سلامتی کونسل:آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی قرارداد چین اور روس نے ویٹو کردی:پاکستان نے رائے شماری میں حصہ نہ لیا

سلامتی کونسل:آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی قرارداد چین اور روس نے  ویٹو کردی:پاکستان نے رائے شماری میں  حصہ نہ لیا

خلیجی ممالک کی قرارداد کے حق میں 11 ووٹ،آبنائے ہرمز کا بطور ہتھیار استعمال روکنے میں سلامتی کونسل کی ناکامی کے سنگین نتائج،دنیا جنگل میں تبدیل ہو جائیگی:بحرین مسئلہ جنگ سے نہیں بلکہ مذاکرات سے حل ہوگا، پاکستان قرارداد کا حامی، تمام ممالک کی خود مختاری اور سلامتی کا احترام چاہتاہے ، سفارتکاری کو مزید موقع دیں:عاصم افتخار

نیو یارک(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس اور چین نے خلیجی ممالک کی جانب سے پیش کی گئی آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی قرار داد ویٹو کردی، قرارداد میں آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کیلئے دفاعی اور مربوط کوششوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی گئی تھی۔گیارہ ممالک نے اس کے حق میں ووٹ دیا جبکہ کونسل کے دو ارکان (پاکستان اور کولمبیا) نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا، فرانس، چین اور روس کی جانب سے قرارداد کے مسودے کی مخالفت کی گئی،سلامتی کونسل کے 10 دیگر غیر مستقل اراکین میں بھی قرارداد کے مسودے پر اختلافات پائے گئے ۔چند ہفتوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد یہ قرارداد ابتدا میں چیپٹر سیون کے تحت تھی (جس میں فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت شامل تھی)، پھر بعد میں اسے حذف کر کے لکھا گیا کہ ‘ریاستوں کو تمام ضروری دفاعی ذرائع استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی ہے اور آخرکار اسے محض دفاعی کوششوں کی پُرزور حوصلہ افزائی تک ہی محدود کر دیا گیا۔بحرین کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے اس اجلاس کی صدارت کی۔

ووٹنگ سے قبل خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کونسل کے ارکان کو بتایا کہ اس قرارداد کے ذریعے کوئی نئی حقیقت نہیں بنائی جا رہی، بلکہ یہ ایران کے بار بار دہرائے جانے والے جارحانہ رویے کے سلسلے کے جواب میں ایک سنجیدہ اقدام ہے ، جس کا خاتمہ ہونا ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے بطور ہتھیار استعمال کو روکنے میں سلامتی کونسل کی ناکامی کے دنیا کیلئے سنگین نتائج ہوں گے اور اس طرزِ عمل کو دیگر آبی گزرگاہوں میں بھی دہرایا جا سکتا ہے ، جس سے دنیا ایک جنگل میں تبدیل ہو جائے گی۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا ہے کہ امریکا اور ایران کا مسئلہ جنگ سے نہیں بلکہ مذاکرات سے حل ہوگا۔جنگ رکوانے کیلئے مذاکرات کا راستہ ناگزیر ہو چکا ہے اور پاکستان خطے میں تمام ممالک کی خود مختاری اور سلامتی کا احترام چاہتا ہے ۔آبنائے ہرمز کو کھلوانے کیلئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے جبکہ پاکستان بحرین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کی حمایت کرتا ہے ۔پاکستان چاہتا ہے کہ مذاکرات اور سفارت کاری کو مزید موقع دیا جائے تاکہ خطے میں امن و استحکام یقینی بنایا جا سکے ۔ پاکستان کی امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے ۔خطے میں قیام امن کیلئے تمام ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں