائرنگ،3گواہ،میڈیکل شواہد موجود،ہائیکورٹ جائینگے ،وکیل
دادو،کراچی (خبر ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) دادو میں ام رباب چانڈیو کے دادا، والد اور چچا کے قتل کے ہائی پروفائل کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا۔ ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ نے پیپلز پارٹی کے دو ایم پی ایز سمیت تمام 8نامزد ملزموں کو بری کر دیا۔عدالت کے مطابق سردار احمد خان چانڈیو اور برہان خان چانڈیو سمیت کسی بھی ملزم پر جرم ثابت نہیں ہو سکا، اس لیے تمام ملزموں کو باعزت بری کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا گیا۔یہ مقدمہ میہڑ کے تہرے قتل کیس سے متعلق تھا جو تقریباً 8 سال 3 ماہ تک زیر سماعت رہا۔ کیس کے دوران مجموعی طور پر 392 پیشیاں ہوئیں۔ فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج/ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ دادو کے جج حسین کلوڑ نے ایک ماہ قبل فیصلہ محفوظ کیا تھا۔فیصلہ سنانے سے قبل سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے۔
دادو پولیس کی جانب سے 6 ڈی ایس پیز، 33 تھانوں کے ایس ایچ اوز سمیت 700 پولیس اہلکار عدالت کے اندر اور مرکزی سڑکوں پر سکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ عدالت کے اندر غیر متعلقہ افراد اور میڈیا کے داخلے پر مکمل پابندی عائد تھی۔ مدعی پرویز چانڈیو اور کیس کی پیروی کرنے والی ام رباب چانڈیو کو عدالت تک پہنچانے کیلئے بھی سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ۔عدالت کے اطراف دو کلومیٹر تک ناکہ بندی کر کے سڑکیں سیل اور ضلع دادو میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی۔ام رباب کے وکیل صلاح الدین پنہور نے کہا کہ سرداری نظام کے خلاف 3 لوگوں ام رباب کے دادا کرم اللہ چانڈیو، والد مختیار چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو کا دن دیہاڑے قتل ہوا، کیس میں 3 گواہ اور میڈیکل شواہد موجود تھے ، اتنے شواہد پر ہماری نظر میں سزا ہوسکتی تھی، کیس کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے۔
ہیومن رائٹس کونسل پاکستان نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ متاثرہ خاندان کے لیے نہایت تکلیف دہ اور ہمارے نظام انصاف پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے ، ٹرپل مرڈر کیس میں ملزموں کی بریت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تفتیش اور پراسیکیوشن کے نظام میں واضح کمزوریاں موجود ہیں۔کونسل کے مطابق تفتیشی اداروں اور عدالتی عمل کی سنجیدہ جانچ کی اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔دوسری جانب ملزموں کی بریت کے فیصلے پر سردار بھائیوں کی جانب سے گاڑیوں کے قافلے کی صورت میں جشن منایا گیا۔ فیصلے کے بعد چانڈیو سردار روانہ ہوئے تو ان کے حامیوں کی بڑی تعداد ہمراہ تھی، قافلے کی گاڑیوں پر پھول نچھاور اور رقص کیا گیا، دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود ان کے ہمراہ بڑی تعداد میں مسلح افراد موجود تھے ، کچھ نے ہوائی فائرنگ بھی کہ مگر پولیس نے انہیں نہیں روکا۔ سردار بھائی گاڑیوں کے قافلے میں مسلح گارڈز کے ساتھ ڈھول بجاتے اور جشن مناتے روانہ ہوئے ۔